Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download →

Poetry

Muzari' Musamman Akhrab Makfuf Mahzuf

مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف
Poet
Meter
Clear
  1. یا رب کہیں سے گرمئ بازار بھیج دےدل بیچتا ہوں کوئی خریدار بھیج دےMirza Rafi Sauda (1713–1781)
  2. بدلا ترے ستم کا کوئی تجھ سے کیا کرےاپنا ہی تو فریفتہ ہووے خدا کرےMirza Rafi Sauda (1713–1781)
  3. ساقی گئی بہار رہی دل میں یہ ہوستو منتوں سے جام دے اور میں کہوں کہ بسMirza Rafi Sauda (1713–1781)
  4. سمجھے تھے ہم جو دوست تجھے اے میاں غلطتیرا نہیں ہے جرم ہمارا گماں غلطMirza Rafi Sauda (1713–1781)
  5. سوداؔ جو بے خبر ہے وہی یاں کرے ہے عیشمشکل بہت ہے ان کو جو رکھتے ہیں آگہیMirza Rafi Sauda (1713–1781)
  6. سوداؔ خدا کے واسطے کر قصہ مختصراپنی تو نیند اڑ گئی تیرے فسانے میںMirza Rafi Sauda (1713–1781)
  7. کہیو صبا سلام ہمارا بہار سےہم تو چمن کو چھوڑ کے سوئے قفس چلےMirza Rafi Sauda (1713–1781)
  8. گر ہو شراب و خلوت و محبوب خوب روزاہد قسم ہے تجھ کو جو تو ہو تو کیا کرےMirza Rafi Sauda (1713–1781)
  9. ہے مدتوں سے خانۂ زنجیر بے صدامعلوم ہی نہیں کہ دوانے کدھر گئےMirza Rafi Sauda (1713–1781)
  10. یارو وہ شرم سے جو نہ بولا تو کیا ہواآنکھوں میں سو طرح کی حکایات ہو گئیMirza Rafi Sauda (1713–1781)
  11. آئی بہار شورش طفلاں کو کیا ہوااہل جنوں کدھر گئے یاراں کو کیا ہواTaban Abdul Hai (1715–1749)
  12. ان ظالموں کو جور سوا کام ہی نہیںگویا کہ ان کے ظلم کا انجام ہی نہیںTaban Abdul Hai (1715–1749)
  13. ایسا کہاں حباب کوئی چشم تر کہ ہملب خشک یہ محیط ہے کب اس قدر کہ ہمTaban Abdul Hai (1715–1749)
  14. خوباں جو پہنتے ہیں نپٹ تنگ چولیاںان کی سجوں کو دیکھ مریں کیوں نہ لولیاںTaban Abdul Hai (1715–1749)
  15. دلبر سے درد دل نہ کہوں ہائے کب تلکخاموش اس کے غم میں رہوں ہائے کب تلکTaban Abdul Hai (1715–1749)
  16. رویا نہ ہوں جہاں میں گریباں کو اپنے پھاڑایسا نہ کوئی دشت ہے ظالم نہ کوئی اجاڑTaban Abdul Hai (1715–1749)
  17. لڑکا جو خوبرو ہے سو مجھ سے بچا نہیںوہ کون ہے کہ جس سے میں یارو ملا نہیںTaban Abdul Hai (1715–1749)
  18. مرنے کی مجھ کو آپ سے ہیں اضطرابیاںکرتا ہے میرے قتل کو تو کیوں شتابیاںTaban Abdul Hai (1715–1749)
  19. زاہد ترا تو دین سراسر فریب ہےرشتے سے تیرے سبحہ کے زنار ہی بھلاTaban Abdul Hai (1715–1749)
  20. کس کس طرح کی دل میں گزرتی ہیں حسرتیںہے وصل سے زیادہ مزا انتظار کاTaban Abdul Hai (1715–1749)
  21. محفل کے بیچ سن کے مرے سوز دل کا حالبے اختیار شمع کے آنسو ڈھلک پڑےTaban Abdul Hai (1715–1749)
  22. ارض و سما کہاں تری وسعت کو پا سکےمیرا ہی دل ہے وہ کہ جہاں تو سما سکےKhwaja Mir Dard (1721–1785)
  23. ان نے کیا تھا یاد مجھے بھول کر کہیںپاتا نہیں ہوں تب سے میں اپنی خبر کہیںKhwaja Mir Dard (1721–1785)
  24. ہم تجھ سے کس ہوس کی فلک جستجو کریںدل ہی نہیں رہا ہے کہ کچھ آرزو کریںKhwaja Mir Dard (1721–1785)
