Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download →

Poetry

Ramal Musamman Salim Makhbun Mahzuf

رمل مثمن سالم مخبون محذوف
Poet
Meter
Clear
  1. لب و دنداں کا تمہارے جو ہے دھیاں آٹھ پہرنہیں لگتی مری تالو سے زباں آٹھ پہرQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
  2. میں کہا ایک ادا کر تو لگا کہنے اوں ہوںدیکھ ٹک آنکھ چرا کر تو لگا کہنے اوں ہوںQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
  3. ایک تو بیٹھے ہو دل کو مرے کھو اور سنوتس پہ کہتے ہو "دیا ہے تجھے" لو اور سنوMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  4. بات کو میری الگ ہو کے نہ شرماؤ سنوکچھ کہا چاہوں ہوں میں تم سے ادھر آؤ سنوMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  5. بوئیے مزرع دل میں جو عنایات کے بیجتو نہ ہوں سبز کبھی اپنی شکایات کے بیجMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  6. تختۂ آب چمن کیوں نہ نظر آوے سپاٹیاد آوے مجھے جس دم وہ نگمود کا گھاٹMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  7. جلوہ گر اس کا سراپا ہے بدن آئنے میںنظر آتا ہے ہمیں سرو چمن آئنے میںMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  8. رات کرتا تھا وہ اک مرغ گرفتار سے بحثمیں بھی تا صبح رکھی بلبل گل زار سے بحثMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  9. سامنے آنکھوں کے ہر دم تری تمثال ہے آجدل بھرا آئے نہ کیونکر کہ برا حال ہے آجMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  10. غیر کے گھر تو نہ رہ رات کو مہمان کہیںتا نا اس بات کا چرچا ہو مری جان کہیںMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  11. کیا میں جاتا ہوں صنم چھٹ ترے در اور کہیںلے قسم مجھ سے جو میرا ہو گزر اور کہیںMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  12. بات کے ساتھ ہی موجود ہے ٹال ایک نہ ایکہے خلاف اپنے سدا آپ کے چال ایک نہ ایکInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
  13. چھیڑنے کا تو مزہ جب ہے کہو اور سنوبات میں تم تو خفا ہو گئے لو اور سنوInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
  14. لو فقیروں کی دعا ہر طرح آباد رہوخود رہو موجیں کرو تازے رہو شاد رہوInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
  15. وہ پری ہی نہیں کچھ ہو کے کڑی مجھ سے لڑیآنکھ نرگس سے بھی دو چار گھڑی مجھ سے لڑیInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
  16. اس کے کوچہ میں گیا میں سو پھر آیا نہ گیامیں وہاں آپ کو ڈھونڈا تو میں پایا نہ گیاGhamgeen Dehlvi (1753–1851)
  17. بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھیجیسی اب ہے تری محفل کبھی ایسی تو نہ تھیBahadur Shah Zafar (1775–1862)
  18. جب کے رسوا ہوئے انکار ہے سچ بات میں کیااے صنم لطف ہے پردے کی ملاقات میں کیاHaidar Ali Aatish (1778–1847)
  19. دل شہید رہ دامان نہ ہوا تھا سو ہواٹکڑے ٹکڑے جو گریباں نہ ہوا تھا سو ہواHaidar Ali Aatish (1778–1847)
  20. دل لگی اپنی ترے ذکر سے کس رات نہ تھیصبح تک شام سے یاہو کے سوا بات نہ تھیHaidar Ali Aatish (1778–1847)
  21. مئے گل رنگ سے لبریز رہیں جام سفیدچشم بدبیں کو کرے گردش ایام سفیدHaidar Ali Aatish (1778–1847)
  22. ایک دن وصل سے اپنے مجھے تم شاد کروپھر مری جان جو کچھ چاہو سو بیداد کروMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
