Poetry
Ramal Musamman Salim Makhbun Mahzuf
رمل مثمن سالم مخبون محذوف- کچھ تو ہے ویسے ہی رنگیں لب و رخسار کی باتاور کچھ خون جگر ہم بھی ملا دیتے ہیںAale Ahmad Suroor (1911–2002)
- ایک جلوہ بصد انداز نظر دیکھ لیاتجھ کو ہی دیکھا کئے تجھ کو اگر دیکھ لیاTabish Dehlvi (1911–2004)
- جب کبھی ہم نے کیا عشق پشیمان ہوئےزندگی ہے تو ابھی اور پشیماں ہوں گےHafeez Hoshiarpuri (1912–1973)
- ہو کے اس کوچے سے آئی تو ستم ڈھا گئی کیاکچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ صبا پا گئی کیاUmar Ansari (1912–2005)
- آئے ہم غالبؔ و اقبالؔ کے نغمات کے بعدمصحفؔ عشق و جنوں حسن کی آیات کے بعدAli Sardar Jafri (1913–2000)
- عطر فردوس جواں میں یہ بسائے ہوئے ہونٹخون گلرنگ بہاراں میں نہائے ہوئے ہونٹAli Sardar Jafri (1913–2000)
- کام اب کوئی نہ آئے گا بس اک دل کے سواراستے بند ہیں سب کوچۂ قاتل کے سواAli Sardar Jafri (1913–2000)
- تم نہیں آئے تھے جب تب بھی تو موجود تھے تمآنکھ میں نور کی اور دل میں لہو کی صورتAli Sardar Jafri (1913–2000)
- انقلاب آئے گا رفتار سے مایوس نہ ہوبہت آہستہ نہیں ہے جو بہت تیز نہیںAli Sardar Jafri (1913–2000)
- وحشت آثار و سکوں سوز نظاروں کے سوااور سب کچھ ہے گلستاں میں بہاروں کے سواEjaz Siddiqi (1913–1978)
- اپنی رسوائی کا احساس تو اب کچھ بھی نہیںہونٹ ہی سن ہیں خموشی کا سبب کچھ بھی نہیںEhsan Danish (1914–1982)
- ضبط بھی صبر بھی امکان میں سب کچھ ہے مگرپہلے کم بخت مرا دل تو مرا دل ہو جائےEhsan Danish (1914–1982)
- چونک چونک اٹھتی ہے محلوں کی فضا رات گئےکون دیتا ہے یہ گلیوں میں صدا رات گئےJan Nisar Akhtar (1914–1976)
- دل کو ہر لمحہ بچاتے رہے جذبات سے ہماتنے مجبور رہے ہیں کبھی حالات سے ہمJan Nisar Akhtar (1914–1976)
- دیدہ و دل میں کوئی حسن بکھرتا ہی رہالاکھ پردوں میں چھپا کوئی سنورتا ہی رہاJan Nisar Akhtar (1914–1976)
- زندگی یہ تو نہیں تجھ کو سنوارا ہی نہ ہوکچھ نہ کچھ ہم نے ترا قرض اتارا ہی نہ ہوJan Nisar Akhtar (1914–1976)
- میکشی اب مری عادت کے سوا کچھ بھی نہیںیہ بھی اک تلخ حقیقت کے سوا کچھ بھی نہیںJan Nisar Akhtar (1914–1976)
- آج سوچا ہے کہ احساس کو زائل کر دوںاپنے شوریدہ ارادے کو اپاہج کر لوںAkhtar-ul-Iman (1915–1996)
- شام ہوتی ہے سحر ہوتی ہے یہ وقت رواںجو کبھی سنگ گراں بن کے مرے سر پہ گراAkhtar-ul-Iman (1915–1996)
- عمر یوں مجھ سے گریزاں ہے کہ ہر گام پہ میںاس کے دامن سے لپٹتا ہوں مناتا ہوں اسےAkhtar-ul-Iman (1915–1996)
- کون آوارہ ہواؤں کا سبکبار ہجومآہ احساس کی زنجیر گراں ٹوٹ گئیAkhtar-ul-Iman (1915–1996)
- تو بگڑتا بھی ہے خاص اپنے ہی انداز کے ساتھپھول کھلتے ہیں ترے شعلۂ آواز کے ساتھAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
- چاند اس رات بھی نکلا تھا مگر اس کا وجوداتنا خوں رنگ تھا جیسے کسی معصوم کی لاشAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
- عمر بھر اس نے اسی طرح لبھایا ہے مجھےوہ جو اس دشت کے اس پار سے لایا ہے مجھےAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
- میں وہ شاعر ہوں جو شاہوں کا ثنا خواں نہ ہوایہ ہے وہ جرم جو مجھ سے کسی عنواں نہ ہواAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
