Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. اب تو جینے کی کوئی راہ نہیںاپنے ہی شہر میں پناہ نہیںUmar Quraishi (1924–2010)
  2. اب تو دراز ایک بھی دست دعا نہیںسب ہیں خدا یہاں پہ کوئی نا خدا نہیںUmar Quraishi (1924–2010)
  3. بے وفا وعدہ شکن اور ستم گر نکلامیں نے سمجھا تھا جسے پھول وہ پتھر نکلاUmar Quraishi (1924–2010)
  4. پھول وہ دے کر مجھے کانٹوں کا گلشن دے گیاایک لمحے کا سکوں صدیوں کی الجھن دے گیاUmar Quraishi (1924–2010)
  5. پیکر لالہ و گل ہے اسے پتھر نہ کہووہ ہے محبوب مرا اس کو ستم گر نہ کہوUmar Quraishi (1924–2010)
  6. جذبۂ شوق کا اظہار کروں یا نہ کروںدل کو رسوا سر بازار کروں یا نہ کروںUmar Quraishi (1924–2010)
  7. چلائے تیر ہیں کتنے جواب دیتا جاہمارے زخموں کا کچھ تو حساب دیتا جاUmar Quraishi (1924–2010)
  8. داستاں عشق کی انجام تک آ پہنچی ہےبات اب حسرت ناکام تک آ پہنچی ہےUmar Quraishi (1924–2010)
  9. غم حیات ہے فکر معاش سے لوگوہمیں تو صدیوں سے اپنی تلاش ہے لوگوUmar Quraishi (1924–2010)
  10. فریب‌ وقت نہ کر خود سری کی بات نہ کرتو ایک لمحہ ہے مجھ سے صدی کی بات نہ کرUmar Quraishi (1924–2010)
  11. مانجھی تری کشتی کے طلب گار بہت ہیںکچھ لوگ ہیں اس پار تو اس پار بہت ہیںUmar Quraishi (1924–2010)
  12. وحشت کے سوا کچھ نہ ملا در بدری سےباز آئے محبت کی ہم آشفتہ سری سےUmar Quraishi (1924–2010)
  13. یہ مرے جذب محبت کی پذیرائی ہےوہ بھی کہنے لگے دیوانہ ہے سودائی ہےUmar Quraishi (1924–2010)