Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download →

Poetry

Poet
Meter
  1. نہ میں دل کو اب ہر مکاں بیچتا ہوںکوئی خوب رو لے تو ہاں بیچتا ہوںNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  2. نہیں ہوا میں یہ بو نافۂ ختن کی سیلپٹ ہے یہ تو کسی زلف پر شکن کی سیNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  3. نہیں یاں بیٹھتے جو ایک دم تمتو کیا ڈرتے ہو ہم سے اے صنم تمNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  4. نیچی نگہ کی ہم نے تو اس نے منہ کو چھپانا چھوڑ دیاکچھ جو ہوئی پھر اونچی تو رخ سے پردہ اٹھانا چھوڑ دیاNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  5. وہ چاندنی میں جو ٹک سیر کو نکلتے ہیںتو مہ کے طشت میں گھی کے چراغ چلتے ہیںNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  6. وہ صنم جو مہر عذار ہے اسے ہم سے ملنے میں عار ہےولے اپنا جو دل زار ہے وہ ہزار جان سے نثار ہےNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  7. ہر آن تمہارے چھپنے سے ایسا ہی اگر دکھ پائیں گے ہمتو ہار کے اک دن اس کی بھی تدبیر کوئی ٹھہرائیں گے ہمNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  8. ہم اشک غم ہیں اگر تھم رہے رہے نہ رہےمژہ پہ آن کے ٹک جم رہے رہے نہ رہےNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  9. ہم ایسے کب تھے کہ خود بدولت یہاں بھی کرتے قدم نوازشمگر یہ اک اک قدم پر اے جاں فقط عنایت کرم نوازشNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  10. ہم دیکھیں کس دن حسن اے دل اس رشک پری کا دیکھیں گےوہ قد وہ کمر وہ چشم وہ لب وہ زلف وہ مکھڑا دیکھیں گےNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  11. ہم میں بھی اور انہوں میں پہلے جو یاریاں تھیںدونوں دلوں میں کیا کیا امیدواریاں تھیںNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  12. ہنسے روئے پھرے رسوا ہوئے جاگے بندھے چھوٹےغرض ہم نے بھی کیا کیا کچھ محبت کے مزے لوٹےNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  13. ہوا خورشید کے دیکھے سے دونا اضطراب اپناکہ یہ نکلا سحر کو اور نہ نکلا آفتاب اپناNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  14. ہوش و خرد کو کر دیا ترک اور شغل جو کچھ تھا چھوڑ دیاہم نے تمہاری چاہ میں اے جاں دیکھو تو کیا کیا چھوڑ دیاNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  15. ہو کچھ آسیب تو واں چاہئے گنڈا تعویذاور جو ہو عشق کا سایہ تو کرے کیا تعویذNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  16. ہو کس طرح نہ ہم کو ہر دم ہوائے مطلبدیکھا جو خوب ہم نے دنیا ہے جائے مطلبNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  17. ہو کیوں نہ ترے کام میں حیران تماشایارب تری قدرت میں ہے ہر آن تماشاNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  18. ہوں تیرے تصور میں مری جاں ہمہ تن چشمدل ہے مرا جوں آئینہ حیراں ہمہ تن چشمNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  19. ہوئی شکل اپنی یہ ہم نشیں جو صنم کو ہم سے حجاب ہےکبھی اشک ہے کبھی آہ ہے کبھی رنج ہے کبھی تاب ہےNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  20. ہوئے خوش ہم ایک نگار سے ہوئے شاد اس کی بہار سےکبھی شان سے کبھی آن سے کبھی ناز سے کبھی پیار سےNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  21. ہیں دم کے ساتھ عشرت و عسرت ہزارہاوابستہ ایک تار نفس سے ہیں تار ہاNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  22. ہے اب تو وہ ہمیں اس سرو سیم بر کی طلبکہ طائران ہوا سے ہے بال و پر کی طلبNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  23. ہے اب تو یہ دھن اس سے میں آنکھ لڑا لوں گااور چوم کے منہ اس کا سینے سے لگا لوں گاNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  24. یار نے ہم کو اگر رسوا کہا اچھا کہاہم تو رسوا ہیں ہی کیا