وہی بلندی سے نیچے ہمیں گراتے ہیں

Chand Kakralvi (b. 1979)

وہی بلندی سے نیچے ہمیں گراتے ہیں

وہ جن کے واسطے ہم سیڑھیاں بناتے ہیں

بکھرنے لگتے ہیں ہم کو سمیٹنے والے

کبھی کبھار تو ہم اتنا ٹوٹ جاتے ہیں

سکون ملتا ہے دل کو اسی وظیفے سے

ہم اپنے شعر اکیلے میں گنگناتے ہیں

انہیں سند نہیں ملتی کبھی محبت میں

جو سر بچاتے ہیں اور انگلیاں کٹاتے ہیں

اب اور اس سے زیادہ بھی ربط کیا ہوگا

وہ دھوپ میں ہوں پسینے میں ہم نہاتے ہیں

رسائی دھوپ کی ہوتی کہاں ہے کمرے میں

ہمارے کپڑے بدن پر ہی سوکھ جاتے ہیں