Poetry
Ramal Musamman Makhbun Mahzuf Maqtu'
رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع- ہم نشیں ان کے طرف دار بنے بیٹھے ہیںمیرے غم خوار دل آزار بنے بیٹھے ہیںZaheer Dehlvi (1835–1911)
- حسن کی گرمئ بازار الٰہی توبہآگ سی آگ برستی ہے خریداروں پرZaheer Dehlvi (1835–1911)
- سر پہ احسان رہا بے سر و سامانی کاخار صحرا سے نہ الجھا کبھی دامن اپناZaheer Dehlvi (1835–1911)
- عشق ہے عشق تو اک روز تماشا ہوگاآپ جس منہ کو چھپاتے ہیں دکھانا ہوگاZaheer Dehlvi (1835–1911)
- کوئی پوچھے تو سہی ہم سے ہماری رودادہم تو خود شوق میں افسانہ بنے بیٹھے ہیںZaheer Dehlvi (1835–1911)
- اس کے جاتے ہی یہ کیا ہو گئی گھر کی صورتنہ وہ دیوار کی صورت ہے نہ در کی صورتAltaf Hussain Hali (1837–1914)
- جیتے جی موت کے تم منہ میں نہ جانا ہرگزدوستو دل نہ لگانا نہ لگانا ہرگزAltaf Hussain Hali (1837–1914)
- کبک و قمری میں ہے جھگڑا کہ چمن کس کا ہےکل بتا دے گی خزاں یہ کہ وطن کس کا ہےAltaf Hussain Hali (1837–1914)
- وصل کا اس کے دل زار تمنائی ہےنہ ملاقات ہے جس سے نہ شناسائی ہےAltaf Hussain Hali (1837–1914)
- گر نشے میں کوئی بے فکر و تامل باندھےچشم مے گوں کو تری جام پر از مل باندھےIsmail Meeruthi (1844–1917)
- نکہت طرۂ مشکیں جو صبا لائی ہےکوئی آوارہ ہوا ہے کوئی سودائی ہےIsmail Meeruthi (1844–1917)
- وہی سائل وہی مسؤل وہی حاجت مندگر ہو مقرون اجابت تو سوال اچھا ہےIsmail Meeruthi (1844–1917)
- رات دن ایک سا رہتا ہے اجالا مرے گھرآتشیں آہ ہے یا آٹھ پہر کی بتیLala Piyare Lal (b. 1844)
- پھر گئی آپ کی دو دن میں طبیعت کیسییہ وفا کیسی تھی صاحب یہ مروت کیسیAkbar Allahabadi (1846–1921)
- تیرا کوچہ نہ چھٹے گا ترے دیوانے سےاس کو کعبے سے نہ مطلب ہے نہ بت خانے سےAkbar Allahabadi (1846–1921)
- جلوۂ ساقی و مے جان لئے لیتے ہیںشیخ جی ضبط کریں ہم تو پئے لیتے ہیںAkbar Allahabadi (1846–1921)
- جو تمہارے لب جاں بخش کا شیدا ہوگااٹھ بھی جائے گا جہاں سے تو مسیحا ہوگاAkbar Allahabadi (1846–1921)
- دشت غربت ہے علالت بھی ہے تنہائی بھیاور ان سب پہ فزوں بادیہ پیمائی بھیAkbar Allahabadi (1846–1921)
- دل مرا ان پہ جو آیا تو قضا بھی آئیدرد کے ساتھ ہی ساتھ اس کی دوا بھی آئیAkbar Allahabadi (1846–1921)
- صبر رہ جاتا ہے اور عشق کی چل جاتی ہےضبط کرتا ہوں مگر آہ نکل جاتی ہےAkbar Allahabadi (1846–1921)
- کیا ہی رہ رہ کے طبیعت مری گھبراتی ہےموت آتی ہے شب ہجر نہ نیند آتی ہےAkbar Allahabadi (1846–1921)
- وزن اب ان کا معین نہیں ہو سکتا کچھبرف کی طرح مسلمان گھلے جاتے ہیںAkbar Allahabadi (1846–1921)
- ہستیٔ حق کے معانی جو مرا دل سمجھااپنی ہستی کو اک اندیشۂ باطل سمجھاAkbar Allahabadi (1846–1921)
- یوں مری طبع سے ہوتے ہیں معانی پیداجیسے ساون کی گھٹاؤں سے ہو پانی پیداAkbar Allahabadi (1846–1921)
- واہ رے سید پاکیزہ گہر کیا کہنایہ دماغ اور حکیمانہ نظر کیا کہناAkbar Allahabadi (1846–1921)
- جو کہا میں نے کہ پیار آتا ہے مجھ کو تم پرہنس کے کہنے لگا اور آپ کو آتا کیا ہےAkbar Allahabadi (1846–1921)
