Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. کوئی جو رہتا ہے رہنے دو مصلحت کا شکارچلو کہ جشن بہاراں منائیں گے سب یارAkhtar-ul-Iman (1915–1996)
  2. آج سوچا ہے کہ احساس کو زائل کر دوںاپنے شوریدہ ارادے کو اپاہج کر لوںAkhtar-ul-Iman (1915–1996)
  3. آؤ کہ جشن مرگ محبت منائیں ہم!آتی نہیں کہیں سے دل زندہ کی صداAkhtar-ul-Iman (1915–1996)
  4. اٹھاؤ ہاتھ کہ دست دعا بلند کریںہماری عمر کا اک اور دن تمام ہواAkhtar-ul-Iman (1915–1996)
  5. اس بھرے شہر میں کوئی ایسا نہیںجو مجھے راہ چلتے کو پہچان لےAkhtar-ul-Iman (1915–1996)
  6. ایسے ہی بیٹھے ادھر بھیا تھے دائیں جانبان کے نزدیک بڑی آپا شبانہ کو لیےAkhtar-ul-Iman (1915–1996)
  7. ایک اک اینٹ گری پڑی ہےسب دیواریں کانپ رہی ہیںAkhtar-ul-Iman (1915–1996)
  8. بولی خود سر ہوا ایک ذرہ ہے تویوں اڑا دوں گی میں، موج دریا بڑھیAkhtar-ul-Iman (1915–1996)
  9. پہلا منظرسن انیس سو اڑتیس ہےAkhtar-ul-Iman (1915–1996)
  10. ترغیب:پھر میں کام میں لگ جاؤں گا آ فرصت ہے پیار کریںAkhtar-ul-Iman (1915–1996)
  11. تم سے بے رنگیٔ ہستی کا گلہ کرنا تھادل پہ انبار ہے خوں گشتہ تمناؤں کاAkhtar-ul-Iman (1915–1996)
  12. تمہارے لہجے میں جو گرمی و حلاوت ہےاسے بھلا سا کوئی نام دو وفا کی جگہAkhtar-ul-Iman (1915–1996)
  13. تو بھی تقدیر نہیں درد بھی پایندہ نہیںتجھ سے وابستہ وہ اک عہد وہ پیمان وفاAkhtar-ul-Iman (1915–1996)
  14. جب اس کا بوسہ لیتا تھا سگریٹ کی بو نتھنوں میں گھس جاتی تھیمیں تمباکو نوشی کو اک عیب سمجھتا آیا ہوںAkhtar-ul-Iman (1915–1996)
  15. جھلملا کر بجھ گئے پاگل امیدوں کے دیےتو سمجھتی ہے کہ میں ہوں آج تک اندوہگیںAkhtar-ul-Iman (1915–1996)
  16. حسب نسب ہے نہ تاریخ و جائے پیدائشکہاں سے آیا تھا مذہب نہ ولدیت معلومAkhtar-ul-Iman (1915–1996)
  17. دور برگد کی گھنی چھاؤں میں خاموش و ملولجس جگہ رات کے تاریک کفن کے نیچےAkhtar-ul-Iman (1915–1996)
  18. دیار شرق کی آبادیوں کے اونچے ٹیلوں پرکبھی آموں کے باغوں میں کبھی کھیتوں کی مینڈوں پرAkhtar-ul-Iman (1915–1996)
  19. دیار غیر میں کوئی جہاں نہ اپنا ہوشدید کرب کی گھڑیاں گزار چکنے پرAkhtar-ul-Iman (1915–1996)
  20. رات سناٹے کی چادر میں پڑی ہے لپٹیپتیاں سڑکوں کی سب جاگ رہی ہیں جیسےAkhtar-ul-Iman (1915–1996)
  21. سماں سہانا تھا ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں سےبدن کو تازگی ملتی تھی روح میں جیسےAkhtar-ul-Iman (1915–1996)
  22. شام ہوتی ہے سحر ہوتی ہے یہ وقت رواںجو کبھی سنگ گراں بن کے مرے سر پہ گراAkhtar-ul-Iman (1915–1996)
  23. شہر در شہر، قریہ در قریہسال ہا سال سے بھٹکتا ہوںAkhtar-ul-Iman (1915–1996)
  24. عدم وجود کے مابین فاصلہ ہے بہتیہ فاصلہ ہمیں اک روز طے تو کرنا ہےAkhtar-ul-Iman (1915–1996)
  25. عظیم کام کروں کوئی ایک دن سوچاکہ رہتی دنیا میں اپنا بھی نام رہ جائےAkhtar-ul-Iman (1915–1996)
  26. عمر یوں مجھ سے گریزاں ہے کہ ہر گام پہ میںاس کے دامن سے لپٹتا ہوں مناتا ہوں اسےAkhtar-ul-Iman (1915–1996)
