Poetry
- آدھی آگ اور آدھا پانی ہم دونوںجلتی بجھتی ایک کہانی ہم دونوںMadan Mohan Danish (b. 1961)
- اور کیا آخر تجھے اے زندگانی چاہیئےآرزو کل آگ کی تھی آج پانی چاہیئےMadan Mohan Danish (b. 1961)
- تم اپنے آپ پر احسان کیوں نہیں کرتےکیا ہے عشق تو اعلان کیوں نہیں کرتےMadan Mohan Danish (b. 1961)
- تمہارے ساتھ جو برتا ہوا ہےوہ لمحہ جس کا تس رکھا ہوا ہےMadan Mohan Danish (b. 1961)
- چلتے رہنے کے لیے دل میں گماں کوئی تو ہوبے نتیجہ ہی سہی پر امتحاں کوئی تو ہوMadan Mohan Danish (b. 1961)
- دے سکو تو زندگانی دو مجھےلفظ تو میں ہوں معانی دو مجھےMadan Mohan Danish (b. 1961)
- رنگ دنیا کتنا گہرا ہو گیاآدمی کا رنگ پھیکا ہو گیاMadan Mohan Danish (b. 1961)
- ستارے جن کی بہت دیکھ بھال کرتے رہےہم ایسی ساری شبوں کو نہال کرتے رہےMadan Mohan Danish (b. 1961)
- ضدوں کو اپنی تراشو اور ان کو خواب کروپھر اس کے بعد ہی منزل کا انتخاب کروMadan Mohan Danish (b. 1961)
- کچھ اس مقام سے اب دل کا کارواں گزرےیقیں کی حد سے جو گزرے تو بے زباں گزرےMadan Mohan Danish (b. 1961)
- کوئی یہ لاکھ کہے میرے بنانے سے ملاہر نیا رنگ زمانہ کو پرانے سے ملاMadan Mohan Danish (b. 1961)
- ہر ایک لمحہ مری آگ میں گزارے کوئیپھر اس کے بعد مجھے عشق میں اتارے کوئیMadan Mohan Danish (b. 1961)
- ہم اپنے دکھ کو گانے لگ گئے ہیںمگر اس میں زمانے لگ گئے ہیںMadan Mohan Danish (b. 1961)
- ہے انتظار مقدر تو انتظار کروپر اپنے دل کی فضا کو بھی خوش گوار کروMadan Mohan Danish (b. 1961)
- یہ مانا اس طرف رستہ نہ جائےمگر پھر بھی مجھے روکا نہ جائےMadan Mohan Danish (b. 1961)
- آسماں کی نظر سے بچتے ہوئےاک ستارہ اٹھا لیا میں نےMadan Mohan Danish (b. 1961)
- اچھی رونق ہے تمہاری بزم میںآ گئے سب شہر کے برباد کیاMadan Mohan Danish (b. 1961)
- ادھر کیا کیا عجوبے ہو رہے ہیںمریض عشق اچھے ہو رہے ہیںMadan Mohan Danish (b. 1961)
- جب اپنی بے کلی سے بے خودی سے کچھ نہیں ہوتاپکاریں کیوں کسی کو ہم کسی سے کچھ نہیں ہوتاMadan Mohan Danish (b. 1961)
- زندگی سے محبت کرو ٹوٹ کرموت کا کام دشوار کرتے رہوMadan Mohan Danish (b. 1961)
- کوئی جب شہر سے جائے تو رونق روٹھ جاتی ہےکسی کی شہر میں موجودگی سے کچھ نہیں ہوتاMadan Mohan Danish (b. 1961)
- محبت رت جگے آوارہ گردیضروری کام سارے ہو رہے ہیںMadan Mohan Danish (b. 1961)
- ہو گئے پھر تم کہیں آباد کیاہل گئی تنہائی کی بنیاد کیاMadan Mohan Danish (b. 1961)
- یہ نادانی نہیں تو کیا ہے دانشؔسمجھنا تھا جسے سمجھا رہا ہوںMadan Mohan Danish (b. 1961)