Poetry
- ایسا محسوس ہوا ہے ترے انعام کے بعدجیسے مزدور کو مزدوری ملے کام کے بعدChand Kakralvi (b. 1979)
- پہلے تو اپنے آپ کو تجھ سا کرے کوئیپھر مجھ سے دوستی کا ارادہ کرے کوئیChand Kakralvi (b. 1979)
- تپش کیوں بڑھ رہی ہے راستوں کیقضا آنے کو ہے کیا آبلوں کیChand Kakralvi (b. 1979)
- سفر کیسا یہ کرنا پڑ رہا ہےشراروں سے گزرنا پڑ رہا ہےChand Kakralvi (b. 1979)
- سمجھ رہے تھے کہ بادل ہیں سر پہ چھائے ہوئےمگر غبار پہ نظریں تھے ہم جمائے ہوئےChand Kakralvi (b. 1979)
- شدت بلا کی ہوتی ہے جس وقت پیاس میںدریا دکھائی دیتا ہے خالی گلاس میںChand Kakralvi (b. 1979)
- فضا بہتر بنانا چاہتی ہےکلی اب مسکرانا چاہتی ہےChand Kakralvi (b. 1979)
- لگا ہے روگ کوئی تو جڑوں میںاداسی کیوں ہے ورنہ ٹہنیوں میںChand Kakralvi (b. 1979)
- وہی بلندی سے نیچے ہمیں گراتے ہیںوہ جن کے واسطے ہم سیڑھیاں بناتے ہیںChand Kakralvi (b. 1979)
- ہاتھ پہنچے بھی نہ تھے مہتاب تکہو گئے مٹی سنہرے خواب تکChand Kakralvi (b. 1979)
- ہم نے تو اس سے بھی نبھا لی ہےدل محبت سے جس کا خالی ہےChand Kakralvi (b. 1979)
- ہوتا ہے مرے حال کا چرچا مرے آگےبنتا ہے مرا روز تماشا مرے آگےChand Kakralvi (b. 1979)