اب کے بھی سیر باغ کی جی میں ہوس رہی

Mir Taqi Mir (1723–1810)

اب کے بھی سیر باغ کی جی میں ہوس رہی

اپنی جگہ بہار میں کنج قفس رہی

میں پا شکستہ جا نہ سکا قافلے تلک

آتی اگرچہ دیر صدائے جرس رہی

لطف قبائے تنگ پہ گل کا بجا ہے ناز

دیکھی نہیں ہے ان نے تری چولی چس رہی

دن رات میری آنکھوں سے آنسو چلے گئے

برسات اب کے شہر میں سارے برس رہی

خالی شگفتگی سے جراحت نہیں کوئی

ہر زخم یاں ہے جیسے کلی ہو بکس رہی

گردن مری ہے طوق میں گویا کہ پھنس رہی

جوں صبح اس چمن میں نہ ہم کھل کے ہنس سکے

فرصت رہی جو میرؔ بھی سو یک نفس رہی