Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download →

Poetry

Ramal Musamman Makhbun Mahzuf Maqtu'

رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع
Poet
Meter
Clear
  1. ہم نشیں ان کے طرف دار بنے بیٹھے ہیںمیرے غم خوار دل آزار بنے بیٹھے ہیںZaheer Dehlvi (1835–1911)
  2. حسن کی گرمئ بازار الٰہی توبہآگ سی آگ برستی ہے خریداروں پرZaheer Dehlvi (1835–1911)
  3. سر پہ احسان رہا بے سر و سامانی کاخار صحرا سے نہ الجھا کبھی دامن اپناZaheer Dehlvi (1835–1911)
  4. عشق ہے عشق تو اک روز تماشا ہوگاآپ جس منہ کو چھپاتے ہیں دکھانا ہوگاZaheer Dehlvi (1835–1911)
  5. کوئی پوچھے تو سہی ہم سے ہماری رودادہم تو خود شوق میں افسانہ بنے بیٹھے ہیںZaheer Dehlvi (1835–1911)
  6. اس کے جاتے ہی یہ کیا ہو گئی گھر کی صورتنہ وہ دیوار کی صورت ہے نہ در کی صورتAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  7. جیتے جی موت کے تم منہ میں نہ جانا ہرگزدوستو دل نہ لگانا نہ لگانا ہرگزAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  8. کبک و قمری میں ہے جھگڑا کہ چمن کس کا ہےکل بتا دے گی خزاں یہ کہ وطن کس کا ہےAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  9. وصل کا اس کے دل زار تمنائی ہےنہ ملاقات ہے جس سے نہ شناسائی ہےAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  10. گر نشے میں کوئی بے فکر و تامل باندھےچشم مے گوں کو تری جام پر از مل باندھےIsmail Meeruthi (1844–1917)
  11. نکہت طرۂ مشکیں جو صبا لائی ہےکوئی آوارہ ہوا ہے کوئی سودائی ہےIsmail Meeruthi (1844–1917)
  12. وہی سائل وہی مسؤل وہی حاجت مندگر ہو مقرون اجابت تو سوال اچھا ہےIsmail Meeruthi (1844–1917)
  13. رات دن ایک سا رہتا ہے اجالا مرے گھرآتشیں آہ ہے یا آٹھ پہر کی بتیLala Piyare Lal (b. 1844)
  14. پھر گئی آپ کی دو دن میں طبیعت کیسییہ وفا کیسی تھی صاحب یہ مروت کیسیAkbar Allahabadi (1846–1921)
  15. تیرا کوچہ نہ چھٹے گا ترے دیوانے سےاس کو کعبے سے نہ مطلب ہے نہ بت خانے سےAkbar Allahabadi (1846–1921)
  16. جلوۂ ساقی و مے جان لئے لیتے ہیںشیخ جی ضبط کریں ہم تو پئے لیتے ہیںAkbar Allahabadi (1846–1921)
  17. جو تمہارے لب جاں بخش کا شیدا ہوگااٹھ بھی جائے گا جہاں سے تو مسیحا ہوگاAkbar Allahabadi (1846–1921)
  18. دشت غربت ہے علالت بھی ہے تنہائی بھیاور ان سب پہ فزوں بادیہ پیمائی بھیAkbar Allahabadi (1846–1921)
  19. دل مرا ان پہ جو آیا تو قضا بھی آئیدرد کے ساتھ ہی ساتھ اس کی دوا بھی آئیAkbar Allahabadi (1846–1921)
  20. صبر رہ جاتا ہے اور عشق کی چل جاتی ہےضبط کرتا ہوں مگر آہ نکل جاتی ہےAkbar Allahabadi (1846–1921)
  21. کیا ہی رہ رہ کے طبیعت مری گھبراتی ہےموت آتی ہے شب ہجر نہ نیند آتی ہےAkbar Allahabadi (1846–1921)
  22. وزن اب ان کا معین نہیں ہو سکتا کچھبرف کی طرح مسلمان گھلے جاتے ہیںAkbar Allahabadi (1846–1921)
  23. ہستیٔ حق کے معانی جو مرا دل سمجھااپنی ہستی کو اک اندیشۂ باطل سمجھاAkbar Allahabadi (1846–1921)
  24. یوں مری طبع سے ہوتے ہیں معانی پیداجیسے ساون کی گھٹاؤں سے ہو پانی پیداAkbar Allahabadi (1846–1921)
  25. واہ رے سید پاکیزہ گہر کیا کہنایہ دماغ اور حکیمانہ نظر کیا کہناAkbar Allahabadi (1846–1921)
