شمع کے ساتھ عجب لطف ہے پروانے کو
Riyaz Khairabadi (1853–1934)شمع کے ساتھ عجب لطف ہے پروانے کو
آگ سے کھیلتے دیکھا اسی دیوانے کو
لیے بیٹھے رہیں آپ آئنے کو شانے کو
ہم بھی آ جائیں ذرا زلف کے سلجھانے کو
شب وعدہ ارے او شام سے سونے والے
کھل کے کلیاں مرے بستر کی ہیں مرجھانے کو
اے مری چشم تصور ترے صدقے سو بار
تو پری خانہ بنا دیتی ہے ویرانے کو
دل بھی نازک یہ کڑی چوٹ بھی پتھر سے سوا
پھول سے کوئی نہ مارے کسی دیوانے کو
اب ٹھہرتا ہی نہیں سینے پر آنچل ان کا
وہ جوانی میں پھرے اور ستم ڈھانے کو
ارے دیوانے سمجھنے کا نہیں ایک کی میں
تجھ سے سو آئیں جو ناصح مرے سمجھانے کو
خانقاہوں سے ہے پوشیدہ تعلق جن کا
راستے ایسے گئے ہیں کئی میخانے کو
اے صبا پھولوں کی ہو شاخ کہ موج مے ناب
کچھ بنی ہے کمر یار ہی بل کھانے کو
سنئے محشر میں نہ دنیا کی کہانی مجھ سے
کیجیے یاد نہ بھولے ہوئے افسانے کو
پھل میں پا جاؤں عبادت کا بنا دے یا رب
دانہ انگور کا تسبیح کے ہر دانے کو
بعد توبہ بھی یہ پھینکا نہیں جاتا ہم سے
ہم لیے بیٹھے ہیں ٹوٹے ہوئے پیمانے کو
حشر میں فرد عمل کھینچ کے ماروں منہ پر
ساتھ آئے ہیں فرشتے مجھے شرمانے کو
حسن کے رعب نے محفل میں بٹھائے پہرے
شمع تک آئے اجازت نہیں پروانے کو
لاؤں افشردۂ انگور کہاں سے اے شیخ
ایک دانہ بھی نہیں گھر میں قسم کھانے کو
جیسے ساقی تری ہنستی ہوئی تصویر شباب
ہم نے دیکھا ہے چھلکتے ہوئے پیمانے کو
آ کے بے موسم گل توڑیں گے توبہ شاید
غل ہے رندوں میں ریاضؔ آتے ہیں میخانے کو