Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. انس اپنے میں کہیں پایا نہ بیگانے میں تھاکیا نشہ ہے سارا عالم ایک پیمانے میں تھاآغا شاعر قزلباش
  2. بتوں کے واسطے تو دین و ایماں بیچ ڈالے ہیںیہ وہ معشوق ہیں جو ہم نے کعبے سے نکالے ہیںآغا شاعر قزلباش
  3. بہار آئی ہے پھر چمن میں نسیم اٹھلا کے چل رہی ہےہر ایک غنچہ چٹک رہا ہے گلوں کی رنگت بدل رہی ہےآغا شاعر قزلباش
  4. جان دیتے ہی بنی عشق کے دیوانے سےشمع کا حال نہ دیکھا گیا پروانے سےآغا شاعر قزلباش
  5. چلے گا نہیں مجھ پہ فقرا تمہاراہٹا لو کہ خنجر ہے جھوٹا تمہاراآغا شاعر قزلباش
  6. دل سرد ہو گیا ہے طبیعت بجھی ہوئیاب کیا ہے وہ اتر گئی ندی چڑھی ہوئیآغا شاعر قزلباش
  7. ذرہ بھی اگر رنگ خدائی نہیں دیتااندھا ہے تجھے کچھ بھی دکھائی نہیں دیتاآغا شاعر قزلباش
  8. رخسار کے پرتو سے بجلی کی نئی دھج ہےکیوں آنکھ جھپکتی ہے کیا سامنے سورج ہےآغا شاعر قزلباش
  9. رونے سے جو بھڑاس تھی دل کی نکل گئیآنسو بہائے چار طبیعت سنبھل گئیآغا شاعر قزلباش
  10. شاعر رنگیں فسانہ ہو گیاشعر بلبل کا ترانہ ہو گیاآغا شاعر قزلباش
  11. عریاں ہی رہے لاش غریب الوطنی میںدھبے مرے عصیاں کے نہ آئیں کفنی میںآغا شاعر قزلباش
  12. کیا خبر تھی راز دل اپنا عیاں ہو جائے گاکیا خبر تھی آہ کا شعلہ زباں ہو جائے گاآغا شاعر قزلباش
  13. کیا کر رہے ہو ظلم کرو راہ راہ کاکہتے ہیں بے جگر ہے بڑا تیر آہ کاآغا شاعر قزلباش
  14. گری گر کر اٹھی پلٹی تو جو کچھ تھا اٹھا لائینظر کیا کیمیا تھی رنگ چہروں سے اڑا لائیآغا شاعر قزلباش
  15. لاکھ لاکھ احسان جس نے درد پیدا کر دیاجس نے اس دل کو ہتھیلی کا پھپھولا کر دیاآغا شاعر قزلباش
  16. مجھ کو آتا ہے تیمم نہ وضو آتا ہےسجدہ کر لیتا ہوں جب سامنے تو آتا ہےآغا شاعر قزلباش
  17. مسکن وہیں کہیں ہے وہیں آشیاں کہیںدو آڑے سیدھے رکھ لیے تنکے جہاں کہیںآغا شاعر قزلباش
  18. میں خودی میں مبتلا خود کو مٹانے کے لیےتو نے تو ہر ذرے کو ضو دی جگمگانے کے لیےآغا شاعر قزلباش
  19. نہ نکلا منہ سے کچھ نکلی نہ کچھ بھی قلب مضطر کیکسی کے سامنے میں بن گیا تصویر پتھر کیآغا شاعر قزلباش
  20. یہ کیسے بال کھولے آئے کیوں صورت بنی غم کیتمہارے دشمنوں کو کیا پڑی تھی میرے ماتم کیآغا شاعر قزلباش
  21. جس نے تجھے خلوت میں بھی تنہا نہیں دیکھااس دیکھنے والے کا کلیجہ نہیں دیکھاآغا شاعر قزلباش