محشر امید پہلے دل میں پیدا کیجئے

Zabih Allahabadi (1918–1987)

محشر امید پہلے دل میں پیدا کیجئے

اس کا جلوہ دیکھنے کی پھر تمنا کیجئے

اک نیا عالم بقدر شوق پیدا کیجئے

ہر نظر کو حسن کی محو تماشا کیجئے

بڑھتے بڑھتے ہو گئی وحشت محیط کائنات

لطف تو جب ہے کہ ہر ذرے کو صحرا کیجئے

چاہتا ہے وسعتیں ان کا فریب التفات

دل کے ہر گوشے میں پیدا ایک دنیا کیجئے

یوں نیاز عشق میں ہو جائے تکمیل وفا

آستان ناز کے ذروں کو سجدہ کیجئے

جلوۂ گل میں دکھاتے ہیں تجلی حسن کی

دیکھنے والوں سے کہتے ہیں کہ دیکھا کیجئے

جھوم کر میخانے پہ چھائی گھٹا ہے اے ذبیحؔ

توڑ کر اب توبہ شغل جام و مینا کیجئے