تپش کیوں بڑھ رہی ہے راستوں کی

Chand Kakralvi (b. 1979)

تپش کیوں بڑھ رہی ہے راستوں کی

قضا آنے کو ہے کیا آبلوں کی

ہمارے ہاتھ ہیرا ہو گئے ہیں

گھسائی کرتے کرتے پتھروں کی

ہوا کے ساتھ چلنا پڑ رہا ہے

بڑی مجبوریاں ہیں بادلوں کی

جہاں تک ساتھ لے جائیں ہوائیں

وہیں تک زندگی ہے خوشبوؤں کی

یقیناً پھول کوئی کھل گیا ہے

نہیں تو بھیڑ کیوں ہے تتلیوں کی

اسی کے سامنے روؤں گا جا کر

جو قیمت جانتا ہے آنسوؤں کی

ہٹا کر چاندؔ نے چہرے سے پردہ

زبانیں کاٹ دیں تاریکیوں کی