Poetry
- آنا ہو تو آ جاؤ بہانا نہیں اچھاہر روز کا مجھ کو یہ ستانا نہیں اچھاMaharaja Sir Kishan Parashad Shad (1864–1940)
- اب دماغ و دل میں وہ قوت نہیں وہ دل نہیںشادؔ اب اشعار میرے در خور محفل نہیںMaharaja Sir Kishan Parashad Shad (1864–1940)
- اس بت کی محبت میں آخر یہی کرنا تھااپنے سے گزرنا تھا سو جان سے مرنا تھاMaharaja Sir Kishan Parashad Shad (1864–1940)
- اس نے کہا کعبہ ترا میں نے کہا چہرا ترااس نے کہا چہرا ترا میں نے کہا جلوا تراMaharaja Sir Kishan Parashad Shad (1864–1940)
- اے عشق فتنہ ساماں کر دے تو حشر برپاکیا یہ نہیں قیامت عالم ہے تیرا شیداMaharaja Sir Kishan Parashad Shad (1864–1940)
- بادۂ خم خانۂ توحید کا مے نوش ہوںچور ہوں مستی میں ایسا بے خود و مدہوش ہوںMaharaja Sir Kishan Parashad Shad (1864–1940)
- تا چند اس کے جور کے صدمے اٹھائے دلپتھر نہیں ہے سینے میں جو تاب لائے دلMaharaja Sir Kishan Parashad Shad (1864–1940)
- جام مئے الست سے سرشار ہو گئےیعنی رہین خانۂ خمار ہو گئےMaharaja Sir Kishan Parashad Shad (1864–1940)
- جب رہا ہو جاؤں گا میں رنج و غم کے دام سےتب کہوں گا اب گزرتی ہے بڑے آرام سےMaharaja Sir Kishan Parashad Shad (1864–1940)
- خم دار اور گیسوئے خم دار ہو گیاابروئے یار کا یہ طرف دار ہو گیاMaharaja Sir Kishan Parashad Shad (1864–1940)
- صبح کو نکلا تھا گرچہ کر و فر سے آفتابمنہ پھرایا ہو خجل اس عشوہ گر سے آفتابMaharaja Sir Kishan Parashad Shad (1864–1940)
- فکر اسباب طرب غم کے مقابل ہو گیاکلفت صبر آزما کیوں کر مرا دل ہو گیاMaharaja Sir Kishan Parashad Shad (1864–1940)
- فنا کہتے ہیں کس کو موت سے پہلے ہی مر جانابقا ہے نام کس کا اپنی ہستی سے گزر جاناMaharaja Sir Kishan Parashad Shad (1864–1940)
- کثرت تماشا کو وحدت آشنا پایاہستیٔ فنا میں بھی جلوۂ بقا پایاMaharaja Sir Kishan Parashad Shad (1864–1940)
- کہوں کس سے بجز تیرے خدایا آرزو دل کیمراد اپنی ہمیشہ تجھ سے ہی بس میں نے حاصل کیMaharaja Sir Kishan Parashad Shad (1864–1940)
- لطف اب آئے نہ کیوں انجمن آرائی کاذرے ذرے میں ہے جلوہ تری یکتائی کاMaharaja Sir Kishan Parashad Shad (1864–1940)
- مجھ کو اپنی خودی سے نفرت ہےاپنی ہستی سے ہی عداوت ہےMaharaja Sir Kishan Parashad Shad (1864–1940)
- محفل میں تیرے کون تھا جو شادماں نہ تھاسب تھے شریک بزم مگر میں وہاں نہ تھاMaharaja Sir Kishan Parashad Shad (1864–1940)
- مضمر ہے بقا ہستئ عالم کی فنا میںاک جلوۂ وحدت بھی ہے کثرت کی فضا میںMaharaja Sir Kishan Parashad Shad (1864–1940)
- موجود جو ساقی ہے تو پھر کیا نہیں ملتاہم اس کے ہیں کیا ساغر و مینا نہیں ملتاMaharaja Sir Kishan Parashad Shad (1864–1940)
- میں سمجھتا ہوں تجھے میری وفا یاد نہیںتو سمجھتا ہے مجھے تیری جفا یاد نہیںMaharaja Sir Kishan Parashad Shad (1864–1940)
- ہٹ دھرمی کی کہوں کہ میں ایمان کی کہوںاپنا کروں بیاں کہ تری شان کی کہوںMaharaja Sir Kishan Parashad Shad (1864–1940)