Poetry
- آتے رہتے ہیں فلک سے بھی اشارے کچھ نہ کچھبات کر لیتے ہیں ہم سے چاند تارے کچھ نہ کچھYasmeen Habeeb
- ابھی گزرے دنوں کی کچھ صدائیں شور کرتی ہیںدریچے بند رہنے دو، ہوائیں شور کرتی ہیںYasmeen Habeeb
- اک دل میں تھا اک سامنے دریا اسے کہناممکن تھا کہاں پار اترنا اسے کہناYasmeen Habeeb
- تمہارے وصل کا بس انتظار باقی ہےمیں رنگ رنگ ہوں لیکن سنگھار باقی ہےYasmeen Habeeb
- جنہیں نگاہ اٹھانے میں بھی زمانے لگےوہ جا بجا مری تصویر کیوں سجانے لگےYasmeen Habeeb
- جو چلا گیا سو چلا گیا جو ہے پاس اس کا خیال رکھجو لٹا دیا اسے بھول جا جو بچا ہے اس کو سنبھال رکھYasmeen Habeeb
- کسی کشش کے کسی سلسلے کا ہونا تھاہمیں بھی آخرش اک دائرے کا ہونا تھاYasmeen Habeeb
- کسی کے ساتھ کیا نسبت ہوئی تھیمیں اپنے آپ سے رخصت ہوئی تھیYasmeen Habeeb
- لمس تشنہ لبی سے گزری ہےرات کس جاں کنی سے گزری ہےYasmeen Habeeb
- مجھ کو اتار حرف میں جان غزل بنا مجھےمیری ہی بات مجھ سے کر میرا کہا سنا مجھےYasmeen Habeeb
- وقت بس رینگتا ہے عمر کے ساتھتارہ تارہ گنا ہے عمر کے ساتھYasmeen Habeeb
- وہ زخم پھر سے ہرا ہے نشاں نہ تھا جس کاہوئی ہے رات وہ بارش گماں نہ تھا جس کاYasmeen Habeeb
- یہ کمرہ اور یہ گرد و غبار اس کا ہےوہ جس نے آنا نہیں انتظار اس کا ہےYasmeen Habeeb