Poetry
- آپ اپنے کو معتبر کر لیںملنے والوں کے دل میں گھر کر لیںGhani Ejaz (1929–2010)
- آدمی کی حیات مٹھی بھریعنی کل کائنات مٹھی بھرGhani Ejaz (1929–2010)
- ادھوری ناشنیدہ داستاں ہوںکہ شاید میں سماعت پر گراں ہوںGhani Ejaz (1929–2010)
- انداز فکر اہل جہاں کا جدا رہاوہ مجھ سے خوش رہے تو زمانہ خفا رہاGhani Ejaz (1929–2010)
- بجلی کی زد میں ایک مرا آشیاں نہیںوہ کون سی زمیں ہے جہاں آسماں نہیںGhani Ejaz (1929–2010)
- بجلی گری تو سوچ کے سب تار کٹ گئےیک لخت روشنی سے اندھیرے لپٹ گئےGhani Ejaz (1929–2010)
- بزم عالم میں سدا ہم بھی نہیں تم بھی نہیںمنکر روز جزا تم بھی نہیں ہم بھی نہیںGhani Ejaz (1929–2010)
- بے وفا کے وعدہ پر اعتبار کرتے ہیںوہ نہ آئے گا پھر بھی انتظار کرتے ہیںGhani Ejaz (1929–2010)
- پرندہ حد نظر تک جو آسمان میں ہےپروں میں زور کہاں حوصلہ اڑان میں ہےGhani Ejaz (1929–2010)
- تشنہ لب ہوں اداس بیٹھا ہوںمیں سمندر کے پاس بیٹھا ہوںGhani Ejaz (1929–2010)
- تمہیں خبر بھی ہے یہ تم نے کس سے کیا مانگابھنور میں ڈوبنے والوں سے آسرا مانگاGhani Ejaz (1929–2010)
- تھکن غالب ہے دم ٹوٹے ہوئے ہیںسفر جاری قدم ٹوٹے ہوئے ہیںGhani Ejaz (1929–2010)
- تیر جیسے کمان سے نکلاحرف حق تھا زبان سے نکلاGhani Ejaz (1929–2010)
- جور بے جا کو جو کہتے ہو بجا ہے وہ بھیدست قاتل پہ لہو ہے کہ حنا ہے وہ بھیGhani Ejaz (1929–2010)
- خواہشیں اپنی سرابوں میں نہ رکھے کوئیان ہواؤں کو حبابوں میں نہ رکھے کوئیGhani Ejaz (1929–2010)
- کوئی ہم راہ نہیں راہ کی مشکل کے سواحاصل عمر بھی کیا ہے غم حاصل کے سواGhani Ejaz (1929–2010)
- مسرت کی فراوانی کے دن ہیںمحبت کی جہاں بانی کے دن ہیںGhani Ejaz (1929–2010)