Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download →

Poetry

Jameel Musamman Salim

جمیل مثمن سالم
Poet
Meter
Clear
  1. ضمیرِ مغرب ہے تاجرانہ، ضمیرِ مشرق ہے راہبانہوہاں دِگرگُوں ہے لحظہ لحظہ، یہاں بدلتا نہیں زمانہAllama Iqbal (1877–1938)
  2. گزر گیا انتظار حد سے یہ وعدۂ ناتمام کب تکنہ مرنے دے گی مجھے ستم گر تری تمنائے خام کب تکFani Badayuni (1879–1941)
  3. یہ کس قیامت کی بیکسی ہے زمیں ہی اپنا نہ یار میرانہ خاطر بے قرار میری نہ دیدۂ اشک بار میراFani Badayuni (1879–1941)
  4. نماز کیسی کہاں کا روزہ ابھی میں شغل شراب میں ہوںخدا کی یاد آئے کس طرح سے بتوں کے قہر و عتاب میں ہوںAagha Akbarabadi (b. 1879)
  5. کسی طرح دن تو کٹ رہے ہیں فریب امید کھا رہا ہوںہزارہا نقش آرزو کے بنا رہا ہوں مٹا رہا ہوںWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  6. ہوئے ہیں گم جس کی جستجو میں اسی کی ہم جستجو کریں گےرکھا ہے محروم جس نے ہم کو اسی کی ہم آرزو کریں گےWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  7. مجاز کیسا کہاں حقیقت ابھی تجھے کچھ خبر نہیں ہےیہ سب ہے اک خواب کی سی حالت، جو دیکھتا ہے سحر نہیں ہےAsghar Gondvi (1884–1936)
  8. تصویر و تصورJigar Moradabadi (1890–1960)
  9. ہم ان کے غم میں تڑپ رہے ہیں جو غیر سے دل لگا چکے ہیںہمارے دل میں ہے یاد ان کی جو ہم کو دل سے بھلا چکے ہیںNadir Shahjahanpuri (1890–1963)
  10. جو بیچ میں آئنہ ہو پیارے ادھر ہمارے ادھر تمہارےتو پھر ہوں باہم دگر نظارے ادھر ہمارے ادھر تمہارےShad Lakhnavi (d. 1892)
  11. خدا ہی اس چپ کی داد دے گا کہ تربتیں روندے ڈالتے ہیںاجل کے مارے ہوئے کسی سے نہ بولتے ہیں نہ چالتے ہیںShad Lakhnavi (d. 1892)
  12. وہ سر خوشی دے کہ زندگی کو شباب سے بہرہ یاب کر دےمرے خیالوں میں رنگ بھر دے مرے لہو کو شراب کر دےHafeez Jalandhari (1900–1982)
  13. نہ رنگ و بو ہے نہ کیف و نغمہ نظر میں بھی دل ربا نہیں ہےمیں کیسے سمجھوں بہار آئی کہ غنچہ دل کا کھلا نہیں ہےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  14. اگر وہ اپنے حسین چہرے کو بھول کر بے نقاب کر دےتو ذرے کو ماہتاب اور ماہتاب کو آفتاب کر دےAkhtar Shirani (1905–1948)
  15. بجا کہ ہے پاس حشر ہم کو کریں گے پاس شباب پہلےحساب ہوتا رہے گا یا رب ہمیں منگا دے شراب پہلےAkhtar Shirani (1905–1948)
  16. وہی جو تھے سنگ میل کل تک وہ جوہڑوں میں پڑے ہوئے ہیںجو بے نشاں تھے قدم قدم پر نشان ان کے گڑے ہوئے ہیںLutfullah Khan Nazmi (1907–1985)
  17. کبھی کبھی یاد میں ابھرتے ہیں نقش ماضی مٹے مٹے سےوہ آزمائش دل و نظر کی وہ قربتیں سی وہ فاصلے سےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  18. دھواں سا اک سمت اٹھ رہا ہے شرارے اڑ اڑ کے آ رہے ہیںیہ کس کی آہیں یہ کس کے نالے تمام عالم پہ چھا رہے ہیںMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  19. تمہارے اعجاز حسن کی میرے دل پہ لاکھوں عنایتیں ہیںتمہاری ہی دین میرے ذوق نظر کی ساری لطافتیں ہیںAli Sardar Jafri (1913–2000)
  20. اگر محبت کے مدعی ہو تو یہ رویہ روا نہیں ہےجو شکوہ ہے روبرو نہیں ہے جو بات ہے برملا نہیں ہےEhsan Danish (1914–1982)
  21. نظر کو وقف جمال کر کے نہ ذکر کر لطف زندگی کاحصول مقصد جہاں میں مشکل یہاں ہوا کون کب کسی کاVafa Barahi (1917–1993)
  22. افق کے اس پار زندگی کے اداس لمحے گزار آؤںاگر مرا ساتھ دے سکو تم تو موت کو بھی پکار آؤںQateel Shifai (1919–2001)
  23. بنا ہوں میں آج تیرا مہماں کوئی عدو کو خبر نہ کر دےاٹھا کے وہ تیری انجمن سے کہیں مجھے در بدر نہ کر دےQateel Shifai (1919–2001)
  24. وصال کی سرحدوں تک آ کر جمال تیرا پلٹ گیا ہےوہ رنگ تو نے مری نگاہوں پہ جو بکھیرا پلٹ گیا ہےQateel Shifai (1919–2001)
