یہاں کیوں کھڑی رو رہی ہو مجھے اپنے بوسیدہ آنچل میں پھولوں کے گہنے دکھا کر
Akhtar-ul-Iman (1915–1996)یہاں کیوں کھڑی رو رہی ہو مجھے اپنے بوسیدہ آنچل میں پھولوں کے گہنے دکھا کر
وہ کہنے لگی میرا ساتھی ادھر اس نے انگلی اٹھا کر بتایا ادھر اس طرف ہی
جدھر اونچے محلوں کے گنبد ملوں کی سیہ چمنیاں آسماں کی طرف سر اٹھائے کھڑی ہیں