Poetry
Ramal Musamman Salim Makhbun Mahzuf
رمل مثمن سالم مخبون محذوف- لب و دنداں کا تمہارے جو ہے دھیاں آٹھ پہرنہیں لگتی مری تالو سے زباں آٹھ پہرQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
- میں کہا ایک ادا کر تو لگا کہنے اوں ہوںدیکھ ٹک آنکھ چرا کر تو لگا کہنے اوں ہوںQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
- ایک تو بیٹھے ہو دل کو مرے کھو اور سنوتس پہ کہتے ہو "دیا ہے تجھے" لو اور سنوMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- بات کو میری الگ ہو کے نہ شرماؤ سنوکچھ کہا چاہوں ہوں میں تم سے ادھر آؤ سنوMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- بوئیے مزرع دل میں جو عنایات کے بیجتو نہ ہوں سبز کبھی اپنی شکایات کے بیجMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- تختۂ آب چمن کیوں نہ نظر آوے سپاٹیاد آوے مجھے جس دم وہ نگمود کا گھاٹMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- جلوہ گر اس کا سراپا ہے بدن آئنے میںنظر آتا ہے ہمیں سرو چمن آئنے میںMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- رات کرتا تھا وہ اک مرغ گرفتار سے بحثمیں بھی تا صبح رکھی بلبل گل زار سے بحثMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- سامنے آنکھوں کے ہر دم تری تمثال ہے آجدل بھرا آئے نہ کیونکر کہ برا حال ہے آجMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- غیر کے گھر تو نہ رہ رات کو مہمان کہیںتا نا اس بات کا چرچا ہو مری جان کہیںMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- کیا میں جاتا ہوں صنم چھٹ ترے در اور کہیںلے قسم مجھ سے جو میرا ہو گزر اور کہیںMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- بات کے ساتھ ہی موجود ہے ٹال ایک نہ ایکہے خلاف اپنے سدا آپ کے چال ایک نہ ایکInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
- چھیڑنے کا تو مزہ جب ہے کہو اور سنوبات میں تم تو خفا ہو گئے لو اور سنوInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
- لو فقیروں کی دعا ہر طرح آباد رہوخود رہو موجیں کرو تازے رہو شاد رہوInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
- وہ پری ہی نہیں کچھ ہو کے کڑی مجھ سے لڑیآنکھ نرگس سے بھی دو چار گھڑی مجھ سے لڑیInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
- اس کے کوچہ میں گیا میں سو پھر آیا نہ گیامیں وہاں آپ کو ڈھونڈا تو میں پایا نہ گیاGhamgeen Dehlvi (1753–1851)
- بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھیجیسی اب ہے تری محفل کبھی ایسی تو نہ تھیBahadur Shah Zafar (1775–1862)
- جب کے رسوا ہوئے انکار ہے سچ بات میں کیااے صنم لطف ہے پردے کی ملاقات میں کیاHaidar Ali Aatish (1778–1847)
- دل شہید رہ دامان نہ ہوا تھا سو ہواٹکڑے ٹکڑے جو گریباں نہ ہوا تھا سو ہواHaidar Ali Aatish (1778–1847)
- دل لگی اپنی ترے ذکر سے کس رات نہ تھیصبح تک شام سے یاہو کے سوا بات نہ تھیHaidar Ali Aatish (1778–1847)
- مئے گل رنگ سے لبریز رہیں جام سفیدچشم بدبیں کو کرے گردش ایام سفیدHaidar Ali Aatish (1778–1847)
