Poetry
Muzari' Musamman Akhrab Makfuf Mahzuf
مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف- یا رب کہیں سے گرمئ بازار بھیج دےدل بیچتا ہوں کوئی خریدار بھیج دےMirza Rafi Sauda (1713–1781)
- بدلا ترے ستم کا کوئی تجھ سے کیا کرےاپنا ہی تو فریفتہ ہووے خدا کرےMirza Rafi Sauda (1713–1781)
- ساقی گئی بہار رہی دل میں یہ ہوستو منتوں سے جام دے اور میں کہوں کہ بسMirza Rafi Sauda (1713–1781)
- سمجھے تھے ہم جو دوست تجھے اے میاں غلطتیرا نہیں ہے جرم ہمارا گماں غلطMirza Rafi Sauda (1713–1781)
- سوداؔ جو بے خبر ہے وہی یاں کرے ہے عیشمشکل بہت ہے ان کو جو رکھتے ہیں آگہیMirza Rafi Sauda (1713–1781)
- سوداؔ خدا کے واسطے کر قصہ مختصراپنی تو نیند اڑ گئی تیرے فسانے میںMirza Rafi Sauda (1713–1781)
- کہیو صبا سلام ہمارا بہار سےہم تو چمن کو چھوڑ کے سوئے قفس چلےMirza Rafi Sauda (1713–1781)
- گر ہو شراب و خلوت و محبوب خوب روزاہد قسم ہے تجھ کو جو تو ہو تو کیا کرےMirza Rafi Sauda (1713–1781)
- ہے مدتوں سے خانۂ زنجیر بے صدامعلوم ہی نہیں کہ دوانے کدھر گئےMirza Rafi Sauda (1713–1781)
- یارو وہ شرم سے جو نہ بولا تو کیا ہواآنکھوں میں سو طرح کی حکایات ہو گئیMirza Rafi Sauda (1713–1781)
- آئی بہار شورش طفلاں کو کیا ہوااہل جنوں کدھر گئے یاراں کو کیا ہواTaban Abdul Hai (1715–1749)
- ان ظالموں کو جور سوا کام ہی نہیںگویا کہ ان کے ظلم کا انجام ہی نہیںTaban Abdul Hai (1715–1749)
- ایسا کہاں حباب کوئی چشم تر کہ ہملب خشک یہ محیط ہے کب اس قدر کہ ہمTaban Abdul Hai (1715–1749)
- خوباں جو پہنتے ہیں نپٹ تنگ چولیاںان کی سجوں کو دیکھ مریں کیوں نہ لولیاںTaban Abdul Hai (1715–1749)
- دلبر سے درد دل نہ کہوں ہائے کب تلکخاموش اس کے غم میں رہوں ہائے کب تلکTaban Abdul Hai (1715–1749)
- رویا نہ ہوں جہاں میں گریباں کو اپنے پھاڑایسا نہ کوئی دشت ہے ظالم نہ کوئی اجاڑTaban Abdul Hai (1715–1749)
- لڑکا جو خوبرو ہے سو مجھ سے بچا نہیںوہ کون ہے کہ جس سے میں یارو ملا نہیںTaban Abdul Hai (1715–1749)
- مرنے کی مجھ کو آپ سے ہیں اضطرابیاںکرتا ہے میرے قتل کو تو کیوں شتابیاںTaban Abdul Hai (1715–1749)
- زاہد ترا تو دین سراسر فریب ہےرشتے سے تیرے سبحہ کے زنار ہی بھلاTaban Abdul Hai (1715–1749)
- کس کس طرح کی دل میں گزرتی ہیں حسرتیںہے وصل سے زیادہ مزا انتظار کاTaban Abdul Hai (1715–1749)
- محفل کے بیچ سن کے مرے سوز دل کا حالبے اختیار شمع کے آنسو ڈھلک پڑےTaban Abdul Hai (1715–1749)
- ارض و سما کہاں تری وسعت کو پا سکےمیرا ہی دل ہے وہ کہ جہاں تو سما سکےKhwaja Mir Dard (1721–1785)
- ان نے کیا تھا یاد مجھے بھول کر کہیںپاتا نہیں ہوں تب سے میں اپنی خبر کہیںKhwaja Mir Dard (1721–1785)
- ہم تجھ سے کس ہوس کی فلک جستجو کریںدل ہی نہیں رہا ہے کہ کچھ آرزو کریںKhwaja Mir Dard (1721–1785)
