Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آسماں کھینچ کے دھرتی سے ملا سکتا ہےمیری جانب وہ کبھی ہاتھ بڑھا سکتا ہےJahanzeb Sahir (b. 1983)
  2. بڑے خلوص سے اپنا بنا لیا تھا مجھےتمہارے ہجر نے زندہ بچا لیا تھا مجھےJahanzeb Sahir (b. 1983)
  3. تو میرے ساتھ ہتھیلی اٹھا نکل آئےکوئی دعا نہ سہی بد دعا نکل آئےJahanzeb Sahir (b. 1983)
  4. خوشی بھی کس نے کہا وجہ غم نہیں ہوتیبتا وہ شام جو شام الم نہیں ہوتیJahanzeb Sahir (b. 1983)
  5. رنگ سے رنگ ملاتا ہوا جاتا ہوا توکہکشاں ایک بناتا ہوا جاتا ہوا توJahanzeb Sahir (b. 1983)
  6. فقیر موجی خراب حالوں کا کیا بنے گایہ عشق کرتی اداس نسلوں کا کیا بنے گاJahanzeb Sahir (b. 1983)
  7. کسی کے دکھ پہ اگر ہم ملال کرتے ہیںعجیب لوگ ہیں الٹا سوال کرتے ہیںJahanzeb Sahir (b. 1983)
  8. کئی دنوں سے مروت نہیں ہوئی مجھ سےاسے بھی کوئی شکایت نہیں ہوئی مجھ سےJahanzeb Sahir (b. 1983)
  9. لٹنے والوں کا مددگار نہیں ہے کوئیاس قبیلے کا بھی سردار نہیں ہے کوئیJahanzeb Sahir (b. 1983)
  10. لگے ہوئے تھے سبھی شور ہی مچانے میںجبھی تو دیر لگی آگ کو بجھانے میںJahanzeb Sahir (b. 1983)
  11. لمحوں میں ایک عمر کی محنت خراب کیاس دھوپ نے مکان کی رنگت خراب کیJahanzeb Sahir (b. 1983)
  12. میں تہی دست محبت میں بھلا کیا دیتاتیرے حصے سے مگر تجھ کو زیادہ دیتاJahanzeb Sahir (b. 1983)
  13. نیند سے مجھ کو جگاتا ہے چلا جاتا ہےوہ مرے خواب میں آتا ہے چلا جاتا ہےJahanzeb Sahir (b. 1983)
  14. وقت کے ساتھ نئی سوچ میں ڈھل جاتے ہیںہم وہ سکے ہیں جو ہر دور میں چل جاتے ہیںJahanzeb Sahir (b. 1983)
  15. وہ چاند رت کے حسین لمحوں کی شاعری ہےکہ اس کی باتیں ہزار سالوں کی شاعری ہےJahanzeb Sahir (b. 1983)
  16. ویسے تو کم ہی میاں اہل جنوں روتے ہیںدیکھنے والے سمجھتے ہیں کہ خوں روتے ہیںJahanzeb Sahir (b. 1983)
  17. ہم ایسے لوگ کہاں منزلوں کو پاتے ہیںہم ایسے لوگ فقط راستے بناتے ہیںJahanzeb Sahir (b. 1983)
  18. ہوا میں تیر رہے ہیں سحاب مٹی کےزمیں پہ آئیں گے اک دن عذاب مٹی کےJahanzeb Sahir (b. 1983)
  19. یہی نہیں ہے کہ شانوں سے خون بہتا ہےابھی تو اپنی میانوں سے خون بہتا ہےJahanzeb Sahir (b. 1983)