- لوگ کہتے ہیں بدلتا ہے زمانہ سب کومرد وہ ہیں جو زمانے کو بدل دیتے ہیںAkbar Allahabadi (1846–1921)
- اب بھی اک عمر پہ جینے کا نہ انداز آیازندگی چھوڑ دے پیچھا مرا میں باز آیاShad Azimabadi (1846–1927)
- کس پہ قابو جو تجھی پہ نہیں قابو اپناکس سے امید ہمیں جب نہ ہوا تو اپناShad Azimabadi (1846–1927)
- کعبہ و دیر میں جلوہ نہیں یکساں ان کاجو یہ کہتے ہیں ٹٹولے کوئی ایماں ان کاShad Azimabadi (1846–1927)
- کیا فقط طالب دیدار تھا موسیٰ تیراوہی شیدا تھا ترا میں نہیں شیدا تیراShad Azimabadi (1846–1927)
- لے کے خود پیر مغاں ہاتھ میں مینا آیامے کشو شرم کہ اس پر بھی نہ پینا آیاShad Azimabadi (1846–1927)
- میں جو حاصل ترے کوچے کی گدائی کرتابندگی کہتے ہیں کس شے کو خدائی کرتاShad Azimabadi (1846–1927)
- ہو کے خوش ناز ہم ایسوں کے اٹھانے والاکوئی باقی نہ رہا اگلے زمانے والاShad Azimabadi (1846–1927)
- یہی موقع ہے زمانے سے گزر جانے کاکیوں اجل کیا کیا ساماں مرے مر جانے کاShad Azimabadi (1846–1927)
- عید میں عید ہوئی عیش کا ساماں دیکھادیکھ کر چاند جو منہ آپ کا اے جاں دیکھاShad Azimabadi (1846–1927)
- آپ آئے تو خیال دل ناشاد آیاآپ نے یاد دلایا تو مجھے یاد آیاRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- پردے پردے میں یہ کر لیتی ہیں راہیں کیوں کرپار ہو جاتی ہیں سینے کی نگاہیں کیوں کرRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- جان نکلے گی مری جان بڑی مشکل سےہوگی مشکل مری آسان بڑی مشکل سےRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- جانے والے نہ ہم اس کوچے میں آنے والےاچھے آئے ہمیں دیوانہ بنانے والےRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- خواب میں بھی نظر آ جائے جو گھر کی صورتپھاڑ کھائیں ترے درباں سگ در کی صورتRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- در کھلا صبح کو پو پھٹتے ہی مے خانے کاعکس سورج ہے چھلکتے ہوئے پیمانے کاRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- رنگ پر کل تھا ابھی لالۂ گلشن کیسابے چراغ آج ہے ہر ایک نشیمن کیساRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- رہ گیا پر وہ ترے چاک گریبانوں کاحشر میں کوئی بھی پرساں نہیں دیوانوں کاRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- شمع کے ساتھ عجب لطف ہے پروانے کوآگ سے کھیلتے دیکھا اسی دیوانے کوRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- صبح محشر بھی گوارا نہیں فرقت میریمجھ سے رہ رہ کے لپٹ جاتی ہے تربت میںRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- کل قیامت ہے قیامت کے سوا کیا ہوگااے میں قربان وفا وعدۂ فردا ہوگاRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- کوئے دشمن سے اسے چھپ کے نکلتے دیکھاہم نے نقش قدم یار کو چلتے دیکھاRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- گل مرقع ہیں ترے چاک گریبانوں کےشکل معشوق کی انداز ہیں دیوانوں کےRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- لے گیا گھر سے انہیں غیر کے گھر کا تعویذہم نے دیکھا نہ سنا ایسے اثر کا تعویذRiyaz Khairabadi (1853–1934)