Poetry
- آ گئی پھر ان کو میری یاد کیاکر لیا تازہ ستم ایجاد کیاZafar Naseemi (b. 1931)
- اب تو جگنو بھی نہیں راہ دکھانے والاشہر میں قید ہوا گاؤں سے آنے والاZafar Naseemi (b. 1931)
- اس نے کچھ مجھ سے کہا تھا شایدیا مجھے وہم ہوا تھا شایدZafar Naseemi (b. 1931)
- جذبۂ عشق کا معیار سنبھالے ہوئے ہیںآج تک ہم رسن و دار سنبھالے ہوئے ہیںZafar Naseemi (b. 1931)
- رسوائی کے خیال سے ڈر تو نہیں گئےوہ راستہ بدل کے گزر تو نہیں گئےZafar Naseemi (b. 1931)
- روایت تھی یہ سمجھوتا نہیں تھامیں سب کا تھا کوئی میرا نہیں تھاZafar Naseemi (b. 1931)
- روح شاداب دل غنی کر لوہم فقیروں سے دوستی کر لوZafar Naseemi (b. 1931)
- زندگی سے امید راحت کیازندہ رہنے کی بھی ضمانت کیاZafar Naseemi (b. 1931)
- شجر بولتے ہیں حجر بولتے ہیںسفر میں مرے ہم سفر بولتے ہیںZafar Naseemi (b. 1931)
- عجیب لطف محبت کی داستان میں ہےوفا کا تذکرہ دنیا کی ہر زبان میں ہےZafar Naseemi (b. 1931)
- عشق میں برباد ہونے پر پشیمانی تو ہےپھر بھی میری قدر و قیمت اس نے پہچانی تو ہےZafar Naseemi (b. 1931)
- میں نئے عزم سفر سے نکلاسر پہ سورج لئے گھر سے نکلاZafar Naseemi (b. 1931)
- نوک قلم کو جرأت اظہار دے گیایہ کون میرے ہاتھ میں تلوار دے گیاZafar Naseemi (b. 1931)
- نہ چھیڑ نام و نسب اور نسل و رنگ کی باتکہ چل نکلتی ہے اکثر یہیں سے جنگ کی باتZafar Naseemi (b. 1931)
- ہائے کیا پر فریب سازش ہےشہر کا شہر نذر آتش ہےZafar Naseemi (b. 1931)
- میں ایک بار زہر بھی پی لوں گا شوق سےقسطوں میں زہر پینے کی زحمت مگر نہ دےZafar Naseemi (b. 1931)