- وہ جو اک عمر سے مصروف عبادات میں تھےآنکھ کھولی تو ابھی عرصۂ ظلمات میں تھےAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
- صبح ہوتے ہی نکل آتے ہیں بازار میں لوگگٹھریاں سر پہ اٹھائے ہوئے ایمانوں کیAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
- لوگ کہتے ہیں کہ سایا ترے پیکر کا نہیںمیں تو کہتا ہوں زمانے پہ ہے سایا تیراAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
- آج کیا ہے جو ملا شوخ نگاہوں کو قرار؟کیا ہوا حسن کی معصوم حیاؤں کا وقارShakeel Badayuni (1916–1970)
- اک شہنشاہ نے بنوا کے حسیں تاج محلساری دنیا کو محبت کی نشانی دی ہےShakeel Badayuni (1916–1970)
- داغ دنیا نے دیے زخم زمانے سے ملےہم کو تحفے یہ تمہیں دوست بنانے سے ملےKaif Bhopali (1917–1991)
- گردش ارض و سماوات نے جینے نہ دیاکٹ گیا دن تو ہمیں رات نے جینے نہ دیاKaif Bhopali (1917–1991)
- کوئی اظہار غم دل کا بہانہ بھی نہیںہو بہانہ بھی جو کوئی تو زمانہ بھی نہیںJagan Nath Azad (1918–2004)
- اس طرح آج پھر آباد ہے ویرانۂ دلکہ ہے لبریز مئے شوق سے پیمانۂ دلJagan Nath Azad (1918–2004)
- رات پھر تیرے خیالوں نے جگایا مجھ کوٹمٹماتی ہوئی یادوں کا ذرا سا شعلہJagan Nath Azad (1918–2004)
- روتے روتے مرے ہنسنے پہ تعجب نہ کروہے وہی چیز مگر دوسرے انداز میں ہےIbraheem Hosh (1918–1988)
- دل پہ آئے ہوئے الزام سے پہچانتے ہیںلوگ اب مجھ کو ترے نام سے پہچانتے ہیںQateel Shifai (1919–2001)
- رابطہ لاکھ سہی قافلہ سالار کے ساتھہم کو چلنا ہے مگر وقت کی رفتار کے ساتھQateel Shifai (1919–2001)
- راستے یاد نہیں راہنما یاد نہیںاب مجھے کچھ تری گلیوں کے سوا یاد نہیںQateel Shifai (1919–2001)
- اب تم آغوش تصور میں بھی آیا نہ کرومجھ سے بکھرے ہوئے گیسو نہیں دیکھے جاتےKaifi Azmi (1919–2002)
- اٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےقلب ماحول میں لرزاں شرر جنگ ہیں آجKaifi Azmi (1919–2002)
- اک یہی سوز نہاں کل مرا سرمایہ ہےدوستو میں کسے یہ سوز نہاں نذر کروںKaifi Azmi (1919–2002)
- آہ جاں سوز کی محرومی تاثیر نہ دیکھہو ہی جائے گی کوئی جینے کی تدبیر نہ دیکھMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- جلوۂ گل کا سبب دیدۂ تر ہے کہ نہیںمیری آہوں سے بہاراں کی سحر ہے کہ نہیںMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- کوئی ہم دم نہ رہا کوئی سہارا نہ رہاہم کسی کے نہ رہے کوئی ہمارا نہ رہاMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- صبر اے دل کہ یہ حالت نہیں دیکھی جاتیٹھہر اے درد کہ اب ضبط کا یارا نہ رہاHabeeb Ashar Dehlavi (1919–1971)
- یوں تو اب بھی ہے وہی رنج وہی محرومیوہ جو اک تیری طرف سے تھا اشارا نہ رہاHabeeb Ashar Dehlavi (1919–1971)
- حسن آنکھوں میں رہے دل میں جوانی تو رہےزندگانی تیرے ہونے کی نشانی تو رہےJafar Shirazi (b. 1920)
- دن نکلتا ہے تو سامان سفر ڈھونڈتے ہیںرات پڑتی ہے تو ہم اپنی خبر ڈھونڈتے ہیںJafar Shirazi (b. 1920)
- اپنا دل پیش کروں اپنی وفا پیش کروںکچھ سمجھ میں نہیں آتا تجھے کیا پیش کروںSahir Ludhianvi (1921–1980)