Poetry
- اپنے احساس سے باہر نہیں ہونے دیتاراز ظاہر بھی یہ مجھ پر نہیں ہونے دیتاJafar Shirazi (b. 1920)
- ارض و سما پہ رنگ تھا کیسا اتر گیاآندھی چلی تو شام کا چہرہ اتر گیاJafar Shirazi (b. 1920)
- بجلی کڑکی بادل گرجا میں خاموش رہااس کہرام میں بھی اے دنیا میں خاموش رہاJafar Shirazi (b. 1920)
- بہ سطح آب کوئی عکس ناتواں نہ پڑاہوا گزر بھی گئی اور کہیں نشاں نہ پڑاJafar Shirazi (b. 1920)
- پتہ ملا ہے وہ تھا میرا ہم سفر بہت دیر بعد جا کرکہاں کہاں سے ملی ہے مجھ کو خبر بہت دیر بعد جا کرJafar Shirazi (b. 1920)
- جان ایسے خوابوں سے کس طرح چھڑاؤں میںشہر سو گیا سارا اب کسے جگاؤں میںJafar Shirazi (b. 1920)
- جی لرزتا ہے امڈتی ہوئی تنہائی سےاب نکالو مجھے اس رات کی پہنائی سےJafar Shirazi (b. 1920)
- حسن آنکھوں میں رہے دل میں جوانی تو رہےزندگانی تیرے ہونے کی نشانی تو رہےJafar Shirazi (b. 1920)
- دل ناداں کوئی محشر نہ اٹھانا اس وقتآ رہا ہے مری باتوں میں زمانا اس وقتJafar Shirazi (b. 1920)
- دن دہکتی دھوپ نے مجھ کو جلایا دیر تکرات تنہائی میں کالا ابر برسا دیر تکJafar Shirazi (b. 1920)
- دن نکلتا ہے تو سامان سفر ڈھونڈتے ہیںرات پڑتی ہے تو ہم اپنی خبر ڈھونڈتے ہیںJafar Shirazi (b. 1920)
- راستوں میں ڈھیر ہو کر پھول سے پیکر گرےبرگ کتنے آندھیوں کے پاؤں میں آ کر گرےJafar Shirazi (b. 1920)
- عکس جا بہ جا اپنی ذات کے گراتا ہےکون آسمانوں سے آئنے گراتا ہےJafar Shirazi (b. 1920)