سفر کیسا یہ کرنا پڑ رہا ہے
Chand Kakralvi (b. 1979)سفر کیسا یہ کرنا پڑ رہا ہے
شراروں سے گزرنا پڑ رہا ہے
فضائیں تو معطر ہو رہی ہیں
گلابوں کو بکھرنا پڑ رہا ہے
کسی کو زندگی دینے کی خاطر
ہمیں ہر روز مرنا پڑ رہا ہے
بدن میں ہیں ہزاروں زخم پھر بھی
سمندر میں اترنا پڑ رہا ہے
جہاں چلتے ہوئے جلتے ہیں تلوے
وہاں ہم کو ٹھہرنا پڑ رہا ہے
شکم سے باندھ کر شاعر کے پتھر