Poetry
- انس اپنے میں کہیں پایا نہ بیگانے میں تھاکیا نشہ ہے سارا عالم ایک پیمانے میں تھاآغا شاعر قزلباش
- بتوں کے واسطے تو دین و ایماں بیچ ڈالے ہیںیہ وہ معشوق ہیں جو ہم نے کعبے سے نکالے ہیںآغا شاعر قزلباش
- بہار آئی ہے پھر چمن میں نسیم اٹھلا کے چل رہی ہےہر ایک غنچہ چٹک رہا ہے گلوں کی رنگت بدل رہی ہےآغا شاعر قزلباش
- جان دیتے ہی بنی عشق کے دیوانے سےشمع کا حال نہ دیکھا گیا پروانے سےآغا شاعر قزلباش
- چلے گا نہیں مجھ پہ فقرا تمہاراہٹا لو کہ خنجر ہے جھوٹا تمہاراآغا شاعر قزلباش
- دل سرد ہو گیا ہے طبیعت بجھی ہوئیاب کیا ہے وہ اتر گئی ندی چڑھی ہوئیآغا شاعر قزلباش
- ذرہ بھی اگر رنگ خدائی نہیں دیتااندھا ہے تجھے کچھ بھی دکھائی نہیں دیتاآغا شاعر قزلباش
- رخسار کے پرتو سے بجلی کی نئی دھج ہےکیوں آنکھ جھپکتی ہے کیا سامنے سورج ہےآغا شاعر قزلباش
- رونے سے جو بھڑاس تھی دل کی نکل گئیآنسو بہائے چار طبیعت سنبھل گئیآغا شاعر قزلباش
- شاعر رنگیں فسانہ ہو گیاشعر بلبل کا ترانہ ہو گیاآغا شاعر قزلباش
- عریاں ہی رہے لاش غریب الوطنی میںدھبے مرے عصیاں کے نہ آئیں کفنی میںآغا شاعر قزلباش
- کیا خبر تھی راز دل اپنا عیاں ہو جائے گاکیا خبر تھی آہ کا شعلہ زباں ہو جائے گاآغا شاعر قزلباش
- کیا کر رہے ہو ظلم کرو راہ راہ کاکہتے ہیں بے جگر ہے بڑا تیر آہ کاآغا شاعر قزلباش
- گری گر کر اٹھی پلٹی تو جو کچھ تھا اٹھا لائینظر کیا کیمیا تھی رنگ چہروں سے اڑا لائیآغا شاعر قزلباش
- لاکھ لاکھ احسان جس نے درد پیدا کر دیاجس نے اس دل کو ہتھیلی کا پھپھولا کر دیاآغا شاعر قزلباش
- مجھ کو آتا ہے تیمم نہ وضو آتا ہےسجدہ کر لیتا ہوں جب سامنے تو آتا ہےآغا شاعر قزلباش
- مسکن وہیں کہیں ہے وہیں آشیاں کہیںدو آڑے سیدھے رکھ لیے تنکے جہاں کہیںآغا شاعر قزلباش
- میں خودی میں مبتلا خود کو مٹانے کے لیےتو نے تو ہر ذرے کو ضو دی جگمگانے کے لیےآغا شاعر قزلباش
- نہ نکلا منہ سے کچھ نکلی نہ کچھ بھی قلب مضطر کیکسی کے سامنے میں بن گیا تصویر پتھر کیآغا شاعر قزلباش
- یہ کیسے بال کھولے آئے کیوں صورت بنی غم کیتمہارے دشمنوں کو کیا پڑی تھی میرے ماتم کیآغا شاعر قزلباش
- جس نے تجھے خلوت میں بھی تنہا نہیں دیکھااس دیکھنے والے کا کلیجہ نہیں دیکھاآغا شاعر قزلباش