Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آدھی آگ اور آدھا پانی ہم دونوںجلتی بجھتی ایک کہانی ہم دونوںMadan Mohan Danish (b. 1961)
  2. اور کیا آخر تجھے اے زندگانی چاہیئےآرزو کل آگ کی تھی آج پانی چاہیئےMadan Mohan Danish (b. 1961)
  3. تم اپنے آپ پر احسان کیوں نہیں کرتےکیا ہے عشق تو اعلان کیوں نہیں کرتےMadan Mohan Danish (b. 1961)
  4. تمہارے ساتھ جو برتا ہوا ہےوہ لمحہ جس کا تس رکھا ہوا ہےMadan Mohan Danish (b. 1961)
  5. چلتے رہنے کے لیے دل میں گماں کوئی تو ہوبے نتیجہ ہی سہی پر امتحاں کوئی تو ہوMadan Mohan Danish (b. 1961)
  6. دے سکو تو زندگانی دو مجھےلفظ تو میں ہوں معانی دو مجھےMadan Mohan Danish (b. 1961)
  7. رنگ دنیا کتنا گہرا ہو گیاآدمی کا رنگ پھیکا ہو گیاMadan Mohan Danish (b. 1961)
  8. ستارے جن کی بہت دیکھ بھال کرتے رہےہم ایسی ساری شبوں کو نہال کرتے رہےMadan Mohan Danish (b. 1961)
  9. ضدوں کو اپنی تراشو اور ان کو خواب کروپھر اس کے بعد ہی منزل کا انتخاب کروMadan Mohan Danish (b. 1961)
  10. کچھ اس مقام سے اب دل کا کارواں گزرےیقیں کی حد سے جو گزرے تو بے زباں گزرےMadan Mohan Danish (b. 1961)
  11. کوئی یہ لاکھ کہے میرے بنانے سے ملاہر نیا رنگ زمانہ کو پرانے سے ملاMadan Mohan Danish (b. 1961)
  12. ہر ایک لمحہ مری آگ میں گزارے کوئیپھر اس کے بعد مجھے عشق میں اتارے کوئیMadan Mohan Danish (b. 1961)
  13. ہم اپنے دکھ کو گانے لگ گئے ہیںمگر اس میں زمانے لگ گئے ہیںMadan Mohan Danish (b. 1961)
  14. ہے انتظار مقدر تو انتظار کروپر اپنے دل کی فضا کو بھی خوش گوار کروMadan Mohan Danish (b. 1961)
  15. یہ مانا اس طرف رستہ نہ جائےمگر پھر بھی مجھے روکا نہ جائےMadan Mohan Danish (b. 1961)
  16. آسماں کی نظر سے بچتے ہوئےاک ستارہ اٹھا لیا میں نےMadan Mohan Danish (b. 1961)
  17. اچھی رونق ہے تمہاری بزم میںآ گئے سب شہر کے برباد کیاMadan Mohan Danish (b. 1961)
  18. ادھر کیا کیا عجوبے ہو رہے ہیںمریض عشق اچھے ہو رہے ہیںMadan Mohan Danish (b. 1961)
  19. جب اپنی بے کلی سے بے خودی سے کچھ نہیں ہوتاپکاریں کیوں کسی کو ہم کسی سے کچھ نہیں ہوتاMadan Mohan Danish (b. 1961)
  20. زندگی سے محبت کرو ٹوٹ کرموت کا کام دشوار کرتے رہوMadan Mohan Danish (b. 1961)
  21. کوئی جب شہر سے جائے تو رونق روٹھ جاتی ہےکسی کی شہر میں موجودگی سے کچھ نہیں ہوتاMadan Mohan Danish (b. 1961)
  22. محبت رت جگے آوارہ گردیضروری کام سارے ہو رہے ہیںMadan Mohan Danish (b. 1961)
  23. ہو گئے پھر تم کہیں آباد کیاہل گئی تنہائی کی بنیاد کیاMadan Mohan Danish (b. 1961)
  24. یہ نادانی نہیں تو کیا ہے دانشؔسمجھنا تھا جسے سمجھا رہا ہوںMadan Mohan Danish (b. 1961)