ایک تھی عورت

Meeraji (1912–1949)

کبھی ایسے جیسے کوئی بات کہنے لگی ہو

کبھی ایسے جیسے نہ بولیں گے تم سے

کبھی مسکراتے ہوئے شور کرتے ہوئے پھر گلے سے لپٹ کر کرو ایسی باتیں

ہمیں سرسراتی ہوا یاد آئے

کوئی سرد چشمہ ابلتا ہوا اور مچلتا ہوا یاد آئے

جو ہو دیکھنے میں ٹپکتی ہوئی چند بوندیں

مگر اپنی حد سے بڑھے تو بنے ایک ندی بنے ایک دریا بنے ایک ساگر

ہوا میں ہلائیں ہلا کر گرا دیں

کبھی ایسے جیسے کوئی بات کہنے لگے ہیں

مگر تم ہمیں گود میں لے کے اپنی بٹھا لو

مچلنے لگیں تو سنبھالو

کبھی مسکراتے ہوئے شور کرتے ہوئے پھر گلے سے لپٹ کر کریں ایسی باتیں

تمہیں سرسراتی ہوا یاد آئے

وہی سرسراتی ہوا جس کے میٹھے فسوں سے دوپٹہ پھسل جاتا ہے

وہی سرسراتی ہوا جو ہر انجان عورت کے بکھرے ہوئے گیسوؤں کو

کسی سوئے جنگل پہ گنگھور کالی گھٹا کا نیا بھیس دے کر

جگا دیتی ہے

تمہیں سرسراتی ہوا یاد آئے

ہمیں سرسراتی ہوا یاد آئے

یہ جی چاہتا ہے

وہ ساگر جو بہتے مسافر کو آگے بہاتا نہیں ہے جھکولے دئیے جاتا ہے بس

جھکولے دئیے جاتا ہے

اور پھر جی ہی جی میں مسافر یہ کہتا ہے اپنی کہانی نئی تو نہیں ہے

پرانی کہانی میں کیا لطف آئے

ہمیں آج کس نے کہا تھا پرانی کہانی سناؤ