بدلا ترے ستم کا کوئی تجھ سے کیا کرے

Mirza Rafi Sauda (1713–1781)

بدلا ترے ستم کا کوئی تجھ سے کیا کرے

اپنا ہی تو فریفتہ ہووے خدا کرے