Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. یاد آؤ مجھے للہ نہ تم یاد کرواپنی اور میری جوانی کو نہ برباد کروAkhtar Shirani (1905–1948)
  2. یارو کوئے یار کی باتیں کریںپھر گل و گلزار کی باتیں کریںAkhtar Shirani (1905–1948)
  3. یقین وعدہ نہیں تاب انتظار نہیںکسی طرح بھی دل زار کو قرار نہیںAkhtar Shirani (1905–1948)
  4. یوں تو کس پھول سے رنگت نہ گئی بو نہ گئیاے محبت مرے پہلو سے مگر تو نہ گئیAkhtar Shirani (1905–1948)
  5. رندوں کو بہشت کی خبر دے ساقیاک جام پلا کے مست کر دے ساقیAkhtar Shirani (1905–1948)
  6. عید آئی ہے عیش و نوش کا ساماں کراک ساقیٔ گلعذار کو مہماں کرAkhtar Shirani (1905–1948)
  7. جنت کا سماں دکھا دیا ہے مجھ کوکونین کا غم بھلا دیا ہے مجھ کوAkhtar Shirani (1905–1948)
  8. مے خانہ بہ دوش ہیں گھٹائیں ساقیپیمانہ فروش ہیں فضائیں ساقیAkhtar Shirani (1905–1948)
  9. گجرات کی راتAkhtar Shirani (1905–1948)
  10. جھولاAkhtar Shirani (1905–1948)
  11. او دیس سے آنے والا ہے بتااو دیس سے آنے والے بتاAkhtar Shirani (1905–1948)
  12. بی مینڈکیAkhtar Shirani (1905–1948)
  13. بجھا سا رہتا ہے دل جب سے ہیں وطن سے جداوہ صحن باغ نہیں سیر ماہتاب نہیںAkhtar Shirani (1905–1948)
  14. ننھا قاصدAkhtar Shirani (1905–1948)
  15. ایک شاعرہ کی شادی پرAkhtar Shirani (1905–1948)
  16. کشمیرAkhtar Shirani (1905–1948)
  17. ایک لڑکی کا گیتAkhtar Shirani (1905–1948)
  18. جھوم کر بدلی اٹھی اور چھا گئیساری دنیا پر جوانی آ گئیAkhtar Shirani (1905–1948)
  19. چڑیوں کی شکایتAkhtar Shirani (1905–1948)
  20. انگوٹھیAkhtar Shirani (1905–1948)
  21. لکھنؤ (اختر شیرانی)Akhtar Shirani (1905–1948)
  22. وقت کی قدرAkhtar Shirani (1905–1948)
  23. سورج کی کرنوں کا گیتAkhtar Shirani (1905–1948)
  24. سولن کی چوٹیوں سےجھنڈی ہلا رہی ہےAkhtar Shirani (1905–1948)
  25. فریادئی جفائے ایام ہو رہا ہوںپامال جور بخت ناکام ہو رہا ہوںAkhtar Shirani (1905–1948)
  26. جگنوAkhtar Shirani (1905–1948)
  27. دریا کنارے چاندنیAkhtar Shirani (1905–1948)
  28. شملہAkhtar Shirani (1905–1948)
  29. ایک حسن فروش سےAkhtar Shirani (1905–1948)
  30. کہانی کا سماںAkhtar Shirani (1905–1948)
  31. مجھے لے چلAkhtar Shirani (1905–1948)
  32. مری شام غم کو وہ بہلا رہے ہیںلکھا ہے یہ خط میں کہ ہم آ رہے ہیںAkhtar Shirani (1905–1948)
  33. ساون کی گھٹاAkhtar Shirani (1905–1948)
  34. آنسوAkhtar Shirani (1905–1948)
  35. وہ کبھی مل جائیں تو کیا کیجئےرات دن صورت کو دیکھا کیجئےAkhtar Shirani (1905–1948)
  36. بنارسAkhtar Shirani (1905–1948)
  37. ہماری زبانAkhtar Shirani (1905–1948)
  38. یہ دنیا کتنی پیاری ہےہر اک بات اس کی نیاری ہےAkhtar Shirani (1905–1948)
  39. یہ ساری خدائی ہمارے لیے ہےنہیں ہے پرائی ہمارے لیے ہےAkhtar Shirani (1905–1948)
  40. جہاں ریحانہؔ رہتی تھیAkhtar Shirani (1905–1948)
  41. برکھا رت (اختر شیرانی)Akhtar Shirani (1905–1948)
  42. اے عشق کہیں لے چل اس پاپ کی بستی سےنفرت گہہ عالم سے لعنت گہہ ہستی سےAkhtar Shirani (1905–1948)
  43. اے عشق نہ چھیڑ آ آ کے ہمیں ہم بھولے ہوؤں کو یاد نہ کرپہلے ہی بہت ناشاد ہیں ہم تو اور ہمیں ناشاد نہ کرAkhtar Shirani (1905–1948)