گر یار سے ہر روز ملاقات نہیں

Nazeer Akbarabadi (1735–1830)

گر یار سے ہر روز ملاقات نہیں

اور ہو بھی گئی تو پھر مدارات نہیں

دل دے چکے اب قدر ہو یا بے قدری

جو کچھ ہو سو ہو بس کی تو کچھ بات نہیں