Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. اس کا تو غم نہیں دل دیوانہ جل گیاظالم یہ غم ہے تیرا صنم خانہ جل گیاHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  2. ان نگاہوں کو عجب طرز کلام آتا ہےایسا لگتا ہے بہاروں کا پیام آتا ہےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  3. اور اے چشم طرب بادۂ گلفام ابھیدل ہے بیگانۂ اندیشۂ انجام ابھیHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  4. اے دل یہ سعیٔ ضبط کہیں رائیگاں نہ ہوڈرتا ہوں پھر وہ دشمن جاں مہرباں نہ ہوHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  5. بھلا دینے والوں کی یاد آ رہی ہےبھلائے ہوئے خواب دکھلا رہی ہےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  6. جبیں نواز کسی کی فسوں گری کیوں ہےسرشت حسن میں اس درجہ دل کشی کیوں ہےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  7. خزاں نصیب کی حسرت بروئے کار نہ ہوبہار شعبدۂ چشم انتظار نہ ہوHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  8. دنیا کو روشناس حقیقت نہ کر سکےہم جتنا چاہتے تھے محبت نہ کر سکےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  9. فیض پہنچے ہیں جو بہاروں سےپوچھتے کیا ہو دل نگاروں سےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  10. کچھ بھی دشوار نہیں عزم جواں کے آگےآشیاں بنتے گئے برق تپاں کے آگےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  11. مجھ کو دماغ شیون و آہ و فغاں نہیںاک آتش خموش ہوں جس میں دھواں نہیںHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  12. مجھے آماجگاہ ناوک بیداد رہنے دےجو اس کا نام بربادی ہے تو برباد رہنے دےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  13. نوید آمد فصل بہار بھی تو نہیںیہ بے دلی ہے کہ اب انتظار بھی تو نہیںHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  14. نہ بیتابی نہ آشفتہ سری ہےہماری زندگی کیا زندگی ہےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  15. وہ درد عشق جس کو حاصل ایماں بھی کہتے ہیںسیہ بختوں میں اس کو گردش دوراں بھی کہتے ہیںHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  16. ہر چند اس نے خوگر آزار کر دیانغمات زندگی کو تو بیدار کر دیاHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  17. ہوش و ہمت آزما شان تجمل کیوں نہیںوہ کسی کا آشنایانہ تغافل کیوں نہیںHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  18. یوں تبسم ریز ہے دل چشم خنداں دیکھ کرجیسے دریا مسکرائے ماہ تاباں دیکھ کرHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  19. یہ غم نہیں ہے کہ اب آہ نارسا بھی نہیںیہ کیا ہوا کہ مرے لب پہ التجا بھی نہیںHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  20. آپ شرمندہ جفاؤں پہ نہ ہوںجن پہ گزری تھی وہی بھول گئےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  21. آشنا جب تک نہ تھا اس کی نگاہ لطف سےواردات قلب کو حسن بیاں سمجھا تھا میںHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  22. اب بہت دور نہیں منزل دوستکعبے سے چند قدم اور سہیHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  23. اب تو جو شے ہے مری نظروں میں ہے ناپائیداریاد آیا میں کہ غم کو جاوداں سمجھا تھا میںHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  24. اپنے دامن میں ایک تار نہیںاور ساری بہار باقی ہےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  25. اظہار غم کیا تھا بہ امید التفاتکیا پوچھتے ہو کتنی ندامت ہے آج تکHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  26. اک فصل گل کو لے کے تہی دست کیا کریںآئی ہے فصل گل تو گریباں بھی چاہئےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  27. ایک کعبہ کے صنم توڑے تو کیانسل و ملت کے صنم خانے بہتHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  28. بتائے کون کسی کو نشان منزل زیستابھی تو حجت باہم ہے رہ گزر کے لئےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  29. بصد ادائے دلبری ہے التجائے مے کشییہ ہوش اب کسے کہ مے حرام یا حلال ہےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  30. تسلیم ہے سعادت ہوش و خرد مگرجینے کے واسطے دل ناداں بھی چاہئےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  31. تگ و تاز پیہم ہے میراث آدممرے منتظر کچھ جہاں اور بھی ہیںHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  32. جب کوئی فتنۂ ایام نہیں ہوتا ہےزندگی کا بڑی مشکل سے یقیں ہوتا ہےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  33. جس کے واسطے برسوں سعئ رائیگاں کی ہےاب اسے بھلانے کی سعئ رائیگاں کر لیںHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  34. جو کام کرنے ہیں اس میں نہ چاہئے تاخیرکبھی پیام اجل ناگہاں بھی آتا ہےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  35. چشم صیاد پہ ہر لحظہ نظر رکھتا ہےہائے وہ صید جو کہنے کو تہ دام نہیںHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  36. رعنائی بہار پہ تھے سب فریفتہافسوس کوئی محرم راز خزاں نہ تھاHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  37. عافیت کی امید کیا کہ ابھیدل امیدوار باقی ہےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  38. فیض ایام بہار اہل قفس کیا جانیںچند تنکے تھے نشیمن کے جو ہم تک پہنچےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  39. کبھی بے کلی کبھی بے دلی ہے عجیب عشق کی زندگیکبھی غنچہ پہ جاں فدا کبھی گلستاں سے غرض نہیںHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  40. کتنے صنم خود ہم نے تراشےذوق پرستش اللہ اکبرHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  41. گلوں سے اتنی بھی وابستگی نہیں اچھیرہے خیال کہ عہد خزاں بھی آتا ہےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  42. مجھ کو احساس رنگ و بو نہ ہوایوں بھی اکثر بہار آئی ہےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  43. موت کے بعد بھی مرنے پہ نہ راضی ہونایہی احساس تو سرمایۂ دیں ہوتا ہےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  44. میرے لئے جینے کا سہارا ہے ابھی تکوہ عہد تمنا کہ تمہیں یاد نہ ہوگاHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  45. نگاہ لطف کو الفت شعار سمجھے تھےذرا سے خندۂ گل کو بہار سمجھتے تھےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  46. نہ ہو کچھ اور تو وہ دل عطا ہوبہل جائے جو سعیٔ رائیگاں سےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  47. وہ بھلا کیسے بتائے کہ غم ہجر ہے کیاجس کو آغوش محبت کبھی حاصل نہ ہواHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  48. وہ کرم ہو کہ ستم ایک تعلق ہے ضرورکوئی تو درد محبت کا امیں ہوتا ہےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  49. ہائے بیداد محبت کہ یہ ایں بربادیہم کو احساس زیاں بھی تو نہیں ہوتا ہےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  50. ہر قدم پر ہے احتساب عملاک قیامت پہ انحصار نہیںHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)