Poetry
- اس کا تو غم نہیں دل دیوانہ جل گیاظالم یہ غم ہے تیرا صنم خانہ جل گیاHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
- ان نگاہوں کو عجب طرز کلام آتا ہےایسا لگتا ہے بہاروں کا پیام آتا ہےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
- اور اے چشم طرب بادۂ گلفام ابھیدل ہے بیگانۂ اندیشۂ انجام ابھیHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
- اے دل یہ سعیٔ ضبط کہیں رائیگاں نہ ہوڈرتا ہوں پھر وہ دشمن جاں مہرباں نہ ہوHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
- بھلا دینے والوں کی یاد آ رہی ہےبھلائے ہوئے خواب دکھلا رہی ہےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
- جبیں نواز کسی کی فسوں گری کیوں ہےسرشت حسن میں اس درجہ دل کشی کیوں ہےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
- خزاں نصیب کی حسرت بروئے کار نہ ہوبہار شعبدۂ چشم انتظار نہ ہوHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
- دنیا کو روشناس حقیقت نہ کر سکےہم جتنا چاہتے تھے محبت نہ کر سکےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
- فیض پہنچے ہیں جو بہاروں سےپوچھتے کیا ہو دل نگاروں سےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
- کچھ بھی دشوار نہیں عزم جواں کے آگےآشیاں بنتے گئے برق تپاں کے آگےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
- مجھ کو دماغ شیون و آہ و فغاں نہیںاک آتش خموش ہوں جس میں دھواں نہیںHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
- مجھے آماجگاہ ناوک بیداد رہنے دےجو اس کا نام بربادی ہے تو برباد رہنے دےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
- نوید آمد فصل بہار بھی تو نہیںیہ بے دلی ہے کہ اب انتظار بھی تو نہیںHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
- نہ بیتابی نہ آشفتہ سری ہےہماری زندگی کیا زندگی ہےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
- وہ درد عشق جس کو حاصل ایماں بھی کہتے ہیںسیہ بختوں میں اس کو گردش دوراں بھی کہتے ہیںHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
- ہر چند اس نے خوگر آزار کر دیانغمات زندگی کو تو بیدار کر دیاHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
- ہوش و ہمت آزما شان تجمل کیوں نہیںوہ کسی کا آشنایانہ تغافل کیوں نہیںHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
- یوں تبسم ریز ہے دل چشم خنداں دیکھ کرجیسے دریا مسکرائے ماہ تاباں دیکھ کرHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
- یہ غم نہیں ہے کہ اب آہ نارسا بھی نہیںیہ کیا ہوا کہ مرے لب پہ التجا بھی نہیںHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
- آپ شرمندہ جفاؤں پہ نہ ہوںجن پہ گزری تھی وہی بھول گئےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
- آشنا جب تک نہ تھا اس کی نگاہ لطف سےواردات قلب کو حسن بیاں سمجھا تھا میںHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
- اب بہت دور نہیں منزل دوستکعبے سے چند قدم اور سہیHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
- اب تو جو شے ہے مری نظروں میں ہے ناپائیداریاد آیا میں کہ غم کو جاوداں سمجھا تھا میںHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
- اپنے دامن میں ایک تار نہیںاور ساری بہار باقی ہےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
- اظہار غم کیا تھا بہ امید التفاتکیا پوچھتے ہو کتنی ندامت ہے آج تکHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
- اک فصل گل کو لے کے تہی دست کیا کریںآئی ہے فصل گل تو گریباں بھی چاہئےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
- ایک کعبہ کے صنم توڑے تو کیانسل و ملت کے صنم خانے بہتHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
- بتائے کون کسی کو نشان منزل زیستابھی تو حجت باہم ہے رہ گزر کے لئےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
- بصد ادائے دلبری ہے التجائے مے کشییہ ہوش اب کسے کہ مے حرام یا حلال ہےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
- تسلیم ہے سعادت ہوش و خرد مگرجینے کے واسطے دل ناداں بھی چاہئےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
- تگ و تاز پیہم ہے میراث آدممرے منتظر کچھ جہاں اور بھی ہیںHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
- جب کوئی فتنۂ ایام نہیں ہوتا ہےزندگی کا بڑی مشکل سے یقیں ہوتا ہےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
- جس کے واسطے برسوں سعئ رائیگاں کی ہےاب اسے بھلانے کی سعئ رائیگاں کر لیںHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
- جو کام کرنے ہیں اس میں نہ چاہئے تاخیرکبھی پیام اجل ناگہاں بھی آتا ہےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
- چشم صیاد پہ ہر لحظہ نظر رکھتا ہےہائے وہ صید جو کہنے کو تہ دام نہیںHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
- رعنائی بہار پہ تھے سب فریفتہافسوس کوئی محرم راز خزاں نہ تھاHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
- عافیت کی امید کیا کہ ابھیدل امیدوار باقی ہےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
- فیض ایام بہار اہل قفس کیا جانیںچند تنکے تھے نشیمن کے جو ہم تک پہنچےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
- کبھی بے کلی کبھی بے دلی ہے عجیب عشق کی زندگیکبھی غنچہ پہ جاں فدا کبھی گلستاں سے غرض نہیںHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
- کتنے صنم خود ہم نے تراشےذوق پرستش اللہ اکبرHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
- گلوں سے اتنی بھی وابستگی نہیں اچھیرہے خیال کہ عہد خزاں بھی آتا ہےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
- مجھ کو احساس رنگ و بو نہ ہوایوں بھی اکثر بہار آئی ہےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
- موت کے بعد بھی مرنے پہ نہ راضی ہونایہی احساس تو سرمایۂ دیں ہوتا ہےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
- میرے لئے جینے کا سہارا ہے ابھی تکوہ عہد تمنا کہ تمہیں یاد نہ ہوگاHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
- نگاہ لطف کو الفت شعار سمجھے تھےذرا سے خندۂ گل کو بہار سمجھتے تھےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
- نہ ہو کچھ اور تو وہ دل عطا ہوبہل جائے جو سعیٔ رائیگاں سےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
- وہ بھلا کیسے بتائے کہ غم ہجر ہے کیاجس کو آغوش محبت کبھی حاصل نہ ہواHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
- وہ کرم ہو کہ ستم ایک تعلق ہے ضرورکوئی تو درد محبت کا امیں ہوتا ہےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
- ہائے بیداد محبت کہ یہ ایں بربادیہم کو احساس زیاں بھی تو نہیں ہوتا ہےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
- ہر قدم پر ہے احتساب عملاک قیامت پہ انحصار نہیںHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)