Poetry
- آج انکار نہ فرمائیے آپشب کی شب گھر مرے رہ جائیے آپرند لکھنوی
- اللہ کے بھی گھر سے ہے کوئے بتاں عزیزکعبہ سے بھی زیادہ ہے ہندوستاں عزیزرند لکھنوی
- تو آپ کو پوشیدہ و اخفا نہ سمجھنامیں دیکھ رہا ہوں مجھے اندھا نہ سمجھنارند لکھنوی
- توبہ کا پاس رند مے آشام ہو چکابس ہو چکا تقدس اسلام ہو چکارند لکھنوی
- تہمت حسرت پرواز نہ مجھ پر باندھےوجہ کیا کھول کے صیاد نے پھر پر باندھےرند لکھنوی
- جلن دل کی لکھیں جو ہم دل جلےزبان قلم میں پڑیں آبلےرند لکھنوی
- چڑھی تیرے بیمار فرقت کو تب ہےبشدت قلق ہے نہایت تعب ہےرند لکھنوی
- چھپ کے گھر غیر کے جایا نہ کروربط ہر اک سے بڑھایا نہ کرورند لکھنوی
- خاموش داب عشق کو بلبل لیے ہوئےگل مست ہے چمن میں پیالہ پیے ہوئےرند لکھنوی
- دل کس سے لگاؤں کہیں دلبر نہیں ملتاکیا ظلم سہوں کوئی ستم گر نہیں ملتارند لکھنوی
- دل لگی غیروں سے بے جا ہے مری جاں چھوڑ دےمان کہنا تیرے صدقے تیرے قرباں چھوڑ دےرند لکھنوی
- دید گل زار جہاں کیوں نہ کریں سیر تو ہےایک دن جانتے ہیں خاتمہ بالخیر تو ہےرند لکھنوی
- رکھو خدمت میں مجھ سے کام تو لوبات کرتے نہیں سلام تو لورند لکھنوی
- زلفیں چھوڑیں ہیں کہ جوڑا اس نے چھوڑا سانپ کادیکھیے کس کس کو ڈستا ہے یہ جوڑا سانپ کارند لکھنوی
- عدو غیر نے تجھ کو دلبر بنایاکوئی جوڑ مجھ پر مقرر بنایارند لکھنوی
- قبر پر ہوویں دو نہ چار درختایک کافی ہے سایہ دار درخترند لکھنوی
- گلے لگائیں بلائیں لیں تم کو پیار کریںجو بات مانو تو منت ہزار بار کریںرند لکھنوی
- مجھ بلانوش کو تلچھٹ بھی ہے کافی ساقیبھر دے چلو میں جو ہو شیشے میں باقی ساقیرند لکھنوی
- مجھے دے کے دل جان کھونا پڑا ہےغرض ہاتھ دونوں سے دھونا پڑا ہےرند لکھنوی
- منہ نہ ڈھانکو اب تو صورت دیکھ لیدیکھ لی اے حور طلعت دیکھ لیرند لکھنوی
- نہ انگیا نہ کرتی ہے جانی تمہارینہیں پاس کوئی نشانی تمہاریرند لکھنوی
- نہیں قول سے فعل تیرے مطابقکہوں کس طرح تجھ کو اے یار صادقرند لکھنوی
- نیست بے یار مجھ کو ہستی ہےشہر ویراں اجاڑ بستی ہےرند لکھنوی
- وقار شاہ ذوی الاقتدار دیکھ چکےظہور قدرت پروردگار دیکھ چکےرند لکھنوی
- ہیں یہ سارے جیتے جی کے واسطےکون مرتا ہے کسی کے واسطےرند لکھنوی
- یار آیا ہے احوال دل زار دکھاؤعیسیٰ کو ذرا حالت بیمار دکھاؤرند لکھنوی
- بس اب آپ تشریف لے جائیےجو گزرے گی مجھ پر گزر جائے گیرند لکھنوی
- آفت شب تنہائی کی ٹل جائے تو اچھاگھبرا کے جو دم آج نکل جائے تو اچھارند لکھنوی
- اک پری کا پھر مجھے شیدا کیاعشق نے پھر مفسدہ برپا کیارند لکھنوی
- الفت نہ کروں گا اب کسی کیدشمن ہوا جس سے دوستی کیرند لکھنوی
- چلتی رہی اس کوچے میں تلوار ہمیشہلاشے ہی نکلتے رہے دو چار ہمیشہرند لکھنوی
- حیران سی ہے بھچک رہی ہےنرگس کس گل کو تک رہی ہےرند لکھنوی
- زمانے میں وہ مہ لقا ایک ہےہزاروں میں وہ دل ربا ایک ہےرند لکھنوی
- ساتوں فلک کیے تہ و بالا نکل گیاآخر شب فراق میں نالہ نکل گیارند لکھنوی
- سائلانہ ان کے در پر جب مرا جانا ہواہنس کے بولے شاہ صاحب کس طرف آنا ہوارند لکھنوی
- صدمے گزرے ایذا گزریہجر میں تیرے کیا کیا گزریرند لکھنوی
- کیوں کر نہ لائے رنگ گلستاں نئے نئےگاتے ہیں راگ مرغ خوش الحاں نئے نئےرند لکھنوی