Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. اب یہ عالم ہے کہ غم کی بھی خبر ہوتی نہیںاشک بہہ جاتے ہیں لیکن آنکھ تر ہوتی نہیںQabil Ajmeri (1931–1962)
  2. اشکوں میں حسن دوست دکھاتی ہے چاندنیشبنم کو چار چاند لگاتی ہے چاندنیQabil Ajmeri (1931–1962)
  3. بقدر جوش جنوں تار تار بھی نہ کیاوہ پیرہن جسے نذر بہار بھی نہ کیاQabil Ajmeri (1931–1962)
  4. تضاد جذبات میں یہ نازک مقام آیا تو کیا کرو گےمیں رو رہا ہوں تم ہنس رہے ہو میں مسکرایا تو کیا کرو گےQabil Ajmeri (1931–1962)
  5. تم نہ مانو مگر حقیقت ہےعشق انسان کی ضرورت ہےQabil Ajmeri (1931–1962)
  6. تمہیں جو میرے غم دل سے آگہی ہو جائےجگر میں پھول کھلیں آنکھ شبنمی ہو جائےQabil Ajmeri (1931–1962)
  7. جہان آرزو آواز ہی آواز ہوتا ہےبڑی مشکل سے احساس شکست ساز ہوتا ہےQabil Ajmeri (1931–1962)
  8. حادثے زیست کی توقیر بڑھا دیتے ہیںاے غم یار تجھے ہم تو دعا دیتے ہیںQabil Ajmeri (1931–1962)
  9. حوادث ہم سفر اپنے تلاطم ہم عناں اپنازمانہ لوٹ سکتا ہے تو لوٹے کارواں اپناQabil Ajmeri (1931–1962)
  10. حیرتوں کے سلسلے سوز نہاں تک آ گئےہم نظر تک چاہتے تھے تم تو جاں تک آ گئےQabil Ajmeri (1931–1962)
  11. دل دیوانہ عرض حال پر مائل تو کیا ہوگامگر وہ پوچھ بیٹھے خود ہی حال دل تو کیا ہوگاQabil Ajmeri (1931–1962)
  12. دن چھپا اور غم کے سائے ڈھلےآرزو کے نئے چراغ جلےQabil Ajmeri (1931–1962)
  13. صراحی کا بھرم کھلتا نہ میری تشنگی ہوتیذرا تم نے نگاہ ناز کو تکلیف دی ہوتیQabil Ajmeri (1931–1962)
  14. طلب کی آگ کسی شعلہ رو سے روشن ہےخیال ہو کہ نظر آرزو سے روشن ہےQabil Ajmeri (1931–1962)
  15. عالم سوز تمنا بے کراں کرتے چلوذرے ذرے کو شریک کارواں کرتے چلوQabil Ajmeri (1931–1962)
  16. غم چھیڑتا ہے ساز رگ جاں کبھی کبھیہوتی ہے کائنات غزل خواں کبھی کبھیQabil Ajmeri (1931–1962)
  17. مدتوں ہم نے غم سنبھالے ہیںاب تری یاد کے حوالے ہیںQabil Ajmeri (1931–1962)
  18. وہ کب آئیں خدا جانے ستارو تم تو سو جاؤہوئے ہیں ہم تو دیوانے ستارو تم تو سو جاؤQabil Ajmeri (1931–1962)
  19. وہ ہر مقام سے پہلے وہ ہر مقام کے بعدسحر تھی شام سے پہلے سحر ہے شام کے بعدQabil Ajmeri (1931–1962)
  20. ہستی کو اپنی شعلہ بداماں کریں گے ہمزنداں میں بھی گئے تو چراغاں کریں گے ہمQabil Ajmeri (1931–1962)
  21. ہونٹوں پہ ہنسی آنکھ میں تاروں کی لڑی ہےوحشت بڑے دلچسپ دوراہے پہ کھڑی ہےQabil Ajmeri (1931–1962)
  22. آج جنوں کے ڈھنگ نئے ہیںتیری گلی بھی چھوٹ نہ جائےQabil Ajmeri (1931–1962)
  23. بہت کام لینے ہیں درد جگر سےکہیں زندگی کو قرار آ نہ جائےQabil Ajmeri (1931–1962)
  24. تم کو بھی شاید ہماری جستجو کرنی پڑےہم تمہاری جستجو میں اب یہاں تک آ گئےQabil Ajmeri (1931–1962)
  25. تمہاری گلیوں میں پھر رہا ہوںخیال رسم وفا ہے ورنہQabil Ajmeri (1931–1962)
  26. راستہ ہے کہ کٹتا جاتا ہےفاصلہ ہے کہ کم نہیں ہوتاQabil Ajmeri (1931–1962)
  27. غم جہاں کے تقاضے شدید ہیں ورنہجنون کوچۂ دلدار ہم بھی رکھتے ہیںQabil Ajmeri (1931–1962)
  28. کتنے شوریدہ سر محبت میںہو گئے کوچۂ صنم کی خاکQabil Ajmeri (1931–1962)
  29. کوچۂ یار مرکز انواراپنے دامن میں دشت غم کی خاکQabil Ajmeri (1931–1962)
  30. کوئی دیوانہ چاہے بھی تو لغزش کر نہیں سکتاترے کوچے میں پاؤں لڑکھڑانا بھول جاتے ہیںQabil Ajmeri (1931–1962)
  31. میں اپنے غم خانۂ جنوں میںتمہیں بلانا بھی جانتا ہوںQabil Ajmeri (1931–1962)
  32. وقت کرتا ہے پرورش برسوںحادثہ ایک دم نہیں ہوتاQabil Ajmeri (1931–1962)
  33. یہ گردش زمانہ ہمیں کیا مٹائے گیہم ہیں طواف کوچۂ جاناں کیے ہوئےQabil Ajmeri (1931–1962)