Poetry
- آتا نہیں ہے اب کسی دم ساز کا خیالدل میں بسا گیا وہ اس انداز کا خیالRabab Rashidi
- اپنی خوش ذوقی پہ اک الزام ہو کر رہ گئےنام والے تھے برائے نام ہو کر رہ گئےRabab Rashidi
- تجھ سے جب تک اس طرح اپنی شناسائی نہ تھیاپنے گھر جیسی تو صحرا میں بھی تنہائی نہ تھیRabab Rashidi
- تیز ہوائیں ہیں غم کیخیر مناؤ موسم کیRabab Rashidi
- جب بھی گزرے ہوئے لمحات کو دہراتے ہیںہم خود اپنے ہی خیالوں میں الجھ جاتے ہیںRabab Rashidi
- جب کبھی قافلۂ ابر رواں ہوتا ہےشاخ در شاخ اک احساس جواں ہوتا ہےRabab Rashidi
- دھوپ رخصت ہوئی شام آئی ستارا چمکاگرد جب بیٹھ گئی نام تمہارا چمکاRabab Rashidi
- کبھی بہار بنے اور سنور گئے ہم لوگکبھی غبار کی صورت بکھر گئے ہم لوگRabab Rashidi
- کوئی بھی عقدہ کشائے خود آگہی نہ ملامیں اپنے آپ سے بھی آج تک کبھی نہ ملاRabab Rashidi
- وہ اور ہیں جنہیں احساس تیرگی ہے بہتیہاں تو ٹوٹتے لمحوں کی روشنی ہے بہتRabab Rashidi
- یاد ماضی کہ مری لغزش پا ہو جیسےاور یہ کرب کا احساس سزا ہو جیسےRabab Rashidi
- یہ تجربہ بھی ہے ہم نے فقط سنا ہی نہیںگمان شوق سے بڑھ کر یقیں ہوا ہی نہیںRabab Rashidi