Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. نہ آ جائے کسی پر دل کسی کانہ ہو یا رب کوئی مائل کسی کاHafeez Jaunpuri (1868–1959)
  2. وصل آسان ہے کیا مشکل ہےتجھ کو یہ دھیان ہے کیا مشکل ہےHafeez Jaunpuri (1868–1959)
  3. وصل میں آپس کی حجت اور ہےاس شکر رنجی میں لذت اور ہےHafeez Jaunpuri (1868–1959)
  4. وہ حسیں بام پر نہیں آتاچاند اپنا نظر نہیں آتاHafeez Jaunpuri (1868–1959)
  5. وہ ہمکنار ہے جام شراب ہاتھ میں ہےبغل میں چاند ہے اور آفتاب ہاتھ میں ہےHafeez Jaunpuri (1868–1959)
  6. ہائے اب کون لگی دل کی بجھانے آئےجن سے امید تھی اور آگ لگانے آئےHafeez Jaunpuri (1868–1959)
  7. ہم کو دکھا دکھا کے غیروں کے عطر ملناآتا ہے خوب تم کو چھاتی پہ مونگ دلناHafeez Jaunpuri (1868–1959)
  8. ہو ترک کسی سے نہ ملاقات کسی کییا رب نہ بگڑ جائے بنی بات کسی کیHafeez Jaunpuri (1868–1959)
  9. ہوئے عشق میں امتحاں کیسے کیسےپڑے مرحلے درمیاں کیسے کیسےHafeez Jaunpuri (1868–1959)
  10. یاد ہے پہلے پہل کی وہ ملاقات کی باتوہ مزے دن کے نہ بھولے ہیں نہ وہ رات کی باتHafeez Jaunpuri (1868–1959)
  11. یوں اٹھا دے ہمارے جی سے غرضہو نہ تیرے سوا کسی سے غرضHafeez Jaunpuri (1868–1959)
  12. یوں تو حسین اکثر ہوتے ہیں شان والےلیکن کچھ اور ہے تو او آن بان والےHafeez Jaunpuri (1868–1959)
  13. یہ سب کہنے کی باتیں ہیں کہ ایسا ہو نہیں سکتامحبت میں جو دل مل جائے پھر کیا ہو نہیں سکتاHafeez Jaunpuri (1868–1959)
  14. یہی مسئلہ ہے جو زاہدو تو مجھے کچھ اس میں کلام ہےوہی شے حلال ہے خلد میں وہی میکدے میں حرام ہےHafeez Jaunpuri (1868–1959)
  15. دیوانے ہوئے صحرا میں پھرے یہ حال تمہارے غم نے کیاHafeez Jaunpuri (1868–1959)
  16. زمانے کا بھروسا کیا ابھی کچھ ہے ابھی کچھ ہےیہی ہے رنگ دنیا کا ابھی کچھ ہے ابھی کچھ ہےHafeez Jaunpuri (1868–1959)
  17. عجب زمانے کی گردشیں ہیں خدا ہی بس یاد آ رہا ہےنظر نہ جس سے ملاتے تھے ہم وہی اب آنکھیں دکھا رہا ہےHafeez Jaunpuri (1868–1959)
  18. مژگاں ہیں غضب ابروے خم دار کے آگےیہ تیر برس پڑتے ہیں تلوار کے آگےHafeez Jaunpuri (1868–1959)
  19. آدمی کا آدمی ہر حال میں ہمدرد ہواک توجہ چاہئے انساں کو انساں کی طرفHafeez Jaunpuri (1868–1959)
  20. اخیر وقت ہے کس منہ سے جاؤں مسجد کوتمام عمر تو گزری شراب خانے میںHafeez Jaunpuri (1868–1959)
  21. ان کی یکتائی کا دعویٰ مٹ گیاآئنے نے دوسرا پیدا کیاHafeez Jaunpuri (1868–1959)