  27. غنودگی سی رہی طاری عمر بھر ہم پریہ آرزو ہی رہی تھوڑی دیر سو لیتےAkhtar-ul-Iman (1915–1996)
  28. کراماً کاتبین اعمال نامہ لکھ کے لے جائیںدکھائیں خالق کون و مکاں کو اور سمجھائیںAkhtar-ul-Iman (1915–1996)
  29. کون آوارہ ہواؤں کا سبکبار ہجومآہ احساس کی زنجیر گراں ٹوٹ گئیAkhtar-ul-Iman (1915–1996)
  30. کون سا اسٹیشن ہے؟ڈاسنہ ہے صاحب جیAkhtar-ul-Iman (1915–1996)
  31. کیوں حیرت سے تکتی ہے ایک اک چہرے کوکیا تجھ کو شکوہ ہے تیری گویائی کی طاقتAkhtar-ul-Iman (1915–1996)
  32. گلاب کیکر پہ کب اگے گاکہ خار دونوں میں مشترک ہےAkhtar-ul-Iman (1915–1996)
  33. لو وہ چاہ شب سے نکلا پچھلے پہر پیلا مہتابذہن نے کھولی رکتے رکتے ماضی کی پارینہ کتابAkhtar-ul-Iman (1915–1996)
  34. مری انتہائے محبت مسرت سوا اس کے کیا اور ہوگیبجائے کوئی مسند‌‌ عالیہ تخت طاؤس و زر مانگنے کےAkhtar-ul-Iman (1915–1996)
  35. میرے شانوں پہ ترا سر تھا نگاہیں نمناکاب تو اک یاد سی باقی ہے سو وہ بھی کیا ہےAkhtar-ul-Iman (1915–1996)
  36. میں جب طفل مکتب تھا، ہر بات، ہر فلسفہ جانتا تھاکھڑے ہو کے منبر پہ پہروں سلاطین پارین و حاضرAkhtar-ul-Iman (1915–1996)
  37. نقرئی گھنٹیاں سی بجتی ہیںدھیمی آواز میرے کانوں میںAkhtar-ul-Iman (1915–1996)
  38. نگر نگر کے دیس دیس کے پربت ٹیلے اور بیاباںڈھونڈ رہے ہیں اب تک مجھ کو کھیل رہے ہیں میرے ارماںAkhtar-ul-Iman (1915–1996)
  39. نہ زہر خندہ لبوں پر، نہ آنکھ میں آنسونہ زخم ہائے دروں کو ہے جستجوئے مآلAkhtar-ul-Iman (1915–1996)
  40. نیا دن روز مجھ کو کتنا پیچھے پھینک دیتا ہےیہ آج اندازہ ہوتا ہے کہ میں آہستہ آہستہAkhtar-ul-Iman (1915–1996)
  41. وسیع شہر میں اک چیخ کیا سنائی دےبسوں کے شور میں ریلوں کی گڑگڑاہٹ میںAkhtar-ul-Iman (1915–1996)
  42. ہزار بار ہوا یوں کہ جب امید گئیگلوں سے رابطہ ٹوٹا نہ خار اپنے رہےAkhtar-ul-Iman (1915–1996)
  43. ہم کتنا روئے تھے جب اک دن سوچا تھا ہم مر جائیں گےاور ہم سے ہر نعمت کی لذت کا احساس جدا ہو جائے گاAkhtar-ul-Iman (1915–1996)
  44. ہوائیں لے گئیں وہ خاک بھی اڑا کے جسےکبھی تمہارے قدم چھو گئے تھے اور میں نےAkhtar-ul-Iman (1915–1996)
  45. یہاں کیوں کھڑی رو رہی ہو مجھے اپنے بوسیدہ آنچل میں پھولوں کے گہنے دکھا کروہ کہنے لگی میرا ساتھی ادھر اس نے انگلی اٹھا کر بتایا ادھر اس طرف ہیAkhtar-ul-Iman (1915–1996)
  46. یہ درد زندگی کس کی امانت ہے کسے دے دوںکوئی وارث نہیں اس کا متاع رائیگاں ہے یہAkhtar-ul-Iman (1915–1996)
  47. یہ نیم خواب گھاس پر اداس اداس نقش پاکچل رہا ہے شبنمی لباس کی حیات کوAkhtar-ul-Iman (1915–1996)
  48. تتلیاں ناچتی ہیںپھول سے پھول پہ یوں جاتی ہیںAkhtar-ul-Iman (1915–1996)
  49. ادھر سے نہ جاؤادھر راہ میں ایک بوڑھا کھڑا ہےAkhtar-ul-Iman (1915–1996)
  50. جب دن ڈھل جاتا ہے، سورج دھرتی کی اوٹ میں ہو جاتا ہےاور بھڑوں کے چھتے جیسی بھن بھنAkhtar-ul-Iman (1915–1996)