عاشق کی بے کسی کا تو عالم نہ پوچھیے

Hafeez Jaunpuri (1868–1959)

عاشق کی بے کسی کا تو عالم نہ پوچھیے

مجنوں پہ کیا گزر گئی صحرا گواہ ہے