Poetry
Jameel Musamman Salim
جمیل مثمن سالم- ضمیرِ مغرب ہے تاجرانہ، ضمیرِ مشرق ہے راہبانہوہاں دِگرگُوں ہے لحظہ لحظہ، یہاں بدلتا نہیں زمانہAllama Iqbal (1877–1938)
- گزر گیا انتظار حد سے یہ وعدۂ ناتمام کب تکنہ مرنے دے گی مجھے ستم گر تری تمنائے خام کب تکFani Badayuni (1879–1941)
- یہ کس قیامت کی بیکسی ہے زمیں ہی اپنا نہ یار میرانہ خاطر بے قرار میری نہ دیدۂ اشک بار میراFani Badayuni (1879–1941)
- نماز کیسی کہاں کا روزہ ابھی میں شغل شراب میں ہوںخدا کی یاد آئے کس طرح سے بتوں کے قہر و عتاب میں ہوںAagha Akbarabadi (b. 1879)
- کسی طرح دن تو کٹ رہے ہیں فریب امید کھا رہا ہوںہزارہا نقش آرزو کے بنا رہا ہوں مٹا رہا ہوںWahshat Kalkatvi (1881–1956)
- ہوئے ہیں گم جس کی جستجو میں اسی کی ہم جستجو کریں گےرکھا ہے محروم جس نے ہم کو اسی کی ہم آرزو کریں گےWahshat Kalkatvi (1881–1956)
- مجاز کیسا کہاں حقیقت ابھی تجھے کچھ خبر نہیں ہےیہ سب ہے اک خواب کی سی حالت، جو دیکھتا ہے سحر نہیں ہےAsghar Gondvi (1884–1936)
- تصویر و تصورJigar Moradabadi (1890–1960)
- ہم ان کے غم میں تڑپ رہے ہیں جو غیر سے دل لگا چکے ہیںہمارے دل میں ہے یاد ان کی جو ہم کو دل سے بھلا چکے ہیںNadir Shahjahanpuri (1890–1963)
- جو بیچ میں آئنہ ہو پیارے ادھر ہمارے ادھر تمہارےتو پھر ہوں باہم دگر نظارے ادھر ہمارے ادھر تمہارےShad Lakhnavi (d. 1892)
- خدا ہی اس چپ کی داد دے گا کہ تربتیں روندے ڈالتے ہیںاجل کے مارے ہوئے کسی سے نہ بولتے ہیں نہ چالتے ہیںShad Lakhnavi (d. 1892)
- وہ سر خوشی دے کہ زندگی کو شباب سے بہرہ یاب کر دےمرے خیالوں میں رنگ بھر دے مرے لہو کو شراب کر دےHafeez Jalandhari (1900–1982)
- نہ رنگ و بو ہے نہ کیف و نغمہ نظر میں بھی دل ربا نہیں ہےمیں کیسے سمجھوں بہار آئی کہ غنچہ دل کا کھلا نہیں ہےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- اگر وہ اپنے حسین چہرے کو بھول کر بے نقاب کر دےتو ذرے کو ماہتاب اور ماہتاب کو آفتاب کر دےAkhtar Shirani (1905–1948)
- بجا کہ ہے پاس حشر ہم کو کریں گے پاس شباب پہلےحساب ہوتا رہے گا یا رب ہمیں منگا دے شراب پہلےAkhtar Shirani (1905–1948)
- وہی جو تھے سنگ میل کل تک وہ جوہڑوں میں پڑے ہوئے ہیںجو بے نشاں تھے قدم قدم پر نشان ان کے گڑے ہوئے ہیںLutfullah Khan Nazmi (1907–1985)
- کبھی کبھی یاد میں ابھرتے ہیں نقش ماضی مٹے مٹے سےوہ آزمائش دل و نظر کی وہ قربتیں سی وہ فاصلے سےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- دھواں سا اک سمت اٹھ رہا ہے شرارے اڑ اڑ کے آ رہے ہیںیہ کس کی آہیں یہ کس کے نالے تمام عالم پہ چھا رہے ہیںMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- تمہارے اعجاز حسن کی میرے دل پہ لاکھوں عنایتیں ہیںتمہاری ہی دین میرے ذوق نظر کی ساری لطافتیں ہیںAli Sardar Jafri (1913–2000)
- اگر محبت کے مدعی ہو تو یہ رویہ روا نہیں ہےجو شکوہ ہے روبرو نہیں ہے جو بات ہے برملا نہیں ہےEhsan Danish (1914–1982)
- نظر کو وقف جمال کر کے نہ ذکر کر لطف زندگی کاحصول مقصد جہاں میں مشکل یہاں ہوا کون کب کسی کاVafa Barahi (1917–1993)
- افق کے اس پار زندگی کے اداس لمحے گزار آؤںاگر مرا ساتھ دے سکو تم تو موت کو بھی پکار آؤںQateel Shifai (1919–2001)
- بنا ہوں میں آج تیرا مہماں کوئی عدو کو خبر نہ کر دےاٹھا کے وہ تیری انجمن سے کہیں مجھے در بدر نہ کر دےQateel Shifai (1919–2001)
- وصال کی سرحدوں تک آ کر جمال تیرا پلٹ گیا ہےوہ رنگ تو نے مری نگاہوں پہ جو بکھیرا پلٹ گیا ہےQateel Shifai (1919–2001)
- نقوش حسرت مٹا کے اٹھنا، خوشی کا پرچم اڑا کے اٹھناملا کے سر بیٹھنا مبارک ترانۂ فتح گا کے اٹھناKaifi Azmi (1919–2002)
