شدت بلا کی ہوتی ہے جس وقت پیاس میں
Chand Kakralvi (b. 1979)شدت بلا کی ہوتی ہے جس وقت پیاس میں
دریا دکھائی دیتا ہے خالی گلاس میں
وہ چیز ڈھونڈنے سے بھی ملتی ہے پھر کہاں
جو چیز کھوئی جاتی ہے ہوش و حواس میں
ان راستوں سے ہم کو گزارا فریب نے
کانٹے چھپے ہوئے تھے جہاں نرم گھاس میں
بے کار کر رہے ہیں شکایت نصیب سے
ریشم کے کیڑے پالنے والے کپاس میں
ہم نے قلم کی نوک چلا کر دماغ پر
ٹانکے ہیں بیل بوٹے غزل کے لباس میں
اے چاندؔ میری سمت ابھی اپنا رخ نہ کر
اس وقت کوئی اور ہے میرے قیاس میں