Poetry
- آسماں کھینچ کے دھرتی سے ملا سکتا ہےمیری جانب وہ کبھی ہاتھ بڑھا سکتا ہےJahanzeb Sahir (b. 1983)
- بڑے خلوص سے اپنا بنا لیا تھا مجھےتمہارے ہجر نے زندہ بچا لیا تھا مجھےJahanzeb Sahir (b. 1983)
- تو میرے ساتھ ہتھیلی اٹھا نکل آئےکوئی دعا نہ سہی بد دعا نکل آئےJahanzeb Sahir (b. 1983)
- خوشی بھی کس نے کہا وجہ غم نہیں ہوتیبتا وہ شام جو شام الم نہیں ہوتیJahanzeb Sahir (b. 1983)
- رنگ سے رنگ ملاتا ہوا جاتا ہوا توکہکشاں ایک بناتا ہوا جاتا ہوا توJahanzeb Sahir (b. 1983)
- فقیر موجی خراب حالوں کا کیا بنے گایہ عشق کرتی اداس نسلوں کا کیا بنے گاJahanzeb Sahir (b. 1983)
- کسی کے دکھ پہ اگر ہم ملال کرتے ہیںعجیب لوگ ہیں الٹا سوال کرتے ہیںJahanzeb Sahir (b. 1983)
- کئی دنوں سے مروت نہیں ہوئی مجھ سےاسے بھی کوئی شکایت نہیں ہوئی مجھ سےJahanzeb Sahir (b. 1983)
- لٹنے والوں کا مددگار نہیں ہے کوئیاس قبیلے کا بھی سردار نہیں ہے کوئیJahanzeb Sahir (b. 1983)
- لگے ہوئے تھے سبھی شور ہی مچانے میںجبھی تو دیر لگی آگ کو بجھانے میںJahanzeb Sahir (b. 1983)
- لمحوں میں ایک عمر کی محنت خراب کیاس دھوپ نے مکان کی رنگت خراب کیJahanzeb Sahir (b. 1983)
- میں تہی دست محبت میں بھلا کیا دیتاتیرے حصے سے مگر تجھ کو زیادہ دیتاJahanzeb Sahir (b. 1983)
- نیند سے مجھ کو جگاتا ہے چلا جاتا ہےوہ مرے خواب میں آتا ہے چلا جاتا ہےJahanzeb Sahir (b. 1983)
- وقت کے ساتھ نئی سوچ میں ڈھل جاتے ہیںہم وہ سکے ہیں جو ہر دور میں چل جاتے ہیںJahanzeb Sahir (b. 1983)
- وہ چاند رت کے حسین لمحوں کی شاعری ہےکہ اس کی باتیں ہزار سالوں کی شاعری ہےJahanzeb Sahir (b. 1983)
- ویسے تو کم ہی میاں اہل جنوں روتے ہیںدیکھنے والے سمجھتے ہیں کہ خوں روتے ہیںJahanzeb Sahir (b. 1983)
- ہم ایسے لوگ کہاں منزلوں کو پاتے ہیںہم ایسے لوگ فقط راستے بناتے ہیںJahanzeb Sahir (b. 1983)
- ہوا میں تیر رہے ہیں سحاب مٹی کےزمیں پہ آئیں گے اک دن عذاب مٹی کےJahanzeb Sahir (b. 1983)
- یہی نہیں ہے کہ شانوں سے خون بہتا ہےابھی تو اپنی میانوں سے خون بہتا ہےJahanzeb Sahir (b. 1983)