Poetry
Khafif Musaddas Makhbun Mahzuf Maqtu'
خفیف مسدس مخبون محذوف مقطوع- شیشۂ آتشیں رخِ پُر نورعرق از خط چکیدہ روغنِ مورMirza Ghalib (1797–1869)
- جب کہ سید غلام بابا نےمسند عیش پر جگہ پائیMirza Ghalib (1797–1869)
- اس کتاب طرب نصاب نے جبآب و تاب انطباع کی پائیMirza Ghalib (1797–1869)
- اے شہنشاہ آسماں اورنگاے جہاں دار آفتاب آثارMirza Ghalib (1797–1869)
- در صفت انبہMirza Ghalib (1797–1869)
- ہاں مہ نو سنیں ہم اس کا نامجس کو تو جھک کے کر رہا ہے سلامMirza Ghalib (1797–1869)
- غالبؔ کے کچھ ہنگامی مصرعے اور شعرMirza Ghalib (1797–1869)
- غالبؔ کے کچھ ہنگامی مصرعے اور شعرMirza Ghalib (1797–1869)
- غالبؔ کے کچھ ہنگامی مصرعے اور شعرMirza Ghalib (1797–1869)
- غالبؔ کے کچھ ہنگامی مصرعے اور شعرMirza Ghalib (1797–1869)
- غالبؔ کے کچھ ہنگامی مصرعے اور شعرMirza Ghalib (1797–1869)
- اثر اس کو ذرا نہیں ہوتارنج راحت فزا نہیں ہوتاMomin Khan Momin (1800–1852)
- تم بھی رہنے لگے خفا صاحبکہیں سایہ مرا پڑا صاحبMomin Khan Momin (1800–1852)
- چل پرے ہٹ مجھے نہ دکھلا منہاے شب ہجر تیرا کالا منہMomin Khan Momin (1800–1852)
- شوخ کہتا ہے بے حیا جانادیکھو دشمن نے تم کو کیا جاناMomin Khan Momin (1800–1852)
- صبر وحشت اثر نہ ہو جائےکہیں صحرا بھی گھر نہ ہو جائےMomin Khan Momin (1800–1852)
- غصہ بیگانہ وار ہونا تھابس یہی تجھ سے یار ہونا تھاMomin Khan Momin (1800–1852)
- قہر ہے موت ہے قضا ہے عشقسچ تو یوں ہے بری بلا ہے عشقMomin Khan Momin (1800–1852)
- ہم سمجھتے ہیں آزمانے کوعذر کچھ چاہیئے ستانے کوMomin Khan Momin (1800–1852)
- ہو نہ بیتاب ادا تمہاری آجناز کرتی ہے بے قراری آجMomin Khan Momin (1800–1852)
- ہوئی تاثیر آہ و زاری کیرہ گئی بات بے قراری کیMomin Khan Momin (1800–1852)
- شب جو مسجد میں جا پھنسے مومنؔرات کاٹی خدا خدا کر کےMomin Khan Momin (1800–1852)
- کیا ملا عرض مدعا کر کےبات بھی کھوئی التجا کر کےMomin Khan Momin (1800–1852)
- اُن کو دشمن سے ہے محبت خاصیہ ہمارا ہے ثمرہ اخلاصMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- دل لیا جس نے بے وفائی کیرسم ہے کیا یہ دل ربائی کیMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- محو ہوں میں جو اس ستمگر کاہے گلہ اپنے حالِ ابتر کاMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- ہند کی وہ زمیں ہے عشرت خیزکہ نہ زاہد کریں جہاں پرہیزMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- جب کہ سر پر وبال آتا ہےپیچ میں بال بال آتا ہےImdad Ali Bahr (1810–1878)
- نفس سرکش کو قتل کر اے دلمستعد ہو جہاد پر اے دلImdad Ali Bahr (1810–1878)
- ہم خزاں کی اگر خبر رکھتےآشیانے میں پھول بھر رکھتےImdad Ali Bahr (1810–1878)
- دل مرا خواب گاہ دلبر ہےبس یہی ایک سونے کا گھر ہےLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
- دیں جسے چاہیں دل ہمارا ہےاس میں کیا آپ کا اجارا ہےLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
- تیرے گھر خواب میں گیا تھا غیراپنی آنکھوں سے ہم نے دیکھا ہےLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
- دیکھیے کیا دکھاتی ہے تقدیرچپ کھڑا ہوں گناہ گاروں میںLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
- پھانس لیتی ہے دل سمجھ لیں گےزلف کرتی ہے بل سمجھ لیں گےPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
- در رہا سب پہ جو سخنور ہےشعر تیغ زباں کا جوہر ہےPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
- کیوں خفا رشک حور ہوتا ہےآدمی سے قصور ہوتا ہےPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
- لائے اس بت کو التجا کر کےکفر ٹوٹا خدا خدا کر کےPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
- کعبۂ دل میں رونما ہیں آپبخدا بت نہیں خدا ہیں آپBal Mukund Besabr (1812–1885)
- شب کے ہیں ماہ مہر ہیں دن کےروپ دیکھے بتان کمسن کےMunir Shikohabadi (1814–1880)
- فوج مژگاں کا کچھ ارادہ ہےزلف پیچاں نے لام باندھا ہےMunir Shikohabadi (1814–1880)
- نازک ایسا نہیں کسی کا پیٹمخمل رنگ گل ہے گویا پیٹMunir Shikohabadi (1814–1880)
- آفتاب اب نہیں نکلنے کادور آیا شراب ڈھلنے کاHatim Ali Mehr (1815–1879)
- رنگ صحبت بدلتے جاتے ہیںساتھ کے یار چلتے جاتے ہیںHatim Ali Mehr (1815–1879)
- زلف اندھیر کرنے والی ہےتم نے ناگن بلا کی پالی ہےHatim Ali Mehr (1815–1879)
- سر جھکاتا نہیں کبھی شیشہہم سے کرتا ہے سرکشی شیشہHatim Ali Mehr (1815–1879)
- کوئی لے کر خبر نہیں آتاجو گیا نامہ بر نہیں آتاHatim Ali Mehr (1815–1879)
- نے امیروں میں نے وزیروں میںعشق کے ہم تو ہیں فقیروں میںMaatam Fazl Mohammad (1815–1897)
- جان پر اپنی ہائے کیوں بنتیبات جو مانتے کبھی دل کیGeorge Puech Shor (1823–1894)
- جب جوانی گئی چھڑا کر ہاتھاس پہ پیری نہ کچھ چلی دل کیGeorge Puech Shor (1823–1894)