Poetry
- آرزو ناکام ہو کر رہ گئی ہےزندگی الزام ہو کر رہ گئی ہےQaisar Siddiqi (1937–2018)
- آؤ ہم تم عشق کے اظہار کی باتیں کریںڈال کر بانہوں میں باہیں پیار کی باتیں کریںQaisar Siddiqi (1937–2018)
- اک بھیڑ ہے جلووں کی اور میری نظر تنہاہے آئنہ خانے میں خود آئینہ گر تنہاQaisar Siddiqi (1937–2018)
- انا کو اپنے ہی ہاتھوں سے قتل کر جاتااگر میں ٹوٹ نہ جاتا بکھر بکھر جاتاQaisar Siddiqi (1937–2018)
- تم خواب میں آؤ گے یہ معلوم نہیں تھاپھر خواب دکھاؤ گے یہ معلوم نہیں تھاQaisar Siddiqi (1937–2018)
- تیرے لہجے کا تری بات کا آئینہ ہےمیرا ہر شعر تری ذات کا آئینہ ہےQaisar Siddiqi (1937–2018)
- جب بھی مجھ کو اپنا بچپن یاد آتا ہےبچپن کے اک پیار کا بچپن یاد آتا ہےQaisar Siddiqi (1937–2018)
- جب تری یادوں کی پروائی غزل گاتی ہےپھول کھل اٹھتے ہیں تنہائی غزل گاتی ہےQaisar Siddiqi (1937–2018)
- خواب جو دیکھے ہیں میں نے انہیں پیکر دے گامیرا صحرا مجھے اک روز سمندر دے گاQaisar Siddiqi (1937–2018)
- رشتہ کیسے ٹوٹتا ہے خواب سے تعبیر کاآؤ دکھلاؤں تمہیں یہ کھیل بھی تقدیر کاQaisar Siddiqi (1937–2018)
- روشنی صبح کی یا شب کی سیاہی دیں گےجو بھی دینا ہے تمہیں ظل الٰہی دیں گےQaisar Siddiqi (1937–2018)
- رہ حیات کو آساں بنا سکو تو چلوہمارا ساتھ اگر تم نبھا سکو تو چلوQaisar Siddiqi (1937–2018)
- زلفوں کے سائے میں آ کر چین ملا ہے پہلی بارمیری پیاسی آنکھوں نے دریا دیکھا ہے پہلی بارQaisar Siddiqi (1937–2018)
- عالم بے چہرگی میں کون کس کا آشناآج کا ہر لفظ ہے مفہوم سے نا آشناQaisar Siddiqi (1937–2018)
- فضاؤں سے گزرتا جا رہا ہوںخلاؤں میں بکھرتا جا رہا ہوںQaisar Siddiqi (1937–2018)
- کیا چیز ہے عذر لب اظہار کا سایہاقرار کا سایہ کبھی انکار کا سایہQaisar Siddiqi (1937–2018)
- کیوں نہ افسانۂ غم کیف کا عنواں ٹھہرےشدت درد ہی جب درد کا درماں ٹھہرےQaisar Siddiqi (1937–2018)
- من بھی شاعر کی طرح تن بھی غزل جیسا ہےیہ ترے روپ کا درپن بھی غزل جیسا ہےQaisar Siddiqi (1937–2018)
- منہ پھیر کر وہ سب سے گیا بھی تو کیا گیاکم بخت سارے شہر کو پاگل بنا گیاQaisar Siddiqi (1937–2018)
- میرے بعد اور کوئی مجھ سا نہ آیا ہوگااس کے دروازے پہ اب تک مرا سایہ ہوگاQaisar Siddiqi (1937–2018)
- وہ رخصت کی گھڑی وہ دیدۂ نم یاد آتے ہیںنہ جانے آج کیوں بھولے ہوئے غم یاد آتے ہیںQaisar Siddiqi (1937–2018)
- یوں دل دیوانہ کو اکثر سزا دیتا ہوں میںاپنی بربادی پہ خود ہی مسکرا دیتا ہوں میںQaisar Siddiqi (1937–2018)
- یہ کیسے جانتا گر شہر میں آیا نہیں ہوتایہاں دیوار ہوتی ہے مگر سایہ نہیں ہوتاQaisar Siddiqi (1937–2018)
- کہاں ہو غالبوؔ، میروؔ نظیروؔکہاں ہو میری زلفوں کے اسیروQaisar Siddiqi (1937–2018)