Poetry
- اپنی عظمت کا نگہبان نہیں ہے کوئیکیا اب اس دور میں انسان نہیں ہے کوئیLaiq Siddiqi
- حسرت دل نکل بھی سکتی ہےزندگی رخ بدل بھی سکتی ہےLaiq Siddiqi
- دل ناداں یہ الفت کا سفر ہےیہاں منزل نہیں بس رہ گزر ہےLaiq Siddiqi
- دن ملے رات ملے صبح ملے شام ملےعشق صادق ہو تو تکلیف میں آرام ملےLaiq Siddiqi
- زندگی ناز کرے جس پہ وہ پہچان بنےدیکھیے آج کا انسان کب انسان بنےLaiq Siddiqi
- کون بتلائے کہ کس کو کیا ملاجس کی قسمت میں جو لکھا تھا ملاLaiq Siddiqi
- منہ اندھیرے چمنستان کا پیکر لے کرکون گزرا ہے دبے پاؤں گل تر لے کرLaiq Siddiqi
- موت جادہ ہے موت منزل ہےموت ہی زندگی کا حاصل ہےLaiq Siddiqi
- وفا سے آشنا کوئی نہیں ہےاگرچہ بے وفا کوئی نہیں ہےLaiq Siddiqi
- یہ دیکھ زندگی کے لئے ہے پیام کیادن کیا ہے رات کیا ہے سحر کیا ہے شام کیاLaiq Siddiqi
- سحر نے مسرت کا نغمہ سنایافضا نے گلستاں کا دامن سجایاLaiq Siddiqi
- گلشن زیست پہ پر کیف گھٹا چھائی ہےرخ پہ ہر پھول کے اک حسن ہے رعنائی ہےLaiq Siddiqi
- موسم بہت حسیں ہے فضا خوش گوار ہےہر رنگ کو مزاج چمن سازگار ہےLaiq Siddiqi