  26. جو کہا میں نے کہ پیار آتا ہے مجھ کو تم پرہنس کے کہنے لگا اور آپ کو آتا کیا ہےAkbar Allahabadi (1846–1921)
  27. لوگ کہتے ہیں بدلتا ہے زمانہ سب کومرد وہ ہیں جو زمانے کو بدل دیتے ہیںAkbar Allahabadi (1846–1921)
  28. اب بھی اک عمر پہ جینے کا نہ انداز آیازندگی چھوڑ دے پیچھا مرا میں باز آیاShad Azimabadi (1846–1927)
  29. کس پہ قابو جو تجھی پہ نہیں قابو اپناکس سے امید ہمیں جب نہ ہوا تو اپناShad Azimabadi (1846–1927)
  30. کعبہ و دیر میں جلوہ نہیں یکساں ان کاجو یہ کہتے ہیں ٹٹولے کوئی ایماں ان کاShad Azimabadi (1846–1927)
  31. کیا فقط طالب دیدار تھا موسیٰ تیراوہی شیدا تھا ترا میں نہیں شیدا تیراShad Azimabadi (1846–1927)
  32. لے کے خود پیر مغاں ہاتھ میں مینا آیامے کشو شرم کہ اس پر بھی نہ پینا آیاShad Azimabadi (1846–1927)
  33. میں جو حاصل ترے کوچے کی گدائی کرتابندگی کہتے ہیں کس شے کو خدائی کرتاShad Azimabadi (1846–1927)
  34. ہو کے خوش ناز ہم ایسوں کے اٹھانے والاکوئی باقی نہ رہا اگلے زمانے والاShad Azimabadi (1846–1927)
  35. یہی موقع ہے زمانے سے گزر جانے کاکیوں اجل کیا کیا ساماں مرے مر جانے کاShad Azimabadi (1846–1927)
  36. عید میں عید ہوئی عیش کا ساماں دیکھادیکھ کر چاند جو منہ آپ کا اے جاں دیکھاShad Azimabadi (1846–1927)
  37. آپ آئے تو خیال دل ناشاد آیاآپ نے یاد دلایا تو مجھے یاد آیاRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  38. پردے پردے میں یہ کر لیتی ہیں راہیں کیوں کرپار ہو جاتی ہیں سینے کی نگاہیں کیوں کرRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  39. جان نکلے گی مری جان بڑی مشکل سےہوگی مشکل مری آسان بڑی مشکل سےRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  40. جانے والے نہ ہم اس کوچے میں آنے والےاچھے آئے ہمیں دیوانہ بنانے والےRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  41. خواب میں بھی نظر آ جائے جو گھر کی صورتپھاڑ کھائیں ترے درباں سگ در کی صورتRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  42. در کھلا صبح کو پو پھٹتے ہی مے خانے کاعکس سورج ہے چھلکتے ہوئے پیمانے کاRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  43. رنگ پر کل تھا ابھی لالۂ گلشن کیسابے چراغ آج ہے ہر ایک نشیمن کیساRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  44. رہ گیا پر وہ ترے چاک گریبانوں کاحشر میں کوئی بھی پرساں نہیں دیوانوں کاRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  45. شمع کے ساتھ عجب لطف ہے پروانے کوآگ سے کھیلتے دیکھا اسی دیوانے کوRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  46. صبح محشر بھی گوارا نہیں فرقت میریمجھ سے رہ رہ کے لپٹ جاتی ہے تربت میںRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  47. کل قیامت ہے قیامت کے سوا کیا ہوگااے میں قربان وفا وعدۂ فردا ہوگاRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  48. کوئے دشمن سے اسے چھپ کے نکلتے دیکھاہم نے نقش قدم یار کو چلتے دیکھاRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  49. گل مرقع ہیں ترے چاک گریبانوں کےشکل معشوق کی انداز ہیں دیوانوں کےRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  50. لے گیا گھر سے انہیں غیر کے گھر کا تعویذہم نے دیکھا نہ سنا ایسے اثر کا تعویذRiyaz Khairabadi (1853–1934)