Poetry
- جس روز دھوپ نکلیاور لوگ اپنے اپنےTabassum Kashmiri (b. 1940)
- چھٹی بار جب میں نے دروازہ کھولاتو اک چیخ میرے بدن کے مساموں سے چمٹیTabassum Kashmiri (b. 1940)
- رات بھر کتا اس کے پیٹ میں بھونک رہا تھاکیسی کیسی آوازیں تھیںTabassum Kashmiri (b. 1940)
- رات کے معدے میں کاری زہر ہے جلتا ہے جس سے تن بدن میرامیں کب سے چیختا ہوں درد سے چلاتا پھرتا ہوںTabassum Kashmiri (b. 1940)
- میں نے آشاؤں کی آنکھیںچہرے ہونٹ اور نیلے بازوTabassum Kashmiri (b. 1940)
- بارشیں اس کے بدن پرزور سے گرتی رہیںTabassum Kashmiri (b. 1940)
- اداسیوں کی رت بھی کیا عجیب ہےکوئی نہ میرے پاس ہےTabassum Kashmiri (b. 1940)
- اگر مجھ سے ملنا ہے آؤ ملو تممگر یاد رکھناTabassum Kashmiri (b. 1940)
- زوال کے آسمانوں میں لڑکھڑاتےاندھیرے خلاؤں کی دنیاؤں میں معلق ہوتےTabassum Kashmiri (b. 1940)
- مجھے لگتا ہےزمین کے کسی گمنام منطقے میںTabassum Kashmiri (b. 1940)
- میں نے زمیں کی تپتی رگوں پہ ہاتھ دھرے ہیںمیں نے زمیں کی تپتی رگوں سےTabassum Kashmiri (b. 1940)
- نیلے سایوں کی رات تھی وہوہ ساحل شب پہ سو گئی تھیTabassum Kashmiri (b. 1940)
- وادی کی سب سے لمبی لڑکی کے جسم کے سب مساموں سےریشم سے زیادہ ملائم اور نرم خموشی میںTabassum Kashmiri (b. 1940)
- وہ ایک شب تھی سفید گلابوں والے تالاب کے بالکل نزدیکبادلوں کی پہلی آہٹ پرTabassum Kashmiri (b. 1940)
- ہم شوریدہ کڑوے تلخ کسیلے ذائقےرات کی پر شہوت آنکھوں سے ٹپکے تازہ قطرےTabassum Kashmiri (b. 1940)
- یہاں اب ایک تارہزرد تارہ بھی نہیں باقیTabassum Kashmiri (b. 1940)