Poetry
- اس کو غفلت پیشہ کہہ آتے ہیں ہمبھول جانا یاد دلواتے ہیں ہمگویا فقیر محمد
- اس کو مجھ سے رُٹھا دیا کس نےمیرے دل کو دکھا دیا کس نےگویا فقیر محمد
- الفت یہ چھپائیں ہم کسی کیدل سے بھی کہیں نہ اپنی جی کیگویا فقیر محمد
- بھولا ہے بعد مرگ مجھے دوست یاں تلکسگ بھی نہ اس کا آیا مری استخواں تلکگویا فقیر محمد
- تکلم جو کوئی کرتا ہے فانیہماری اور تمہاری ہے کہانیگویا فقیر محمد
- جو پنہاں تھا وہی ہر سو عیاں ہےیہ کہیے لن ترانی اب کہاں ہےگویا فقیر محمد
- حسرت اے جاں شب جدائی ہےمژدہ اے دل کہ موت آئی ہےگویا فقیر محمد
- دعائیں مانگیں ہیں مدتوں تک جھکا کے سر ہاتھ اٹھا اٹھا کرہوا ہوں تب میں بتوں کا بندہ خدا خدا کر خدا خدا کرگویا فقیر محمد
- قتل عشاق کیا کرتے ہیںبت کہاں خوف خدا کرتے ہیںگویا فقیر محمد
- کس قدر مجھ کو ناتوانی ہےبار سر سے بھی سرگرانی ہےگویا فقیر محمد
- کس ناز سے واہ ہم کو ماراکی ترچھی نگاہ ہم کو ماراگویا فقیر محمد
- کھول دی ہے زلف کس نے پھول سے رخسار پرچھا گئی کالی گھٹا سی آن کر گلزار پرگویا فقیر محمد
- کیا ہیں شیدائے قد یار درختہیں جو شبنم سے اشک بار درختگویا فقیر محمد
- کیوں کر نہ خوش ہو سر مرا لٹکا کے دار میںکیا پھل لگا ہے نخل تمنائے یار میںگویا فقیر محمد
- لب جاں بخش پہ دم اپنا فنا ہوتا ہےآج عیسیٰ سے یہ بیمار جدا ہوتا ہےگویا فقیر محمد
- منہ ڈھانپ کے میں جو رو رہا ہوںاک پردہ نشیں کا مبتلا ہوںگویا فقیر محمد
- نظارۂ رخ ساقی سے مجھ کو مستی ہےیہ آفتاب پرستی بھی مے پرستی ہےگویا فقیر محمد
- نیم بسمل کی کیا ادا ہے یہعاشقو لوٹنے کی جا ہے یہگویا فقیر محمد
- ہاتھ سے کچھ نہ ترے اے مہ کنعاں ہوگاہاتھ جو ہوگا تو مری موت کا ساماں ہوگاگویا فقیر محمد
- یہ اک تیرا جلوہ صنم چار سو ہےنظر جس طرف کیجیے تو ہی تو ہےگویا فقیر محمد
- اپنا ہر عضو چشم بینا ہےاس قدر انتظار تیرا ہےگویا فقیر محمد
- تم وفا کا عوض جفا سمجھےاے بتو تم سے بس خدا سمجھےگویا فقیر محمد