Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آج انکار نہ فرمائیے آپشب کی شب گھر مرے رہ جائیے آپرند لکھنوی
  2. اللہ کے بھی گھر سے ہے کوئے بتاں عزیزکعبہ سے بھی زیادہ ہے ہندوستاں عزیزرند لکھنوی
  3. تو آپ کو پوشیدہ و اخفا نہ سمجھنامیں دیکھ رہا ہوں مجھے اندھا نہ سمجھنارند لکھنوی
  4. توبہ کا پاس رند مے آشام ہو چکابس ہو چکا تقدس اسلام ہو چکارند لکھنوی
  5. تہمت حسرت پرواز نہ مجھ پر باندھےوجہ کیا کھول کے صیاد نے پھر پر باندھےرند لکھنوی
  6. جلن دل کی لکھیں جو ہم دل جلےزبان قلم میں پڑیں آبلےرند لکھنوی
  7. چڑھی تیرے بیمار فرقت کو تب ہےبشدت قلق ہے نہایت تعب ہےرند لکھنوی
  8. چھپ کے گھر غیر کے جایا نہ کروربط ہر اک سے بڑھایا نہ کرورند لکھنوی
  9. خاموش داب عشق کو بلبل لیے ہوئےگل مست ہے چمن میں پیالہ پیے ہوئےرند لکھنوی
  10. دل کس سے لگاؤں کہیں دلبر نہیں ملتاکیا ظلم سہوں کوئی ستم گر نہیں ملتارند لکھنوی
  11. دل لگی غیروں سے بے جا ہے مری جاں چھوڑ دےمان کہنا تیرے صدقے تیرے قرباں چھوڑ دےرند لکھنوی
  12. دید گل زار جہاں کیوں نہ کریں سیر تو ہےایک دن جانتے ہیں خاتمہ بالخیر تو ہےرند لکھنوی
  13. رکھو خدمت میں مجھ سے کام تو لوبات کرتے نہیں سلام تو لورند لکھنوی
  14. زلفیں چھوڑیں ہیں کہ جوڑا اس نے چھوڑا سانپ کادیکھیے کس کس کو ڈستا ہے یہ جوڑا سانپ کارند لکھنوی
  15. عدو غیر نے تجھ کو دلبر بنایاکوئی جوڑ مجھ پر مقرر بنایارند لکھنوی
  16. قبر پر ہوویں دو نہ چار درختایک کافی ہے سایہ دار درخترند لکھنوی
  17. گلے لگائیں بلائیں لیں تم کو پیار کریںجو بات مانو تو منت ہزار بار کریںرند لکھنوی
  18. مجھ بلانوش کو تلچھٹ بھی ہے کافی ساقیبھر دے چلو میں جو ہو شیشے میں باقی ساقیرند لکھنوی
  19. مجھے دے کے دل جان کھونا پڑا ہےغرض ہاتھ دونوں سے دھونا پڑا ہےرند لکھنوی
  20. منہ نہ ڈھانکو اب تو صورت دیکھ لیدیکھ لی اے حور طلعت دیکھ لیرند لکھنوی
  21. نہ انگیا نہ کرتی ہے جانی تمہارینہیں پاس کوئی نشانی تمہاریرند لکھنوی
  22. نہیں قول سے فعل تیرے مطابقکہوں کس طرح تجھ کو اے یار صادقرند لکھنوی
  23. نیست بے یار مجھ کو ہستی ہےشہر ویراں اجاڑ بستی ہےرند لکھنوی
  24. وقار شاہ ذوی الاقتدار دیکھ چکےظہور قدرت پروردگار دیکھ چکےرند لکھنوی
  25. ہیں یہ سارے جیتے جی کے واسطےکون مرتا ہے کسی کے واسطےرند لکھنوی
  26. یار آیا ہے احوال دل زار دکھاؤعیسیٰ کو ذرا حالت بیمار دکھاؤرند لکھنوی
  27. بس اب آپ تشریف لے جائیےجو گزرے گی مجھ پر گزر جائے گیرند لکھنوی
  28. آفت شب تنہائی کی ٹل جائے تو اچھاگھبرا کے جو دم آج نکل جائے تو اچھارند لکھنوی
  29. اک پری کا پھر مجھے شیدا کیاعشق نے پھر مفسدہ برپا کیارند لکھنوی
  30. الفت نہ کروں گا اب کسی کیدشمن ہوا جس سے دوستی کیرند لکھنوی
  31. چلتی رہی اس کوچے میں تلوار ہمیشہلاشے ہی نکلتے رہے دو چار ہمیشہرند لکھنوی
  32. حیران سی ہے بھچک رہی ہےنرگس کس گل کو تک رہی ہےرند لکھنوی
  33. زمانے میں وہ مہ لقا ایک ہےہزاروں میں وہ دل ربا ایک ہےرند لکھنوی
  34. ساتوں فلک کیے تہ و بالا نکل گیاآخر شب فراق میں نالہ نکل گیارند لکھنوی
  35. سائلانہ ان کے در پر جب مرا جانا ہواہنس کے بولے شاہ صاحب کس طرف آنا ہوارند لکھنوی
  36. صدمے گزرے ایذا گزریہجر میں تیرے کیا کیا گزریرند لکھنوی
  37. کیوں کر نہ لائے رنگ گلستاں نئے نئےگاتے ہیں راگ مرغ خوش الحاں نئے نئےرند لکھنوی