Poetry
- آنسو تھمے جو رخ پہ وہ گیسو بکھر گیاملتے ہی دونوں وقت کے دریا ٹھہر گیامیر کلو عرش
- اپنی پرسش جو ہو ارباب وفا سے پہلےمانگیے دولت دیدار خدا سے پہلےمیر کلو عرش
- بے قراروں کو کب قرار آیاموت بھی آئی پر نہ یار آیامیر کلو عرش
- تن سے جاں کا قدم نکلتا ہےاب کوئی دم میں دم نکلتا ہےمیر کلو عرش
- تھا نجم بخت تیرہ مقابل تمام راتآنکھوں تلے پھرا مرے قاتل تمام راتمیر کلو عرش
- خوں بہانے کا بہانہ ہے بھلا میرے بعدتین دن پان بھی کھانا نہ ذرا میرے بعدمیر کلو عرش
- درویش قید غم میں دل زار ہو گیاآزاد ہو گیا جو گرفتار ہو گیامیر کلو عرش
- دل آئنہ ہے جوہر عکس رو ہےیوں ہی تجھ سے میں ہوں یوں ہی مجھ میں تو ہےمیر کلو عرش
- رخ سے برقع جو الٹ دے وہ تو آفت ہو جائےقد کشی ہو تو نمودار قیامت ہو جائےمیر کلو عرش
- سن کے فرقت چپ ہوا ایسا کہ مردا ہو گیاپوچھتا ہے یار رو رو کر تجھے کیا ہو گیامیر کلو عرش
- شب ہجراں میں دم نکلتا ہےکب پیام وصال ٹلتا ہےمیر کلو عرش
- شہرت ہے میری سخن وری کیہندی میں ہے طرز فارسی کیمیر کلو عرش
- غم میں عہد شباب جاتا ہےآسماں خاک میں ملاتا ہےمیر کلو عرش
- کون آئے گا جو تو بے سر و ساماں ہوگاورنہ ہوگا تو نہ اندیشۂ درباں ہوگامیر کلو عرش
- کھلے گا ناخن شمشیر سے عقدہ مرے دل کاکسی قاتل سے ہے آسان ہونا میری مشکل کامیر کلو عرش
- گر ہو نہ خفا تو کہہ دوں جی کیاس دم تمہیں یاد ہے کسی کیمیر کلو عرش
- مجھ کو مسند پہ قلمداں بخشاشیر قالیں کو نیستاں بخشامیر کلو عرش
- موت اپنی جان اے دل گردش افلاک کوڈوبنے کا خوف ہے گرداب میں تیراک کومیر کلو عرش
- موسم گل میں نہیں عزت و شان واعظکون اس فصل میں سنتا ہے بیان واعظمیر کلو عرش
- نظر کسی کو وہ موئے کمر نہیں آتابرنگ تار نظر ہے نظر نہیں آتامیر کلو عرش
- نہ جنوں جائے گا کبھی میرایار ہے غیرت پری میرامیر کلو عرش
- نہ گل نہ سرو میان بہار ہوتا ہےہماری خاک سے پیدا چنار ہوتا ہےمیر کلو عرش
- وفور ضعف سے دل یار پر نہیں آتاغم فراق میں جینا نظر نہیں آتامیر کلو عرش
- ہر غم میں کریم ہے ہمارااللہ رحیم ہے ہمارامیر کلو عرش
- ہم سے کرتا ہے عبث گفتار کجراست بازوں سے نہ ہو اے یار کجمیر کلو عرش
- ہے مرا تار نفس تار قفسرشتہ برپا ہوں گرفتار قفسمیر کلو عرش
- اثر ایسا ہے تپ غم میں دوا کا الٹانبض دیکھے تو ہو بیمار مسیحا الٹامیر کلو عرش
- میں دریائے قناعت آشنا ہوںمیں موج نشان بوریا ہوںمیر کلو عرش
- نہ کچھ تکرار تم کو ہے نہ کچھ شکوہ ہمارا ہےیہ دل کیا چیز ہے اب جان تک دینا گوارا ہےمیر کلو عرش