- ایک دن وصل سے اپنے مجھے تم شاد کروپھر مری جان جو کچھ چاہو سو بیداد کروMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- پاوے کس طرح کوئی کس کو ہے مقدور ہمیںلے گیا عشق ترا کھینچ بہت دور ہمیںMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- تو نے جو کچھ کہ کیا میرے دل زار کے ساتھآگ نے بھی نہ کیا وہ تو خس و خار کے ساتھMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- دل سلامت اگر اپنا ہے تو دل دار بہتہے یہ وہ جنس کہ جس کے ہیں خریدار بہتMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- زاہد اس راہ نہ آ مست ہیں مے خوار کئیابھی یاں چھین لیے جبہ و دستار کئیMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- بزم میں ذکر مرا لب پہ وہ لائے تو سہیوہیں معلوم کروں ہونٹ ہلائے تو سہیSheikh Ibrahim Zauq (1790–1854)
- چشم قاتل ہمیں کیونکر نہ بھلا یاد رہےموت انسان کو لازم ہے سدا یاد رہےSheikh Ibrahim Zauq (1790–1854)
- کوئی ان تنگ دہانوں سے محبت نہ کرےاور جو یہ تنگ کریں منہ سے شکایت نہ کرےSheikh Ibrahim Zauq (1790–1854)
- مرض عشق جسے ہو اسے کیا یاد رہےنہ دوا یاد رہے اور نہ دعا یاد رہےSheikh Ibrahim Zauq (1790–1854)
- دہر میں نقشِ وفا وجہ تسلی نہ ہواہے یہ وہ لفظ کہ شرمندۂ معنی نہ ہواMirza Ghalib (1797–1869)
- درخورِ قہر و غضب جب کوئی ہم سا نہ ہواپھر غلط کیا ہے کہ ہم سا کوئی پیدا نہ ہواMirza Ghalib (1797–1869)
- ہوئی تاخیر تو کچھ باعثِ تاخیر بھی تھاآپ آتے تھے، مگر کوئی عناں گیر بھی تھاMirza Ghalib (1797–1869)
- پھر ہوا وقت کہ ہو بال کُشا موجِ شرابدے بطِ مے کو دل و دستِ شنا موجِ شرابMirza Ghalib (1797–1869)
- کب فقیروں کو رسائی بُتِ مے خوار کے پاستونبے بو دیجیے مے خانے کی دیوار کے پاسMirza Ghalib (1797–1869)
- مہرباں ہو کے بلا لو مجھے چاہو جس وقتمیں گیا وقت نہیں ہوں کہ پھر آ بھی نہ سکوںMirza Ghalib (1797–1869)
- مانع دشت نوردی کوئی تدبیر نہیںایک چکّر ہے مرے پاؤں میں زنجیر نہیںMirza Ghalib (1797–1869)
- ذکر میرا بہ بدی بھی، اُسے منظور نہیںغیر کی بات بگڑ جائے تو کچھ دُور نہیںMirza Ghalib (1797–1869)
- نالہ جُز حسنِ طلب، اے ستم ایجاد نہیںہے تقاضائے جفا، شکوۂ بیداد نہیںMirza Ghalib (1797–1869)
- اپنا احوالِ دلِ زار کہوں یا نہ کہوںہے حیا مانعِ اظہار۔ کہوں یا نہ کہوںMirza Ghalib (1797–1869)
- نہ ہوئی گر مرے مرنے سے تسلّی نہ سہیامتحاں اور بھی باقی ہو تو یہ بھی نہ سہیMirza Ghalib (1797–1869)
- نکتہ چیں ہے ، غمِ دل اُس کو سُنائے نہ بنےکیا بنے بات ، جہاں بات بنائے نہ بنےMirza Ghalib (1797–1869)
- باغ تجھ بن گلِ نرگس سے ڈراتا ہے مجھےچاہوں گر سیرِ چمن آنکھ دکھاتا ہے مجھےMirza Ghalib (1797–1869)
- آپ نے مَسَّنی الضُّرُّ کہا ہے تو سہییہ بھی اے حضرتِ ایّوب! گِلا ہے تو سہیMirza Ghalib (1797–1869)
- میں ہوں مشتاقِ جفا، مجھ پہ جفا اور سہیتم ہو بیداد سے خوش، اس سے سوا اور سہیMirza Ghalib (1797–1869)
- دعویٰٔ عشقِ بتاں سے بہ گلستاں گل و صبحہیں رقیبانہ بہم دست و گریباں گل و صبحMirza Ghalib (1797–1869)
- شکلِ طاؤس گرفتار بنایا ہے مجھےہوں وہ گل دام کہ سبزے میں چھپایا ہے مجھےMirza Ghalib (1797–1869)
- گریہ سرشاری شوق بہ بیاباں زدہ ہےقطرۂ خونِ جگر چشمکِ طوفاں زدہ ہےMirza Ghalib (1797–1869)
- نالے دل کھول کے دو چار کروں یا نہ کروںیہ بھی اے چرخِ ستم گار کروں یا نہ کروںMirza Ghalib (1797–1869)
- متفرقاتMirza Ghalib (1797–1869)