- آگے کچھ اس کے ذکر دل زار مت کروسب خیریت ہے اس سے کچھ اظہار مت کروQaem Chandpuri (1722–1793)
- آوے خزاں چمن کی طرف گر میں رو کروںغنچہ کرے گلوں کو صبا گر میں بو کروںQaem Chandpuri (1722–1793)
- اٹھ جائے گر یہ بیچ سے پردہ حجاب کادریا ہی پھر تو نام ہے ہر اک حباب کاQaem Chandpuri (1722–1793)
- اس کو نہ رات کہہ تو نہ اس کو بتا غلطکیا جانے کیا سہی ہے واقع میں کیا غلطQaem Chandpuri (1722–1793)
- پھوٹی بھلی وہ آنکھ جو آنسو سے تر نہیںکس کام ہے وہ سیپ کہ جس میں گہر نہیںQaem Chandpuri (1722–1793)
- تیری زباں سے خستہ کوئی زار ہے کوئیپیارے یہ نحو و صرف یہ گفتار ہے کوئیQaem Chandpuri (1722–1793)
- دل پا کے اس کی زلف میں آرام رہ گیادرویش جس جگہ کہ ہوئی شام رہ گیاQaem Chandpuri (1722–1793)
- دن رات کس کی یاد تھی کیسا ملال تھاصدقے میں کچھ تو بول تو کیا تجھ پہ حال تھاQaem Chandpuri (1722–1793)
- دیکھا ہے آج راہ میں ہم اک حریر پوشپر یار کچھ نہ پوچھ کہ کیا چھب چہ بر چہ دوشQaem Chandpuri (1722–1793)
- صحرا پہ گر جنوں مجھے لاوے عتاب میںکھینچوں ہر ایک خار کو پائے حساب میںQaem Chandpuri (1722–1793)
- کر امتحاں ٹک ہو کے تو خونخوار یک طرفمیں آج یک طرف ہوں ترے یار یک طرفQaem Chandpuri (1722–1793)
- گہ پیر شیخ گاہ مرید مغاں رہےاب تک تو آبرو سے نبھی ہے جہاں رہےQaem Chandpuri (1722–1793)
- لائق وفا کے خلق و سزائے جفا ہوں میںجتنے ہیں یاں سو نیک ہیں جو کچھ برا ہوں میںQaem Chandpuri (1722–1793)
- معلوم کچھ ہوا ہی نہ دل کا اثر کہیںایسا گیا کہ پھیر نہ پائی خبر کہیںQaem Chandpuri (1722–1793)
- واشد کی دل کے اور کوئی راہ ہی نہیںجز یہ کہ آہ کیجئے سو آہ ہی نہیںQaem Chandpuri (1722–1793)
- ہر چند دکھ دہی سے زمانے کو عشق ہےلیکن مرے بھی تاب کے لانے کو عشق ہےQaem Chandpuri (1722–1793)
- ہم ہیں جنہوں نے نام چمن بو نہیں کیاآئی صبا جدھر سے ادھر رو نہیں کیاQaem Chandpuri (1722–1793)
- آ جائیں ہم نظر جو کوئی دم بہت ہے یاںمہلت ہمیں بسان شرر کم بہت ہے یاںMir Taqi Mir (1723–1810)
- آگے جمال یار کے معذور ہو گیاگل اک چمن میں دیدۂ بے نور ہو گیاMir Taqi Mir (1723–1810)
- آگے ہمارے عہد سے وحشت کو جا نہ تھیبیگانہ سا لگے ہے چمن اب خزاں میں ہائےMir Taqi Mir (1723–1810)
- آوے گی میری قبر سے آواز میرے بعدابھریں گے عشق دل سے ترے راز میرے بعدMir Taqi Mir (1723–1810)
- آؤ کبھو تو پاس ہمارے بھی ناز سےکرنا سلوک خوب ہے اہل نیاز سےMir Taqi Mir (1723–1810)
- آہ سحر نے سوزش دل کو مٹا دیااس باؤ نے ہمیں تو دیا سا بجھا دیاMir Taqi Mir (1723–1810)
- آئے ہیں میرؔ منہ کو بنائے خفا سے آجشاید بگڑ گئی ہے کچھ اس بے وفا سے آجMir Taqi Mir (1723–1810)
- اب کے بھی سیر باغ کی جی میں ہوس رہیاپنی جگہ بہار میں کنج قفس رہیMir Taqi Mir (1723–1810)
- اس عہد میں الٰہی محبت کو کیا ہواچھوڑا وفا کو ان نے مروت کو کیا ہواMir Taqi Mir (1723–1810)