Poetry
- اب تو جینے کی کوئی راہ نہیںاپنے ہی شہر میں پناہ نہیںUmar Quraishi (1924–2010)
- اب تو دراز ایک بھی دست دعا نہیںسب ہیں خدا یہاں پہ کوئی نا خدا نہیںUmar Quraishi (1924–2010)
- بے وفا وعدہ شکن اور ستم گر نکلامیں نے سمجھا تھا جسے پھول وہ پتھر نکلاUmar Quraishi (1924–2010)
- پھول وہ دے کر مجھے کانٹوں کا گلشن دے گیاایک لمحے کا سکوں صدیوں کی الجھن دے گیاUmar Quraishi (1924–2010)
- پیکر لالہ و گل ہے اسے پتھر نہ کہووہ ہے محبوب مرا اس کو ستم گر نہ کہوUmar Quraishi (1924–2010)
- جذبۂ شوق کا اظہار کروں یا نہ کروںدل کو رسوا سر بازار کروں یا نہ کروںUmar Quraishi (1924–2010)
- چلائے تیر ہیں کتنے جواب دیتا جاہمارے زخموں کا کچھ تو حساب دیتا جاUmar Quraishi (1924–2010)
- داستاں عشق کی انجام تک آ پہنچی ہےبات اب حسرت ناکام تک آ پہنچی ہےUmar Quraishi (1924–2010)
- غم حیات ہے فکر معاش سے لوگوہمیں تو صدیوں سے اپنی تلاش ہے لوگوUmar Quraishi (1924–2010)
- فریب وقت نہ کر خود سری کی بات نہ کرتو ایک لمحہ ہے مجھ سے صدی کی بات نہ کرUmar Quraishi (1924–2010)
- مانجھی تری کشتی کے طلب گار بہت ہیںکچھ لوگ ہیں اس پار تو اس پار بہت ہیںUmar Quraishi (1924–2010)
- وحشت کے سوا کچھ نہ ملا در بدری سےباز آئے محبت کی ہم آشفتہ سری سےUmar Quraishi (1924–2010)
- یہ مرے جذب محبت کی پذیرائی ہےوہ بھی کہنے لگے دیوانہ ہے سودائی ہےUmar Quraishi (1924–2010)