  25. آگے کچھ اس کے ذکر دل زار مت کروسب خیریت ہے اس سے کچھ اظہار مت کروQaem Chandpuri (1722–1793)
  26. آوے خزاں چمن کی طرف گر میں رو کروںغنچہ کرے گلوں کو صبا گر میں بو کروںQaem Chandpuri (1722–1793)
  27. اٹھ جائے گر یہ بیچ سے پردہ حجاب کادریا ہی پھر تو نام ہے ہر اک حباب کاQaem Chandpuri (1722–1793)
  28. اس کو نہ رات کہہ تو نہ اس کو بتا غلطکیا جانے کیا سہی ہے واقع میں کیا غلطQaem Chandpuri (1722–1793)
  29. پھوٹی بھلی وہ آنکھ جو آنسو سے تر نہیںکس کام ہے وہ سیپ کہ جس میں گہر نہیںQaem Chandpuri (1722–1793)
  30. تیری زباں سے خستہ کوئی زار ہے کوئیپیارے یہ نحو و صرف یہ گفتار ہے کوئیQaem Chandpuri (1722–1793)
  31. دل پا کے اس کی زلف میں آرام رہ گیادرویش جس جگہ کہ ہوئی شام رہ گیاQaem Chandpuri (1722–1793)
  32. دن رات کس کی یاد تھی کیسا ملال تھاصدقے میں کچھ تو بول تو کیا تجھ پہ حال تھاQaem Chandpuri (1722–1793)
  33. دیکھا ہے آج راہ میں ہم اک حریر پوشپر یار کچھ نہ پوچھ کہ کیا چھب چہ بر چہ دوشQaem Chandpuri (1722–1793)
  34. صحرا پہ گر جنوں مجھے لاوے عتاب میںکھینچوں ہر ایک خار کو پائے حساب میںQaem Chandpuri (1722–1793)
  35. کر امتحاں ٹک ہو کے تو خونخوار یک طرفمیں آج یک طرف ہوں ترے یار یک طرفQaem Chandpuri (1722–1793)
  36. گہ پیر شیخ گاہ مرید مغاں رہےاب تک تو آبرو سے نبھی ہے جہاں رہےQaem Chandpuri (1722–1793)
  37. لائق وفا کے خلق و سزائے جفا ہوں میںجتنے ہیں یاں سو نیک ہیں جو کچھ برا ہوں میںQaem Chandpuri (1722–1793)
  38. معلوم کچھ ہوا ہی نہ دل کا اثر کہیںایسا گیا کہ پھیر نہ پائی خبر کہیںQaem Chandpuri (1722–1793)
  39. واشد کی دل کے اور کوئی راہ ہی نہیںجز یہ کہ آہ کیجئے سو آہ ہی نہیںQaem Chandpuri (1722–1793)
  40. ہر چند دکھ دہی سے زمانے کو عشق ہےلیکن مرے بھی تاب کے لانے کو عشق ہےQaem Chandpuri (1722–1793)
  41. ہم ہیں جنہوں نے نام چمن بو نہیں کیاآئی صبا جدھر سے ادھر رو نہیں کیاQaem Chandpuri (1722–1793)
  42. آ جائیں ہم نظر جو کوئی دم بہت ہے یاںمہلت ہمیں بسان شرر کم بہت ہے یاںMir Taqi Mir (1723–1810)
  43. آگے جمال یار کے معذور ہو گیاگل اک چمن میں دیدۂ بے نور ہو گیاMir Taqi Mir (1723–1810)
  44. آگے ہمارے عہد سے وحشت کو جا نہ تھیبیگانہ سا لگے ہے چمن اب خزاں میں ہائےMir Taqi Mir (1723–1810)
  45. آوے گی میری قبر سے آواز میرے بعدابھریں گے عشق دل سے ترے راز میرے بعدMir Taqi Mir (1723–1810)
  46. آؤ کبھو تو پاس ہمارے بھی ناز سےکرنا سلوک خوب ہے اہل نیاز سےMir Taqi Mir (1723–1810)
  47. آہ سحر نے سوزش دل کو مٹا دیااس باؤ نے ہمیں تو دیا سا بجھا دیاMir Taqi Mir (1723–1810)
  48. آئے ہیں میرؔ منہ کو بنائے خفا سے آجشاید بگڑ گئی ہے کچھ اس بے وفا سے آجMir Taqi Mir (1723–1810)
  49. اب کے بھی سیر باغ کی جی میں ہوس رہیاپنی جگہ بہار میں کنج قفس رہیMir Taqi Mir (1723–1810)
  50. اس عہد میں الٰہی محبت کو کیا ہواچھوڑا وفا کو ان نے مروت کو کیا ہواMir Taqi Mir (1723–1810)