محرومی
Meeraji (1912–1949)تو اس پر تعجب نہیں ہے نہ ہوگا
ازل سے اسی ڈھب کی پابند ہے شام کی ظاہرا بے ضرر شوخ ناگن
ابھرتے ہوئے اور لچکتے ہوئے اور مچلتے ہوئے کہتی جاتی ہے آؤ مجھے دیکھو میں نے
تمہارے لیے ایک رنگین محفل جمائی ہوئی ہے
کوئی نہیں دیکھ سکتا
تہیں اس کے پردوں کی ایسے لچکتی چلی جاتی ہیں جیسے پھیلی ہوئی سطح دریا نے
اٹھ کر دھندلکے کی مانند پنہاں کیا ہو فضا کو نظر سے
ذرا دیکھو چھت پر لٹکتے ہیں فانوس اپنی ہر اک نیم روشن کرن سے سجھاتے
ہیں اک بھید کی بات کا گیت جس میں مسہری کے آغوش کی لرزشیں ہوں
ستونوں کے پیچھے سے آہستہ آہستہ رکتا ہوا اور جھجکتا ہوا چور سایہ یہی کہہ رہا
ہے وہ آئے وہ آئے
ابھی ایک پل میں اچانک یونہی جگمگانے لگے گا یہ ایوان یکسر
ہر اک چیز کیسے قرینے سے رکھی ہوئی ہے
میں کہتی ہوں مانو چلو آؤ محفل سجی ہے
تم آؤ تو گونج اٹھے شہنائی دالان میں آنے جانے کی آہٹ سے ہنگامہ پیدا
ہو لیکن مسہری کے آغوش کی لرزشوں میں تمہیں اس کا احساس
بھی ہونے پائے تو ذمہ ہے میرا
نے بے باک جھونکے سے ٹکرا کے آہیں بھری تھیں
نہ دیکھا تو اس پر تعجب نہیں ہے
ازل سے اسی ڈھب کی پابند ہے شام کی شوخ ناگن
یہ ڈستی ہے ڈستے ہوئے کہتی جاتی ہے
جاؤ اگر تم جھجکتے رہوگے تو
ہر لمحہ یکساں روش سے گزر جائے گا اور تم دیکھتے ہی رہوگے اکیلے اکیلے
تمہیں دائیں بائیں تمہیں سامنے کچھ دکھائی نہ دے گا فقط سرد دیواریں ہنستی رہیں گی
دھندلکے میں ڈوبی ہوئی آنکھ دیکھے گی روزن سے دور اک ستارہ نظر آ رہا ہے
مگر چھت پہ فانوس کا کوئی جھولا نہ ہوگا
شکستہ فتادہ ستونوں کی مانند فرش حزیں پر تمہارا وہ سایہ تڑپتا رہے گا جسے
یہ تمنا تھی کہہ دوں تمنا کیا تھی
میں اب مانتا ہوں کہ تو نے روانی میں اپنی بہت دور روزن سے دھندلے
ستارے بھی دیکھے ہیں لاکھوں
میں اب مانتا ہوں مجھے دائیں بائیں مجھے سامنے کچھ دکھائی نہیں دے رہا ہے فقط
سرد دیواریں ہنستی چلی جا رہی ہیں
وہاں کوئی بھی چیز ایسے قرینے سے رکھی نہیں ہے
کہ جیسے بتایا ہے تو نے تری ایک رنگین محفل سجی ہے
مسہری کے آغوش کی لرزشوں کا مجھے خواب بھی اب نہ آئے گا میں اپنے
کانوں سے کیسے سنوں گا وہ شہنائی کی گونج سیندور
کا سرخ نغمہ جسے سن کے دالان میں آنے جانے کی آہٹ
سے ہنگامہ ہو جاتا ہے ایک پل کو
مجھے تو فقط سرد دیواریں ہنستی سنائی دیے جا رہی ہیں