  25. نقوش حسرت مٹا کے اٹھنا، خوشی کا پرچم اڑا کے اٹھناملا کے سر بیٹھنا مبارک ترانۂ فتح گا کے اٹھناKaifi Azmi (1919–2002)
  26. بجھا دیے ہیں خود اپنے ہاتھوں محبتوں کے دیے جلا کےمری وفا نے اجاڑ دی ہیں امید کی بستیاں بسا کےSahir Ludhianvi (1921–1980)
  27. خدائے برتر تری زمیں پر زمیں کی خاطر یہ جنگ کیوں ہےہر ایک فتح و ظفر کے دامن پہ خون انسان کا رنگ کیوں ہےSahir Ludhianvi (1921–1980)
  28. بس اک کشاکش کا سلسلہ ہے ازل سے جو آج تک رہا ہےفلک کی منکر زمیں رہی ہے زمیں کا منکر فلک رہا ہےEhsan Darbhangavi (1922–1998)
  29. خیال انجام آرزو تھا کہ ایک جھونکا تھا تیز لو کاجھلس گیا وہ حسین پودا جو ناز پروردہ تھا نمو کاEhsan Darbhangavi (1922–1998)
  30. خیال کے پھول کھل رہے ہیں بہار کے گیت گا رہا ہوںترے تصور کی سرزمیں پر نئے گلستاں کھلا رہا ہوںEhsan Darbhangavi (1922–1998)
  31. کبھی تصور میں آ رہی ہو کبھی تخیل پہ چھا رہی ہومرے شبستان آرزو کو نگار خانہ بنا رہی ہوEhsan Darbhangavi (1922–1998)
  32. ہر اک دریچہ کرن کرن ہے جہاں سے گزرے جدھر گئے ہیںہم اک دیا آرزو کا لے کر بطرز شمس و قمر گئے ہیںAda Jafri (1924–2015)
  33. بجز خیال غم محبت کوئی مرا ہم سفر نہیں ہےمیں اب وہاں سے گزر رہا ہوں جہاں کسی کا گزر نہیں ہےGauhar Usmani (1924–2004)
  34. گئے دنوں کا سراغ لے کر کدھر سے آیا کدھر گیا وہعجیب مانوس اجنبی تھا مجھے تو حیران کر گیا وہNasir Kazmi (1925–1972)
  35. حقیقتوں کا جلال دیں گے صداقتوں کا جمال دیں گےتجھے بھی ہم اے غم زمانہ غزل کے سانچے میں ڈھال دیں گےKaleem Aajiz (1926–2015)
  36. تو طے ہوا نا کہ جب بھی لکھنا رتوں کے سارے عذاب لکھنااجاڑ موسم میں تپتے صحرا کو آب لکھنا حباب لکھناTahir Tonsvi (b. 1927)
  37. تمہارے آنے سے کچھ نہ پوچھو ہمیں نئی زندگی ملے گیقرار دل کو جگر کو راحت نگاہ کو روشنی ملے گیLateef Nazi (b. 1930)
  38. تمہارے پیکر سے پھوٹنے والی روشنی میری راہ میں ہےیہ فاصلہ اس لئے گوارا کہ اک حقیقت نگاہ میں ہےM Kothiyavi Rahi (1935–2005)
  39. دراز قامت دراز گیسو عجیب سا اک نگار تھا وہگلوں کی باگ اس کے ہاتھ میں تھی ہواؤں پر جب سوار تھا وہM Kothiyavi Rahi (1935–2005)
  40. نہ آنکھ چھلکی نہ ہونٹ لرزے نہ سانس الجھی نہ دل ہی دھڑکاکہاں وہ جذبات کا تلاطم نہ تم وہ تم تھے نہ ہم وہ ہم تھےUrfi Aafaqi (b. 1936)
  41. ہوا بہت تیز چل رہی ہے چراغ جاں پھر بھی جل رہا ہےیہ کون ہے جو ہمارے پیچھے ہوا کے ہم راہ چل رہا ہےGhayas Mateen (b. 1939)
  42. کسی کا آہنگ کیف زا ہے کسی کا لہجہ گلو گرفتہبقدر عرفان زندگی ہے ہر ایک دل آرزو گرفتہSaba Naqvi (b. 1940)
  43. محبتوں کی عنایتوں سے ہوا ہے دل یہ خراب باباخدا پرستی کا طور دیکھو بنا ہے کیسا عذاب باباJafar Sahni (1941–2018)
  44. مری نظر میں تو لفظ الفت خزاں بھی ہے اور بہار بھی ہےیہ راس آئے تو پھول بھی ہے نہ راس آئے تو خار بھی ہےZafar Sambhali (b. 1944)
  45. ہمیں تو خوابوں کی وادیوں میں حیات کو ہے تمام کرناتمہاری یادوں میں صبح کرنا تمہاری یادوں میں شام کرناZafar Sambhali (b. 1944)
  46. سحر یہ ندی ہے آنسوؤں کی نہ پوچھ اس کا بہاؤ پیارےکہ اس کے طوفان موج غم میں بچے گی کیا دل کی ناؤ پیارےBadiuzzaman Sahar (b. 1944)
  47. کبھی کبھی میں یہ سوچتا ہوں کہ مجھ کو تیری تلاش کیوں ہےکہ جب ہیں سارے ہی تار ٹوٹے تو ساز میں ارتعاش کیوں ہےJaved Akhtar (b. 1945)
  48. نگل گئے سب کی سب سمندر زمیں بچی اب کہیں نہیں ہےبچاتے ہم اپنی جان جس میں وہ کشتی بھی اب کہیں نہیں ہےJaved Akhtar (b. 1945)
  49. گلی گلی میں اتر چکے ہیں کتاب آنکھوں کے زندہ نوحےحسین چہروں کا سرخ ماتم شراب آنکھوں کے زندہ نوحےTahir Hanfi (b. 1955)
  50. مری اداسی کا نقش پا ہے اداس لفظوں کا ایک جنگلیہ غم کی راتوں کو جانتا ہے اداس لفظوں کا ایک جنگلTahir Hanfi (b. 1955)