بے جا کہا اچھا کہاNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  25. یاں تو کچھ اپنی خوشی سے نہیں ہم آئے ہوئےاک زبردست کے ہیں کھینچ کے بلوائے ہوئےNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  26. یک بہ یک ہوگی سیاہی اس قدر جاتی رہیکیا کہیں گویا سیاہی یک سر مو بھی نہ تھیNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  27. یہ جو اٹھتی کونپل ہے جب اپنا برگ نکالے گیڈالی ڈالی چاٹے گی اور پتا پتا کھا لے گیNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  28. یہ جو گل رو نگار ہنستے ہیںفتنہ گر ہیں ہزار ہنستے ہیںNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  29. یہ چھپکے کا جو بالا کان میں اب تم نے ڈالا ہےاسی بالے کی دولت سے تمہارا بول بالا ہےNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  30. یہ حسب عقل تو کوئی نہیں سامان ملنے کامگر دنیا سے لے جاویں گے ہم ارمان ملنے کاNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  31. یہ حسن ہے آہ یا قیامت کہ اک بھبھوکا بھبھک رہا ہےفلک پہ سورج بھی تھرتھرا کر منہ اس کا حیرت سے تک رہا ہےNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  32. یہ دل ناداں ہمارا بھی عجب دیوانہ تھااس کو اپنا گھر یہ سمجھا تھا جو مہماں خانہ تھاNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  33. یہ گلہ دل سے تو ہرگز نہیں جانا صاحبسب نے جانا ہمیں پر تم نے نہ جانا صاحبNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  34. پان اس کے لبوں پہ اس قدر ہے زیباہو رنگ پہ جس کے سرخیٔ لعل فداNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  35. کوچے میں تمہارے ہم جو ٹک آتے ہیںاور دل کو ذرا بیٹھ کے بہلاتے ہیںNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  36. گر یار سے ہر روز ملاقات نہیںاور ہو بھی گئی تو پھر مدارات نہیںNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  37. آئینہ جو ہاتھ اس کے نے تا دیر لیااس دیر سے خجلت نے ہمیں گھیر لیاNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  38. اس زلف نے ہم سے لے کے دل بستہ کیاابرو نے کجی کے ڈھب کو پیوستہ کیاNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  39. اس شوخ کو ہم نے جس گھڑی جا دیکھامکھڑے میں عجب حسن کا نقشہ دیکھاNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  40. اے دل جو یہ آنکھ آج لڑائی اس نےاور پل میں لڑا کے پھر جھکائی اس نےNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  41. پس اس کے گئے سپر جو ہم کر سینہدل کرنے کو اس کی جاہ کا گنجینہNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  42. دل دیکھ اسے جس گھڑی بے تاب ہوااور چاہ ذقن سے مثل گرداب ہواNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  43. رکھتی ہے جو خوش چاہ تمہاری ہم کواور کرتی ہے شاد باری باری ہم کوNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  44. رکھتے ہیں جو ہم چاہ تمہاری دل میںآرام کی ہے امیدواری دل میںNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  45. ساقی سے جو ہم نے مے کا اک جام لیاپیتے ہی نشے کا یہ سرانجام لیاNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  46. کیا حال اب اس سے اپنے دل کا کہئےمنظور نہیں یہ بھی کہ بے جا کہئےNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  47. محبوب نے پیرہن میں جب عطر ملااور پان چبا کے اپنے گھر سے وہ چلاNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  48. مکھڑے کو جو اس کے ہم نے جا کر دیکھاسنکھ تو نہیں یہ چھپ چھپا کر دیکھاNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  49. ناصح نہ سنا سخن مجھے جس تس کےجو تو نے کہا یہ آوے جی میں کس کےNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  50. ہم اس کی جفا سے جی میں ہو کر دلگیررک بیٹھے تو ہیں ولے کریں کیا تقریرNazeer Akbarabadi (1735–1830)