Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download →

Poetry

Khafif Musaddas Makhbun Mahzuf Maqtu'

خفیف مسدس مخبون محذوف مقطوع
Poet
Meter
Clear
  1. شیشۂ آتشیں رخِ پُر نورعرق از خط چکیدہ روغنِ مورMirza Ghalib (1797–1869)
  2. جب کہ سید غلام بابا نےمسند عیش پر جگہ پائیMirza Ghalib (1797–1869)
  3. اس کتاب طرب نصاب نے جبآب و تاب انطباع کی پائیMirza Ghalib (1797–1869)
  4. اے شہنشاہ آسماں اورنگاے جہاں دار آفتاب آثارMirza Ghalib (1797–1869)
  5. در صفت انبہMirza Ghalib (1797–1869)
  6. ہاں مہ نو سنیں ہم اس کا نامجس کو تو جھک کے کر رہا ہے سلامMirza Ghalib (1797–1869)
  7. غالبؔ کے کچھ ہنگامی مصرعے اور شعرMirza Ghalib (1797–1869)
  8. غالبؔ کے کچھ ہنگامی مصرعے اور شعرMirza Ghalib (1797–1869)
  9. غالبؔ کے کچھ ہنگامی مصرعے اور شعرMirza Ghalib (1797–1869)
  10. غالبؔ کے کچھ ہنگامی مصرعے اور شعرMirza Ghalib (1797–1869)
  11. غالبؔ کے کچھ ہنگامی مصرعے اور شعرMirza Ghalib (1797–1869)
  12. اثر اس کو ذرا نہیں ہوتارنج راحت فزا نہیں ہوتاMomin Khan Momin (1800–1852)
  13. تم بھی رہنے لگے خفا صاحبکہیں سایہ مرا پڑا صاحبMomin Khan Momin (1800–1852)
  14. چل پرے ہٹ مجھے نہ دکھلا منہاے شب ہجر تیرا کالا منہMomin Khan Momin (1800–1852)
  15. شوخ کہتا ہے بے حیا جانادیکھو دشمن نے تم کو کیا جاناMomin Khan Momin (1800–1852)
  16. صبر وحشت اثر نہ ہو جائےکہیں صحرا بھی گھر نہ ہو جائےMomin Khan Momin (1800–1852)
  17. غصہ بیگانہ وار ہونا تھابس یہی تجھ سے یار ہونا تھاMomin Khan Momin (1800–1852)
  18. قہر ہے موت ہے قضا ہے عشقسچ تو یوں ہے بری بلا ہے عشقMomin Khan Momin (1800–1852)
  19. ہم سمجھتے ہیں آزمانے کوعذر کچھ چاہیئے ستانے کوMomin Khan Momin (1800–1852)
  20. ہو نہ بیتاب ادا تمہاری آجناز کرتی ہے بے قراری آجMomin Khan Momin (1800–1852)
  21. ہوئی تاثیر آہ و زاری کیرہ گئی بات بے قراری کیMomin Khan Momin (1800–1852)
  22. شب جو مسجد میں جا پھنسے مومنؔرات کاٹی خدا خدا کر کےMomin Khan Momin (1800–1852)
  23. کیا ملا عرض مدعا کر کےبات بھی کھوئی التجا کر کےMomin Khan Momin (1800–1852)
  24. اُن کو دشمن سے ہے محبت خاصیہ ہمارا ہے ثمرہ اخلاصMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  25. دل لیا جس نے بے وفائی کیرسم ہے کیا یہ دل ربائی کیMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  26. محو ہوں میں جو اس ستمگر کاہے گلہ اپنے حالِ ابتر کاMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  27. ہند کی وہ زمیں ہے عشرت خیزکہ نہ زاہد کریں جہاں پرہیزMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  28. جب کہ سر پر وبال آتا ہےپیچ میں بال بال آتا ہےImdad Ali Bahr (1810–1878)
  29. نفس سرکش کو قتل کر اے دلمستعد ہو جہاد پر اے دلImdad Ali Bahr (1810–1878)
  30. ہم خزاں کی اگر خبر رکھتےآشیانے میں پھول بھر رکھتےImdad Ali Bahr (1810–1878)
  31. دل مرا خواب گاہ دلبر ہےبس یہی ایک سونے کا گھر ہےLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
  32. دیں جسے چاہیں دل ہمارا ہےاس میں کیا آپ کا اجارا ہےLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
  33. تیرے گھر خواب میں گیا تھا غیراپنی آنکھوں سے ہم نے دیکھا ہےLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
  34. دیکھیے کیا دکھاتی ہے تقدیرچپ کھڑا ہوں گناہ گاروں میںLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
  35. پھانس لیتی ہے دل سمجھ لیں گےزلف کرتی ہے بل سمجھ لیں گےPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
  36. در رہا سب پہ جو سخنور ہےشعر تیغ زباں کا جوہر ہےPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
  37. کیوں خفا رشک حور ہوتا ہےآدمی سے قصور ہوتا ہےPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
  38. لائے اس بت کو التجا کر کےکفر ٹوٹا خدا خدا کر کےPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
  39. کعبۂ دل میں رونما ہیں آپبخدا بت نہیں خدا ہیں آپBal Mukund Besabr (1812–1885)
  40. شب کے ہیں ماہ مہر ہیں دن کےروپ دیکھے بتان کمسن کےMunir Shikohabadi (1814–1880)
  41. فوج مژگاں کا کچھ ارادہ ہےزلف پیچاں نے لام باندھا ہےMunir Shikohabadi (1814–1880)
  42. نازک ایسا نہیں کسی کا پیٹمخمل رنگ گل ہے گویا پیٹMunir Shikohabadi (1814–1880)
  43. آفتاب اب نہیں نکلنے کادور آیا شراب ڈھلنے کاHatim Ali Mehr (1815–1879)
  44. رنگ صحبت بدلتے جاتے ہیںساتھ کے یار چلتے جاتے ہیںHatim Ali Mehr (1815–1879)
  45. زلف اندھیر کرنے والی ہےتم نے ناگن بلا کی پالی ہےHatim Ali Mehr (1815–1879)
  46. سر جھکاتا نہیں کبھی شیشہہم سے کرتا ہے سرکشی شیشہHatim Ali Mehr (1815–1879)
  47. کوئی لے کر خبر نہیں آتاجو گیا نامہ بر نہیں آتاHatim Ali Mehr (1815–1879)
  48. نے امیروں میں نے وزیروں میںعشق کے ہم تو ہیں فقیروں میںMaatam Fazl Mohammad (1815–1897)
  49. جان پر اپنی ہائے کیوں بنتیبات جو مانتے کبھی دل کیGeorge Puech Shor (1823–1894)
  50. جب جوانی گئی چھڑا کر ہاتھاس پہ پیری نہ کچھ چلی دل کیGeorge Puech Shor (1823–1894)