Poetry
- ازل سے بادۂ ہستی کی ارزانی نہیں جاتیاس ارزانی پہ بھی اس کی فراوانی نہیں جاتیJagdish Sahay Saxena
- اہل دنیا نے سکھایا مجھے حیراں ہوناکیسے انساں ہیں کہ آتا نہیں انساں ہوناJagdish Sahay Saxena
- تائب نہیں ہوں بے خود و سرشار بھی نہیںجو اس طرح پیے وہ گنہ گار بھی نہیںJagdish Sahay Saxena
- ترے میخانے میں ایسے بہت مے خوار بیٹھے ہیںمع ہستی جو پی کر ساقیا بیزار بیٹھے ہیںJagdish Sahay Saxena
- تو بھی وہاں نہیں محبت جہاں نہیںہر آستان حسن ترا آستاں نہیںJagdish Sahay Saxena
- راحت کونین وصل جسم و جاں سمجھا تھا میںزندگی کو سود مرنے کو زیاں سمجھا تھا میںJagdish Sahay Saxena
- شکر کی جا ہے کہ پستی میں یہیں تک پہنچےآسماں سے جو گرے ہم تو زمیں تک پہنچےJagdish Sahay Saxena
- عشق کے اعجاز سے تسکیں کا ساماں ہو گئیںاب جفائیں بھی نوازش ہائے پنہاں ہو گئیںJagdish Sahay Saxena
- فرط الم سے آہ کئے جا رہا ہوں میںاے عشق کیا گناہ کیے جا رہا ہوں میںJagdish Sahay Saxena
- کبھی گردش فلک سے نہ میں بے قرار ہوتاغم عشق اگر جہاں میں مرا غم گسار ہوتاJagdish Sahay Saxena
- کہتا یہی غبار سر رہ گزار ہےلینا قدم ہر اک کے ہمارا شعار ہےJagdish Sahay Saxena
- یہ سیم و زر تو ہیں آسائش جہاں کے لیےمجھے ہے غم کی ضرورت سکون جاں کے لیےJagdish Sahay Saxena
- کیوں نہ اپنی ہستیٔ ناشاد کا شکوا کروںرنج و غم گھیرے ہوں جب مجھ کو تو میں بھی کیا کروںJagdish Sahay Saxena