Poetry
- اپنی بستی میں اندھیرا نہیں ہونے دیں گےجیسا تم چاہو گے ویسا نہیں ہونے دیں گےUmair Ali Anjum (b. 1987)
- ترے ہجر نے جو ستم کیا کوئی دیکھتامری وحشتیں مرا رتجگا کوئی دیکھتاUmair Ali Anjum (b. 1987)
- تو مرے سامنے ہنستا بھی ہے روتا بھی ہےکیا ترے دل میں کوئی میرے علاوہ بھی ہےUmair Ali Anjum (b. 1987)
- چھوٹی سی بات پر ترا لہجہ بدل گیاتو دیکھتے ہی دیکھتے کیسا بدل گیاUmair Ali Anjum (b. 1987)
- روز کٹتے ہیں یہاں ہاتھ کمانے والےجینے دیتے نہیں مفلس کو زمانے والےUmair Ali Anjum (b. 1987)
- سن رہا ہوں قربتوں میں فاصلہ ہونے کو ہےاس قدر تو ہو گیا اب اور کیا ہونے کو ہےUmair Ali Anjum (b. 1987)
- گردش وقت کا منظر نہیں دیکھا جاتایار کے ہاتھ میں خنجر نہیں دیکھا جاتاUmair Ali Anjum (b. 1987)
- مری حیات کو یوں پائمال اس نے کیاکہ میرا درد سے رشتہ بحال اس نے کیاUmair Ali Anjum (b. 1987)
- مرے ہم سخن مرے ہم نوا تری خیر ہوتو وصال رت میں جدا ہوا تری خیر ہوUmair Ali Anjum (b. 1987)
- میرے ہی آنسوؤں کے شکستہ بہاؤ پرمجھ کو بٹھا گیا کوئی کاغذ کی ناؤ پرUmair Ali Anjum (b. 1987)
- ہم نے یوں خود سے ترا ذکر کیا شام کے بعدجیسے گلشن میں چلے سرد ہوا شام کے بادUmair Ali Anjum (b. 1987)
- یہاں تو پون صدی سے یہی کہانی ہےاصول مر گئے طاقت کی حکمرانی ہےUmair Ali Anjum (b. 1987)