- بجھا دیے ہیں خود اپنے ہاتھوں محبتوں کے دیے جلا کےمری وفا نے اجاڑ دی ہیں امید کی بستیاں بسا کےSahir Ludhianvi (1921–1980)
- خدائے برتر تری زمیں پر زمیں کی خاطر یہ جنگ کیوں ہےہر ایک فتح و ظفر کے دامن پہ خون انسان کا رنگ کیوں ہےSahir Ludhianvi (1921–1980)
- بس اک کشاکش کا سلسلہ ہے ازل سے جو آج تک رہا ہےفلک کی منکر زمیں رہی ہے زمیں کا منکر فلک رہا ہےEhsan Darbhangavi (1922–1998)
- خیال انجام آرزو تھا کہ ایک جھونکا تھا تیز لو کاجھلس گیا وہ حسین پودا جو ناز پروردہ تھا نمو کاEhsan Darbhangavi (1922–1998)
- خیال کے پھول کھل رہے ہیں بہار کے گیت گا رہا ہوںترے تصور کی سرزمیں پر نئے گلستاں کھلا رہا ہوںEhsan Darbhangavi (1922–1998)
- کبھی تصور میں آ رہی ہو کبھی تخیل پہ چھا رہی ہومرے شبستان آرزو کو نگار خانہ بنا رہی ہوEhsan Darbhangavi (1922–1998)
- ہر اک دریچہ کرن کرن ہے جہاں سے گزرے جدھر گئے ہیںہم اک دیا آرزو کا لے کر بطرز شمس و قمر گئے ہیںAda Jafri (1924–2015)
- بجز خیال غم محبت کوئی مرا ہم سفر نہیں ہےمیں اب وہاں سے گزر رہا ہوں جہاں کسی کا گزر نہیں ہےGauhar Usmani (1924–2004)
- گئے دنوں کا سراغ لے کر کدھر سے آیا کدھر گیا وہعجیب مانوس اجنبی تھا مجھے تو حیران کر گیا وہNasir Kazmi (1925–1972)
- حقیقتوں کا جلال دیں گے صداقتوں کا جمال دیں گےتجھے بھی ہم اے غم زمانہ غزل کے سانچے میں ڈھال دیں گےKaleem Aajiz (1926–2015)
- تو طے ہوا نا کہ جب بھی لکھنا رتوں کے سارے عذاب لکھنااجاڑ موسم میں تپتے صحرا کو آب لکھنا حباب لکھناTahir Tonsvi (b. 1927)
- تمہارے آنے سے کچھ نہ پوچھو ہمیں نئی زندگی ملے گیقرار دل کو جگر کو راحت نگاہ کو روشنی ملے گیLateef Nazi (b. 1930)
- تمہارے پیکر سے پھوٹنے والی روشنی میری راہ میں ہےیہ فاصلہ اس لئے گوارا کہ اک حقیقت نگاہ میں ہےM Kothiyavi Rahi (1935–2005)
- دراز قامت دراز گیسو عجیب سا اک نگار تھا وہگلوں کی باگ اس کے ہاتھ میں تھی ہواؤں پر جب سوار تھا وہM Kothiyavi Rahi (1935–2005)
- نہ آنکھ چھلکی نہ ہونٹ لرزے نہ سانس الجھی نہ دل ہی دھڑکاکہاں وہ جذبات کا تلاطم نہ تم وہ تم تھے نہ ہم وہ ہم تھےUrfi Aafaqi (b. 1936)
- ہوا بہت تیز چل رہی ہے چراغ جاں پھر بھی جل رہا ہےیہ کون ہے جو ہمارے پیچھے ہوا کے ہم راہ چل رہا ہےGhayas Mateen (b. 1939)
- کسی کا آہنگ کیف زا ہے کسی کا لہجہ گلو گرفتہبقدر عرفان زندگی ہے ہر ایک دل آرزو گرفتہSaba Naqvi (b. 1940)
- محبتوں کی عنایتوں سے ہوا ہے دل یہ خراب باباخدا پرستی کا طور دیکھو بنا ہے کیسا عذاب باباJafar Sahni (1941–2018)
- مری نظر میں تو لفظ الفت خزاں بھی ہے اور بہار بھی ہےیہ راس آئے تو پھول بھی ہے نہ راس آئے تو خار بھی ہےZafar Sambhali (b. 1944)
- ہمیں تو خوابوں کی وادیوں میں حیات کو ہے تمام کرناتمہاری یادوں میں صبح کرنا تمہاری یادوں میں شام کرناZafar Sambhali (b. 1944)
- سحر یہ ندی ہے آنسوؤں کی نہ پوچھ اس کا بہاؤ پیارےکہ اس کے طوفان موج غم میں بچے گی کیا دل کی ناؤ پیارےBadiuzzaman Sahar (b. 1944)
- کبھی کبھی میں یہ سوچتا ہوں کہ مجھ کو تیری تلاش کیوں ہےکہ جب ہیں سارے ہی تار ٹوٹے تو ساز میں ارتعاش کیوں ہےJaved Akhtar (b. 1945)
- نگل گئے سب کی سب سمندر زمیں بچی اب کہیں نہیں ہےبچاتے ہم اپنی جان جس میں وہ کشتی بھی اب کہیں نہیں ہےJaved Akhtar (b. 1945)
- گلی گلی میں اتر چکے ہیں کتاب آنکھوں کے زندہ نوحےحسین چہروں کا سرخ ماتم شراب آنکھوں کے زندہ نوحےTahir Hanfi (b. 1955)
- مری اداسی کا نقش پا ہے اداس لفظوں کا ایک جنگلیہ غم کی راتوں کو جانتا ہے اداس لفظوں کا ایک جنگلTahir Hanfi (b. 1955)