Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آنا ہو تو آ جاؤ بہانا نہیں اچھاہر روز کا مجھ کو یہ ستانا نہیں اچھاMaharaja Sir Kishan Parashad Shad (1864–1940)
  2. اب دماغ و دل میں وہ قوت نہیں وہ دل نہیںشادؔ اب اشعار میرے در خور محفل نہیںMaharaja Sir Kishan Parashad Shad (1864–1940)
  3. اس بت کی محبت میں آخر یہی کرنا تھااپنے سے گزرنا تھا سو جان سے مرنا تھاMaharaja Sir Kishan Parashad Shad (1864–1940)
  4. اس نے کہا کعبہ ترا میں نے کہا چہرا ترااس نے کہا چہرا ترا میں نے کہا جلوا تراMaharaja Sir Kishan Parashad Shad (1864–1940)
  5. اے عشق فتنہ ساماں کر دے تو حشر برپاکیا یہ نہیں قیامت عالم ہے تیرا شیداMaharaja Sir Kishan Parashad Shad (1864–1940)
  6. بادۂ خم خانۂ توحید کا مے نوش ہوںچور ہوں مستی میں ایسا بے خود و مدہوش ہوںMaharaja Sir Kishan Parashad Shad (1864–1940)
  7. تا چند اس کے جور کے صدمے اٹھائے دلپتھر نہیں ہے سینے میں جو تاب لائے دلMaharaja Sir Kishan Parashad Shad (1864–1940)
  8. جام مئے الست سے سرشار ہو گئےیعنی رہین خانۂ خمار ہو گئےMaharaja Sir Kishan Parashad Shad (1864–1940)
  9. جب رہا ہو جاؤں گا میں رنج و غم کے دام سےتب کہوں گا اب گزرتی ہے بڑے آرام سےMaharaja Sir Kishan Parashad Shad (1864–1940)
  10. خم دار اور گیسوئے خم دار ہو گیاابروئے یار کا یہ طرف دار ہو گیاMaharaja Sir Kishan Parashad Shad (1864–1940)
  11. صبح کو نکلا تھا گرچہ کر و فر سے آفتابمنہ پھرایا ہو خجل اس عشوہ گر سے آفتابMaharaja Sir Kishan Parashad Shad (1864–1940)
  12. فکر اسباب طرب غم کے مقابل ہو گیاکلفت صبر آزما کیوں کر مرا دل ہو گیاMaharaja Sir Kishan Parashad Shad (1864–1940)
  13. فنا کہتے ہیں کس کو موت سے پہلے ہی مر جانابقا ہے نام کس کا اپنی ہستی سے گزر جاناMaharaja Sir Kishan Parashad Shad (1864–1940)
  14. کثرت تماشا کو وحدت آشنا پایاہستیٔ فنا میں بھی جلوۂ بقا پایاMaharaja Sir Kishan Parashad Shad (1864–1940)
  15. کہوں کس سے بجز تیرے خدایا آرزو دل کیمراد اپنی ہمیشہ تجھ سے ہی بس میں نے حاصل کیMaharaja Sir Kishan Parashad Shad (1864–1940)
  16. لطف اب آئے نہ کیوں انجمن آرائی کاذرے ذرے میں ہے جلوہ تری یکتائی کاMaharaja Sir Kishan Parashad Shad (1864–1940)
  17. مجھ کو اپنی خودی سے نفرت ہےاپنی ہستی سے ہی عداوت ہےMaharaja Sir Kishan Parashad Shad (1864–1940)
  18. محفل میں تیرے کون تھا جو شادماں نہ تھاسب تھے شریک بزم مگر میں وہاں نہ تھاMaharaja Sir Kishan Parashad Shad (1864–1940)
  19. مضمر ہے بقا ہستئ عالم کی فنا میںاک جلوۂ وحدت بھی ہے کثرت کی فضا میںMaharaja Sir Kishan Parashad Shad (1864–1940)
  20. موجود جو ساقی ہے تو پھر کیا نہیں ملتاہم اس کے ہیں کیا ساغر و مینا نہیں ملتاMaharaja Sir Kishan Parashad Shad (1864–1940)
  21. میں سمجھتا ہوں تجھے میری وفا یاد نہیںتو سمجھتا ہے مجھے تیری جفا یاد نہیںMaharaja Sir Kishan Parashad Shad (1864–1940)
  22. ہٹ دھرمی کی کہوں کہ میں ایمان کی کہوںاپنا کروں بیاں کہ تری شان کی کہوںMaharaja Sir Kishan Parashad Shad (1864–1940)