آئینہ جو ہاتھ اس کے نے تا دیر لیا

Nazeer Akbarabadi (1735–1830)

آئینہ جو ہاتھ اس کے نے تا دیر لیا

اس دیر سے خجلت نے ہمیں گھیر لیا

جب ہم نے کہا کیا یہی عاشق ہے میاں

یہ سنتے ہی آئینے سے منہ پھیر لیا