Poetry
- اک آفت جاں ہے جو مداوا مرے دل کااچھا کوئی پھر کیوں ہو مسیحا مرے دل کاامیر اللہ تسلیم
- بھولے سے بھی نہ جانب اغیار دیکھناشرط وفا یہی ہے خبردار دیکھناامیر اللہ تسلیم
- پارسائی ان کی جب یاد آئے گیمجھ سے میری آرزو شرمائے گیامیر اللہ تسلیم
- تھک گئے تم حسرت ذوق شہادت کم نہیںمجھ سے دم لے لو اگر تیغ ستم میں دم نہیںامیر اللہ تسلیم
- چارہ ساز زخم دل وقت رفو رونے لگاجی بھر آیا دیدۂ سوزن لہو رونے لگاامیر اللہ تسلیم
- چاہتا ہوں پہلے خود بینی سے موت آئے مجھےآپ کو دیکھوں خدا وہ دن نہ دکھلائے مجھےامیر اللہ تسلیم
- شمیم یار نہ جب تک چمن میں چھو آئےنہ رنگ آئے کسی پھول میں نہ بو آئےامیر اللہ تسلیم
- فکر ہے شوق کمر عشق دہاں پیدا کروںچاہتا ہوں ایک دل میں دو مکاں پیدا کروںامیر اللہ تسلیم
- کرو نہ دیر جہاں میں جہاں سے آگے چلویہاں گمان خطر ہے قدم بڑھائے چلوامیر اللہ تسلیم
- کہنے سننے سے مری ان کی عداوت ہو گئیجو نہ ہونی تھی وہ غیروں کی بدولت ہو گئیامیر اللہ تسلیم
- کیوں خرابات میں لاف ہمہ دانی واعظکون سنتا ہے تری ہرزہ بیانی واعظامیر اللہ تسلیم
- گر یہی ہے عادت تکرار ہنستے بولتےمنہ کی اک دن کھائیں گے اغیار ہنستے بولتےامیر اللہ تسلیم
- وصل کی شب بھی ادائے رسم حرماں میں رہاصبح تک میں التماس شوق پنہاں میں رہاامیر اللہ تسلیم
- وصل میں بگڑے بنے یار کے اکثر گیسوالجھے سلجھے مری تقدیر سے شب بھر گیسوامیر اللہ تسلیم
- بڑھ گئی مے پینے سے دل کی تمنا اور بھیصدقہ اپنا ساقیا یک جام صہبا اور بھیامیر اللہ تسلیم
- غیب سے سحرا نوردوں کا مداوا ہو گیادامن دشت جنوں زخموں کا پھاہا ہو گیاامیر اللہ تسلیم