Poetry
- ان سے دو آنکھ سے آنسو بھی بہائے نہ گئےقبر عاشق کے نشاں بھی تو مٹائے نہ گئےعاشق اکبرآبادی
- اے دل اس زلف کی رکھیو نہ تمنا باقیحشر تک ورنہ رہے گی شب یلدا باقیعاشق اکبرآبادی
- تجھ کو کس منہ سے بے وفا کہئےکوئی پوچھے سبب تو کیا کہئےعاشق اکبرآبادی
- جو دل میں خون تمنا کیا نہ کرتے ہمتو مثل شعلہ بھڑک کر جلا نہ کرتے ہمعاشق اکبرآبادی
- داغوں سے دل و سینہ کے افروختہ جاں ہوںگو میں چمن تازہ ہوں پر وقف خزاں ہوںعاشق اکبرآبادی
- روز دینے لگے آزار یہ کیااور سمجھتے ہو اسے پیار یہ کیاعاشق اکبرآبادی
- رہی ان کی چین جبیں دیر تکچڑھایا کئے آستیں دیر تکعاشق اکبرآبادی
- ستم ہے وہ پھر بد گماں ہو رہا ہےپس امتحاں امتحاں ہو رہا ہےعاشق اکبرآبادی
- فلک چکر میں کیوں چونسٹھ گھڑی ہےگرہ اس کے بھی طالع میں کڑی ہےعاشق اکبرآبادی
- کون کہتا ہے کہ مرنا مرا اچھا نہ ہوافکر درماں نہ ہوئی رنج مداوا نہ ہواعاشق اکبرآبادی
- گردش دوراں سے یہاں کس کو فراغ آیا ہے ہاتھہاں مگر آیا تو اک حسرت کا داغ آیا ہے ہاتھعاشق اکبرآبادی
- گزرے وعدے کو وہ خود یاد دلا دیتے ہیںدل کی سوئی ہوئی حسرت کو جگا دیتے ہیںعاشق اکبرآبادی
- لگائے بیٹھے ہیں مہندی جو میرے خوں سے پوروں میںیہی تو رہزنوں میں ہیں یہی ہیں دل کے چوروں میںعاشق اکبرآبادی
- نہ مانا میرا کہنا دل گیا کیوں داد خواہی کوسزا دیتے ہیں واں مجرم بنا کر بے گناہی کوعاشق اکبرآبادی
- وہ وہاں غیر کو مہمان کئے بیٹھے ہیںہم یہاں عیش کا سامان کئے بیٹھے ہیںعاشق اکبرآبادی
- ہماری اس سے جو صورت ہوئی صفائی کیہجوم غم نے عدو پر بڑی چڑھائی کیعاشق اکبرآبادی
- ہوس کیجے نہ عمر جاوداں کیہے عمر خضر بھی ایسی کہاں کیعاشق اکبرآبادی
- فتنہ خو لے گئی دل چھین کے جھٹ پٹ ہم سےاور پھر سامنے آنے میں ہے گھونگھٹ ہم سےعاشق اکبرآبادی