  23. پاوے کس طرح کوئی کس کو ہے مقدور ہمیںلے گیا عشق ترا کھینچ بہت دور ہمیںMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
  24. تو نے جو کچھ کہ کیا میرے دل زار کے ساتھآگ نے بھی نہ کیا وہ تو خس و خار کے ساتھMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
  25. دل سلامت اگر اپنا ہے تو دل دار بہتہے یہ وہ جنس کہ جس کے ہیں خریدار بہتMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
  26. زاہد اس راہ نہ آ مست ہیں مے خوار کئیابھی یاں چھین لیے جبہ و دستار کئیMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
  27. بزم میں ذکر مرا لب پہ وہ لائے تو سہیوہیں معلوم کروں ہونٹ ہلائے تو سہیSheikh Ibrahim Zauq (1790–1854)
  28. چشم قاتل ہمیں کیونکر نہ بھلا یاد رہےموت انسان کو لازم ہے سدا یاد رہےSheikh Ibrahim Zauq (1790–1854)
  29. کوئی ان تنگ دہانوں سے محبت نہ کرےاور جو یہ تنگ کریں منہ سے شکایت نہ کرےSheikh Ibrahim Zauq (1790–1854)
  30. مرض عشق جسے ہو اسے کیا یاد رہےنہ دوا یاد رہے اور نہ دعا یاد رہےSheikh Ibrahim Zauq (1790–1854)
  31. دہر میں نقشِ وفا وجہ تسلی نہ ہواہے یہ وہ لفظ کہ شرمندۂ معنی نہ ہواMirza Ghalib (1797–1869)
  32. درخورِ قہر و غضب جب کوئی ہم سا نہ ہواپھر غلط کیا ہے کہ ہم سا کوئی پیدا نہ ہواMirza Ghalib (1797–1869)
  33. ہوئی تاخیر تو کچھ باعثِ تاخیر بھی تھاآپ آتے تھے، مگر کوئی عناں گیر بھی تھاMirza Ghalib (1797–1869)
  34. پھر ہوا وقت کہ ہو بال کُشا موجِ شرابدے بطِ مے کو دل و دستِ شنا موجِ شرابMirza Ghalib (1797–1869)
  35. کب فقیروں کو رسائی بُتِ مے خوار کے پاستونبے بو دیجیے مے خانے کی دیوار کے پاسMirza Ghalib (1797–1869)
  36. مہرباں ہو کے بلا لو مجھے چاہو جس وقتمیں گیا وقت نہیں ہوں کہ پھر آ بھی نہ سکوںMirza Ghalib (1797–1869)
  37. مانع دشت نوردی کوئی تدبیر نہیںایک چکّر ہے مرے پاؤں میں زنجیر نہیںMirza Ghalib (1797–1869)
  38. ذکر میرا بہ بدی بھی، اُسے منظور نہیںغیر کی بات بگڑ جائے تو کچھ دُور نہیںMirza Ghalib (1797–1869)
  39. نالہ جُز حسنِ طلب، اے ستم ایجاد نہیںہے تقاضائے جفا، شکوۂ بیداد نہیںMirza Ghalib (1797–1869)
  40. اپنا احوالِ دلِ زار کہوں یا نہ کہوںہے حیا مانعِ اظہار۔ کہوں یا نہ کہوںMirza Ghalib (1797–1869)
  41. نہ ہوئی گر مرے مرنے سے تسلّی نہ سہیامتحاں اور بھی باقی ہو تو یہ بھی نہ سہیMirza Ghalib (1797–1869)
  42. نکتہ چیں ہے ، غمِ دل اُس کو سُنائے نہ بنےکیا بنے بات ، جہاں بات بنائے نہ بنےMirza Ghalib (1797–1869)
  43. باغ تجھ بن گلِ نرگس سے ڈراتا ہے مجھےچاہوں گر سیرِ چمن آنکھ دکھاتا ہے مجھےMirza Ghalib (1797–1869)
  44. آپ نے مَسَّنی الضُّرُّ کہا ہے تو سہییہ بھی اے حضرتِ ایّوب! گِلا ہے تو سہیMirza Ghalib (1797–1869)
  45. میں ہوں مشتاقِ جفا، مجھ پہ جفا اور سہیتم ہو بیداد سے خوش، اس سے سوا اور سہیMirza Ghalib (1797–1869)
  46. دعویٰٔ عشقِ بتاں سے بہ گلستاں گل و صبحہیں رقیبانہ بہم دست و گریباں گل و صبحMirza Ghalib (1797–1869)
  47. شکلِ طاؤس گرفتار بنایا ہے مجھےہوں وہ گل دام کہ سبزے میں چھپایا ہے مجھےMirza Ghalib (1797–1869)
  48. گریہ سرشاری شوق بہ بیاباں زدہ ہےقطرۂ خونِ جگر چشمکِ طوفاں زدہ ہےMirza Ghalib (1797–1869)
  49. نالے دل کھول کے دو چار کروں یا نہ کروںیہ بھی اے چرخِ ستم گار کروں یا نہ کروںMirza Ghalib (1797–1869)
  50. متفرقاتMirza Ghalib (1797–1869)