  22. ان کی یہ ضد کہ مرے گھر میں نہ آئے کوئیاپنی ہی ہٹ کہ مجھے خود ہی بلائے کوئیHafeez Jaunpuri (1868–1959)
  23. بوسۂ رخسار پر تکرار رہنے دیجیےلیجیے یا دیجیے انکار رہنے دیجیےHafeez Jaunpuri (1868–1959)
  24. بہت دور تو کچھ نہیں گھر مراچلے آؤ اک دن ٹہلتے ہوئےHafeez Jaunpuri (1868–1959)
  25. پہنچے اس کو سلام میرابھولے سے نہ لے جو نام میراHafeez Jaunpuri (1868–1959)
  26. پی کر دو گھونٹ دیکھ زاہدکیا تجھ سے کہوں شراب کیا ہےHafeez Jaunpuri (1868–1959)
  27. تھے چور میکدے کے مسجد کے رہنے والےمے سے بھرا ہوا ہے جو ظرف ہے وضو کاHafeez Jaunpuri (1868–1959)
  28. جاؤ بھی جگر کیا ہے جو بیداد کرو گےنالے مرے سن لو گے تو فریاد کرو گےHafeez Jaunpuri (1868–1959)
  29. جب ملا کوئی حسیں جان پر آفت آئیسو جگہ عہد جوانی میں طبیعت آئیHafeez Jaunpuri (1868–1959)
  30. جب نہ تھا ضبط تو کیوں آئے عیادت کے لیےتم نے کاہے کو مرا حال پریشاں دیکھاHafeez Jaunpuri (1868–1959)
  31. جو دیوانوں نے پیمائش کی ہے میدان قیامت کیفقط دو گز زمیں ٹھہری وہ میرے دشت وحشت کیHafeez Jaunpuri (1868–1959)
  32. حال میرا بھی جائے عبرت ہےاب سفارش رقیب کرتے ہیںHafeez Jaunpuri (1868–1959)
  33. زاہد شراب ناب ہو یا بادۂ طہورپینے ہی پر جب آئے حرام و حلال کیاHafeez Jaunpuri (1868–1959)
  34. زاہد کو رٹ لگی ہے شراب طہور کیآیا ہے میکدے میں تو سوجھی ہے دور کیHafeez Jaunpuri (1868–1959)
  35. سچ ہے اس ایک پردے میں چھپتے ہیں لاکھ عیبیعنی جناب شیخ کی داڑھی دراز ہےHafeez Jaunpuri (1868–1959)
  36. شب وصال لگایا جو ان کو سینے سےتو ہنس کے بولے الگ بیٹھیے قرینے سےHafeez Jaunpuri (1868–1959)
  37. عاشق کی بے کسی کا تو عالم نہ پوچھیےمجنوں پہ کیا گزر گئی صحرا گواہ ہےHafeez Jaunpuri (1868–1959)
  38. قسم نباہ کی کھائی تھی عمر بھر کے لیےابھی سے آنکھ چراتے ہو اک نظر کے لیےHafeez Jaunpuri (1868–1959)
  39. قید میں اتنا زمانہ ہو گیااب قفس بھی آشیانہ ہو گیاHafeez Jaunpuri (1868–1959)
  40. کافر عشق کو کیا دیر و حرم سے مطلبجس طرف تو ہے ادھر ہی ہمیں سجدا کرناHafeez Jaunpuri (1868–1959)
  41. مری شراب کی توبہ پہ جا نہ اے واعظنشے کی بات نہیں اعتبار کے قابلHafeez Jaunpuri (1868–1959)
  42. مرے بت خانے سے ہو کر چلا جا کعبے کو زاہدبظاہر فرق ہے باطن میں دونوں ایک رستے ہیںHafeez Jaunpuri (1868–1959)
  43. ہمیں یاد رکھنا ہمیں یاد کرنااگر کوئی تازہ ستم یاد آئےHafeez Jaunpuri (1868–1959)
  44. یاد آئیں اس کو دیکھ کے اپنی مصیبتیںروئے ہم آج خوب لپٹ کر رقیب سےHafeez Jaunpuri (1868–1959)