بڑھا بڑھا کے جفائیں جھکا ہی دو گے کمر

Qamar Jalalvi (1887–1968)

بڑھا بڑھا کے جفائیں جھکا ہی دو گے کمر

گھٹا گھٹا کے قمرؔ کو ہلال کر دو گے