Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. ان سے دو آنکھ سے آنسو بھی بہائے نہ گئےقبر عاشق کے نشاں بھی تو مٹائے نہ گئےعاشق اکبرآبادی
  2. اے دل اس زلف کی رکھیو نہ تمنا باقیحشر تک ورنہ رہے گی شب یلدا باقیعاشق اکبرآبادی
  3. تجھ کو کس منہ سے بے وفا کہئےکوئی پوچھے سبب تو کیا کہئےعاشق اکبرآبادی
  4. جو دل میں خون تمنا کیا نہ کرتے ہمتو مثل شعلہ بھڑک کر جلا نہ کرتے ہمعاشق اکبرآبادی
  5. داغوں سے دل و سینہ کے افروختہ جاں ہوںگو میں چمن تازہ ہوں پر وقف خزاں ہوںعاشق اکبرآبادی
  6. روز دینے لگے آزار یہ کیااور سمجھتے ہو اسے پیار یہ کیاعاشق اکبرآبادی
  7. رہی ان کی چین جبیں دیر تکچڑھایا کئے آستیں دیر تکعاشق اکبرآبادی
  8. ستم ہے وہ پھر بد گماں ہو رہا ہےپس امتحاں امتحاں ہو رہا ہےعاشق اکبرآبادی
  9. فلک چکر میں کیوں چونسٹھ گھڑی ہےگرہ اس کے بھی طالع میں کڑی ہےعاشق اکبرآبادی
  10. کون کہتا ہے کہ مرنا مرا اچھا نہ ہوافکر درماں نہ ہوئی رنج مداوا نہ ہواعاشق اکبرآبادی
  11. گردش دوراں سے یہاں کس کو فراغ آیا ہے ہاتھہاں مگر آیا تو اک حسرت کا داغ آیا ہے ہاتھعاشق اکبرآبادی
  12. گزرے وعدے کو وہ خود یاد دلا دیتے ہیںدل کی سوئی ہوئی حسرت کو جگا دیتے ہیںعاشق اکبرآبادی
  13. لگائے بیٹھے ہیں مہندی جو میرے خوں سے پوروں میںیہی تو رہزنوں میں ہیں یہی ہیں دل کے چوروں میںعاشق اکبرآبادی
  14. نہ مانا میرا کہنا دل گیا کیوں داد خواہی کوسزا دیتے ہیں واں مجرم بنا کر بے گناہی کوعاشق اکبرآبادی
  15. وہ وہاں غیر کو مہمان کئے بیٹھے ہیںہم یہاں عیش کا سامان کئے بیٹھے ہیںعاشق اکبرآبادی
  16. ہماری اس سے جو صورت ہوئی صفائی کیہجوم غم نے عدو پر بڑی چڑھائی کیعاشق اکبرآبادی
  17. ہوس کیجے نہ عمر جاوداں کیہے عمر خضر بھی ایسی کہاں کیعاشق اکبرآبادی
  18. فتنہ خو لے گئی دل چھین کے جھٹ پٹ ہم سےاور پھر سامنے آنے میں ہے گھونگھٹ ہم سےعاشق اکبرآبادی