Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. ازل سے بادۂ ہستی کی ارزانی نہیں جاتیاس ارزانی پہ بھی اس کی فراوانی نہیں جاتیJagdish Sahay Saxena
  2. اہل دنیا نے سکھایا مجھے حیراں ہوناکیسے انساں ہیں کہ آتا نہیں انساں ہوناJagdish Sahay Saxena
  3. تائب نہیں ہوں بے خود و سرشار بھی نہیںجو اس طرح پیے وہ گنہ گار بھی نہیںJagdish Sahay Saxena
  4. ترے میخانے میں ایسے بہت مے خوار بیٹھے ہیںمع ہستی جو پی کر ساقیا بیزار بیٹھے ہیںJagdish Sahay Saxena
  5. تو بھی وہاں نہیں محبت جہاں نہیںہر آستان حسن ترا آستاں نہیںJagdish Sahay Saxena
  6. راحت کونین وصل جسم و جاں سمجھا تھا میںزندگی کو سود مرنے کو زیاں سمجھا تھا میںJagdish Sahay Saxena
  7. شکر کی جا ہے کہ پستی میں یہیں تک پہنچےآسماں سے جو گرے ہم تو زمیں تک پہنچےJagdish Sahay Saxena
  8. عشق کے اعجاز سے تسکیں کا ساماں ہو گئیںاب جفائیں بھی نوازش ہائے پنہاں ہو گئیںJagdish Sahay Saxena
  9. فرط الم سے آہ کئے جا رہا ہوں میںاے عشق کیا گناہ کیے جا رہا ہوں میںJagdish Sahay Saxena
  10. کبھی گردش فلک سے نہ میں بے قرار ہوتاغم عشق اگر جہاں میں مرا غم گسار ہوتاJagdish Sahay Saxena
  11. کہتا یہی غبار سر رہ گزار ہےلینا قدم ہر اک کے ہمارا شعار ہےJagdish Sahay Saxena
  12. یہ سیم و زر تو ہیں آسائش جہاں کے لیےمجھے ہے غم کی ضرورت سکون جاں کے لیےJagdish Sahay Saxena
  13. کیوں نہ اپنی ہستیٔ ناشاد کا شکوا کروںرنج و غم گھیرے ہوں جب مجھ کو تو میں بھی کیا کروںJagdish Sahay Saxena