Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آنسو تھمے جو رخ پہ وہ گیسو بکھر گیاملتے ہی دونوں وقت کے دریا ٹھہر گیامیر کلو عرش
  2. اپنی پرسش جو ہو ارباب وفا سے پہلےمانگیے دولت دیدار خدا سے پہلےمیر کلو عرش
  3. بے قراروں کو کب قرار آیاموت بھی آئی پر نہ یار آیامیر کلو عرش
  4. تن سے جاں کا قدم نکلتا ہےاب کوئی دم میں دم نکلتا ہےمیر کلو عرش
  5. تھا نجم بخت تیرہ مقابل تمام راتآنکھوں تلے پھرا مرے قاتل تمام راتمیر کلو عرش
  6. خوں بہانے کا بہانہ ہے بھلا میرے بعدتین دن پان بھی کھانا نہ ذرا میرے بعدمیر کلو عرش
  7. درویش قید غم میں دل زار ہو گیاآزاد ہو گیا جو گرفتار ہو گیامیر کلو عرش
  8. دل آئنہ ہے جوہر عکس رو ہےیوں ہی تجھ سے میں ہوں یوں ہی مجھ میں تو ہےمیر کلو عرش
  9. رخ سے برقع جو الٹ دے وہ تو آفت ہو جائےقد کشی ہو تو نمودار قیامت ہو جائےمیر کلو عرش
  10. سن کے فرقت چپ ہوا ایسا کہ مردا ہو گیاپوچھتا ہے یار رو رو کر تجھے کیا ہو گیامیر کلو عرش
  11. شب ہجراں میں دم نکلتا ہےکب پیام وصال ٹلتا ہےمیر کلو عرش
  12. شہرت ہے میری سخن وری کیہندی میں ہے طرز فارسی کیمیر کلو عرش
  13. غم میں عہد شباب جاتا ہےآسماں خاک میں ملاتا ہےمیر کلو عرش
  14. کون آئے گا جو تو بے سر و ساماں ہوگاورنہ ہوگا تو نہ اندیشۂ درباں ہوگامیر کلو عرش
  15. کھلے گا ناخن شمشیر سے عقدہ مرے دل کاکسی قاتل سے ہے آسان ہونا میری مشکل کامیر کلو عرش
  16. گر ہو نہ خفا تو کہہ دوں جی کیاس دم تمہیں یاد ہے کسی کیمیر کلو عرش
  17. مجھ کو مسند پہ قلمداں بخشاشیر قالیں کو نیستاں بخشامیر کلو عرش
  18. موت اپنی جان اے دل گردش افلاک کوڈوبنے کا خوف ہے گرداب میں تیراک کومیر کلو عرش
  19. موسم گل میں نہیں عزت و شان واعظکون اس فصل میں سنتا ہے بیان واعظمیر کلو عرش
  20. نظر کسی کو وہ موئے کمر نہیں آتابرنگ تار نظر ہے نظر نہیں آتامیر کلو عرش
  21. نہ جنوں جائے گا کبھی میرایار ہے غیرت پری میرامیر کلو عرش
  22. نہ گل نہ سرو میان بہار ہوتا ہےہماری خاک سے پیدا چنار ہوتا ہےمیر کلو عرش
  23. وفور ضعف سے دل یار پر نہیں آتاغم فراق میں جینا نظر نہیں آتامیر کلو عرش
  24. ہر غم میں کریم ہے ہمارااللہ رحیم ہے ہمارامیر کلو عرش
  25. ہم سے کرتا ہے عبث گفتار کجراست بازوں سے نہ ہو اے یار کجمیر کلو عرش
  26. ہے مرا تار نفس تار قفسرشتہ برپا ہوں گرفتار قفسمیر کلو عرش
  27. اثر ایسا ہے تپ غم میں دوا کا الٹانبض دیکھے تو ہو بیمار مسیحا الٹامیر کلو عرش
  28. میں دریائے قناعت آشنا ہوںمیں موج نشان بوریا ہوںمیر کلو عرش
  29. نہ کچھ تکرار تم کو ہے نہ کچھ شکوہ ہمارا ہےیہ دل کیا چیز ہے اب جان تک دینا گوارا ہےمیر کلو عرش