Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آرزو ناکام ہو کر رہ گئی ہےزندگی الزام ہو کر رہ گئی ہےQaisar Siddiqi (1937–2018)
  2. آؤ ہم تم عشق کے اظہار کی باتیں کریںڈال کر بانہوں میں باہیں پیار کی باتیں کریںQaisar Siddiqi (1937–2018)
  3. اک بھیڑ ہے جلووں کی اور میری نظر تنہاہے آئنہ خانے میں خود آئینہ گر تنہاQaisar Siddiqi (1937–2018)
  4. انا کو اپنے ہی ہاتھوں سے قتل کر جاتااگر میں ٹوٹ نہ جاتا بکھر بکھر جاتاQaisar Siddiqi (1937–2018)
  5. تم خواب میں آؤ گے یہ معلوم نہیں تھاپھر خواب دکھاؤ گے یہ معلوم نہیں تھاQaisar Siddiqi (1937–2018)
  6. تیرے لہجے کا تری بات کا آئینہ ہےمیرا ہر شعر تری ذات کا آئینہ ہےQaisar Siddiqi (1937–2018)
  7. جب بھی مجھ کو اپنا بچپن یاد آتا ہےبچپن کے اک پیار کا بچپن یاد آتا ہےQaisar Siddiqi (1937–2018)
  8. جب تری یادوں کی پروائی غزل گاتی ہےپھول کھل اٹھتے ہیں تنہائی غزل گاتی ہےQaisar Siddiqi (1937–2018)
  9. خواب جو دیکھے ہیں میں نے انہیں پیکر دے گامیرا صحرا مجھے اک روز سمندر دے گاQaisar Siddiqi (1937–2018)
  10. رشتہ کیسے ٹوٹتا ہے خواب سے تعبیر کاآؤ دکھلاؤں تمہیں یہ کھیل بھی تقدیر کاQaisar Siddiqi (1937–2018)
  11. روشنی صبح کی یا شب کی سیاہی دیں گےجو بھی دینا ہے تمہیں ظل الٰہی دیں گےQaisar Siddiqi (1937–2018)
  12. رہ حیات کو آساں بنا سکو تو چلوہمارا ساتھ اگر تم نبھا سکو تو چلوQaisar Siddiqi (1937–2018)
  13. زلفوں کے سائے میں آ کر چین ملا ہے پہلی بارمیری پیاسی آنکھوں نے دریا دیکھا ہے پہلی بارQaisar Siddiqi (1937–2018)
  14. عالم بے چہرگی میں کون کس کا آشناآج کا ہر لفظ ہے مفہوم سے نا آشناQaisar Siddiqi (1937–2018)
  15. فضاؤں سے گزرتا جا رہا ہوںخلاؤں میں بکھرتا جا رہا ہوںQaisar Siddiqi (1937–2018)
  16. کیا چیز ہے عذر لب اظہار کا سایہاقرار کا سایہ کبھی انکار کا سایہQaisar Siddiqi (1937–2018)
  17. کیوں نہ افسانۂ غم کیف کا عنواں ٹھہرےشدت درد ہی جب درد کا درماں ٹھہرےQaisar Siddiqi (1937–2018)
  18. من بھی شاعر کی طرح تن بھی غزل جیسا ہےیہ ترے روپ کا درپن بھی غزل جیسا ہےQaisar Siddiqi (1937–2018)
  19. منہ پھیر کر وہ سب سے گیا بھی تو کیا گیاکم بخت سارے شہر کو پاگل بنا گیاQaisar Siddiqi (1937–2018)
  20. میرے بعد اور کوئی مجھ سا نہ آیا ہوگااس کے دروازے پہ اب تک مرا سایہ ہوگاQaisar Siddiqi (1937–2018)
  21. وہ رخصت کی گھڑی وہ دیدۂ نم یاد آتے ہیںنہ جانے آج کیوں بھولے ہوئے غم یاد آتے ہیںQaisar Siddiqi (1937–2018)
  22. یوں دل دیوانہ کو اکثر سزا دیتا ہوں میںاپنی بربادی پہ خود ہی مسکرا دیتا ہوں میںQaisar Siddiqi (1937–2018)
  23. یہ کیسے جانتا گر شہر میں آیا نہیں ہوتایہاں دیوار ہوتی ہے مگر سایہ نہیں ہوتاQaisar Siddiqi (1937–2018)
  24. کہاں ہو غالبوؔ، میروؔ نظیروؔکہاں ہو میری زلفوں کے اسیروQaisar Siddiqi (1937–2018)