Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. اس نے حال دل ناشاد نہ دیکھا نہ سناایسا ظالم ستم ایجاد نہ دیکھا نہ سناFaheemuddin Ahmad Faheem (1877–1922)
  2. تیرے انداز و ناز میں کیا ہےلطف راز و نیاز میں کیا ہےFaheemuddin Ahmad Faheem (1877–1922)
  3. جور کس کا ہے ستم کس کا ہےکچھ نہ پوچھو یہ کرم کس کا ہےFaheemuddin Ahmad Faheem (1877–1922)
  4. دنیا میں کوئی تجھ سا بشر ہو نہیں سکتایوں کوئی کہے لاکھ مگر ہو نہیں سکتاFaheemuddin Ahmad Faheem (1877–1922)
  5. زمانے کو زیر و زبر کر دیایہ کیا تو نے اے چشم تر کر دیاFaheemuddin Ahmad Faheem (1877–1922)
  6. سو بلندی بھی جو ہو پستی ہےاپنی ہستی بھی کوئی ہستی ہےFaheemuddin Ahmad Faheem (1877–1922)
  7. کاوش غم بھی ہے ظالم اور تیری یاد بھییہ دل مضطر مرا ویراں بھی ہے آباد بھیFaheemuddin Ahmad Faheem (1877–1922)
  8. کسی پر طبیعت کا آنا غضب ہےغضب ہے غضب دل لگانا غضب ہےFaheemuddin Ahmad Faheem (1877–1922)
  9. میں کہوں کیا انہیں یقیں ہی نہیںوہ کہے جاتے ہیں نہیں ہی نہیںFaheemuddin Ahmad Faheem (1877–1922)
  10. نشہ میں چور رہا کرتا ہوںروز مخمور رہا کرتا ہوںFaheemuddin Ahmad Faheem (1877–1922)
  11. وہ پہلی سی چشم مروت نہیں ہےوہ اگلی سی مجھ پر عنایت نہیں ہےFaheemuddin Ahmad Faheem (1877–1922)
  12. ہاں کیا کہا کہ غیر سے الفت بھی کچھ نہیںیہ سچ اگر ہے پھر مجھے حجت بھی کچھ نہیںFaheemuddin Ahmad Faheem (1877–1922)
  13. یوں کہنے کو خنجر کو بھی خنجر ہی کہیں گےپر کیا تیرے ابرو کے برابر ہی کہیں گےFaheemuddin Ahmad Faheem (1877–1922)