Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. اب زندگی میں ہوش کا امکان تو گیالیکن تری نگاہ کو پہچان تو گیامنیر بھوپالی
  2. ادب سے شکوۂ غم ہو رہا ہےزباں خاموش ہے دل رو رہا ہےمنیر بھوپالی
  3. بخت کو رویا کئے اور آشیاں دیکھا کئےبجلیاں گرتی رہیں ہم بے زباں دیکھا کئےمنیر بھوپالی
  4. بیان سن نہ سکا جب کوئی بیاں کی طرحسنایا حال دل زار داستاں کی طرحمنیر بھوپالی
  5. جب برق پاش جلوۂ جانانہ بن گیافرزانہ تھا وہی کہ جو دیوانہ بن گیامنیر بھوپالی
  6. خوشی کی حد غموں کی انتہا معلوم ہوتی ہےخدا جانے محبت کیا ہے کیا معلوم ہوتی ہےمنیر بھوپالی
  7. دل میں ہجوم شوق و تمنا لیے ہوئےجاتا ہوں تیری بزم سے کیا کیا لیے ہوئےمنیر بھوپالی
  8. ڈھونڈ لیں ہم کو ہماری جو خبر رکھتے ہیںہم کو دیکھیں وہ اگر حسن نظر رکھتے ہیںمنیر بھوپالی
  9. زمانہ میں فسانہ بن گئی دیوانگی میریترے پردہ نے کی پردہ نشیں پردہ دری میریمنیر بھوپالی
  10. ساز دل تشنۂ مضراب تمنا نہ رہادیدۂ شوق تماشا ہے تماشا نہ رہامنیر بھوپالی
  11. کن الجھنوں میں چھوڑ گئی جستجو مجھےمیں آرزو کو ڈھونڈھتا ہوں آرزو مجھےمنیر بھوپالی
  12. مآل جور سمجھے اور نہ انجام وفا سمجھےنہ ان کا مدعا جانا نہ اپنا مدعا سمجھےمنیر بھوپالی
  13. محبت ابتدا ہے ہر خبر کیمحبت انتہا ہے ہر نظر کیمنیر بھوپالی
  14. محبت میں اک ایسا بھی مقام آتا ہے مشکل کاجہاں خود دل ہی بن جاتا ہے دشمن ہستئ دل کامنیر بھوپالی
  15. وہ محبت وہ دل وہ خو ہی نہیںواقعہ ہے کہ تو وہ تو ہی نہیںمنیر بھوپالی
  16. ہر مصیبت بھی شادمانی تھیاک بلا تھی کہ نوجوانی تھیمنیر بھوپالی
  17. ہمارا جذب صادق شوق کامل دیکھتے جاؤیہیں کھنچ کر چلی آئے گی منزل دیکھتے جاؤمنیر بھوپالی
  18. ہوتی ہے طبیعت ہی خدا داد کسی کیالفت میں وفائیں نہیں ایجاد کسی کیمنیر بھوپالی
  19. یہی ہیں برق کی جولانیاں تو آشیاں کب تکاٹھے گا خاک پروانہ سے محفل میں دھواں کب تکمنیر بھوپالی
  20. بے نیاز ہر تمنا ہو گیاعشق میں اب حسن پیدا ہو گیامنیر بھوپالی
  21. تاب دیدار لا نہیں سکتےان سے نظریں ملا نہیں سکتےمنیر بھوپالی
  22. طور بن کر جل گیا یا شوق موسیٰ ہو گیاہائے وہ دل جو ترے جلوہ کا شیدا ہو گیامنیر بھوپالی
  23. محبت ہے تو پھر اندازۂ شوق وفا کیوں ہوشکایت درد کی کیوں ہو جفاؤں کا گلہ کیوں ہومنیر بھوپالی
  24. نہ ابتدا ہوں کسی کی نہ انتہا ہوں میںتعینات کی حد سے گزر گیا ہوں میںمنیر بھوپالی